کشی نگر(اترپردیش) : جامعہ رحمانیہ اسلامیہ ، رحمان نگر ، سیمراہردو بلاک پڈرونہ میں یوم آزادی کی تقریب تزک واحتشام کے ساتھ منعقد ہوئی، جس میں تمام طلبہ وطالبات ملی و قومی و تقافتی پروگرام پیش کرکے مجمع سے خراج تحسین کے ساتھ ساتھ انعامات بھی وصول کرتے رہے۔
پرچم کشائی جامعہ کے سربراہ مولانا احمد کمال عبدالرحمان ندوی نے کی جبکہ نعرئہ آزادی مشن اسکول کے پرنسپل ماسٹر صدر عالم نے انجام دیا، اس کے بعد باضابطہ پروگرام دارالقرآن کے عظیم الشان ہال میں منعقد ہوا جس کا آغاز حافظ شوکت علی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کا اردو ترجمہ حافظ عبداللہ نے پیش کیا، حمد باری تعالیٰ حافظ عامر نے اور دربار رسالت میں نذرانہ عقیدت رافعہ ریاض نے پیش کیا اس کے بعد تقاریر، قومی ترانے ، نظموں و نعتوں کا سلسلہ تقریباََ ۴ گھنٹہ مسلسل جاری رہا، اس پروگرام کے رنگہائے رنگ و بو نے سامعین کو متحیر کردیا اور داد وتحسین دینے پر مجبور۔
اس جلسہ کے صدر مولانا احمد کمال عبدالرحمان ندوی نے اپنے خطبہ استقبالیہ میں مجمع کاشکریہ ادا کرتے ہوئے مختصر تاریخ آزادی پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ یہ تقریب اسلئے ہر سال منعقد کی جاتی ہے تاکہ ہم کواپنے اسلاف کی قربانیوں کا علم ہو سکے اور ملک کی حفاظت کیلئے ان کے جذبہ ایثار و قربانی کا اندازہ ہو سکے تاکہ اس تقش قدم پر چل کر ہم اس ملک کی حفاظت کیلئے ہمیشہ تیار رہیں۔
گائوں کے پردھان محترم موہن پرساد کھروار نے مجمع کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آ ج ہمارے ملک کی آزادی کا دن ہے جو ہمیں اپنے وطن عزیز کی حفاظت کا پیغام دیتا ہے، ہمارے گائوں کیلئے بڑی خوش قسمتی کی بات ہے مولانا احمدکمال عبدالرحمان ندوی نے اس علاقہ میں یہ مدرسہ قائم کرکے یہاں ہم باشندوں پر ایک بڑا احسان کیاہے اس کی برکت ہے کہ ہمارے علاقے کے بچے تہذیب و تمدن اور ادب و احترام سے لوگوں کے ساتھ پیش آتے ہیں اور اپنی الگ ہی شناخت رکھتے ہیں۔
کشی نگر کے مشہور شوشل ورکر قوم و ملت کا درد رکھنے والے محترم شاہد لاری نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ مولانا موصوف نے اس علاقہ پر بہت بڑا احسان کیا ہے کہ انہوں نے مدرسے اور اسکول دونوں قائم کرکے علم و آگہی کی کشتی کو ساحل تک پہنچانے میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے جس کے لئے ہم بیحد شکر گزار ہیں، مولانا ہم سب کے مقتدیٰ و رہبر ہیں، آج کل علیل ہیں آپ حضرات ان کی شفایابی کیلئے دعا کریں۔
اس کی نظامت حافظ مظفرالحسن نے انجام دیا، جلسہ کا اختتام مولانا کی دعاء سے ہوا جس میں خاص طور پر حاجی ڈاکٹر لیاقت علی، حافظ ڈاکٹر صادق علی، مولانا عبدالرزاق ، ماسٹر ابو الحسن ، حافظ یونس، گل محمد ، ساحل احمد ، مسعود احمد ، مصطفی ، علی حسن، ماسٹر اسامہ، قاری جبریل ، ڈاکٹر شفیق ، ڈاکٹر معروف خان اور حدیث احمد انصاری و غیرہ شریک رہے۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے