ابو احمد مہراج گنج
10فروری 2017کو بھارت کی فلم انڈسٹری سے ایک فلم ریلیز ہوتی ہے جس کا نام ہے "جالی ایل ایل بی 2” یہ فلم کمرۂ عدالت میں ہونے والے طریق کام پر طنز و مزاح کے ذریعہ روشنی ڈالتی ہے ۔نیز بھارتیہ عدالتی کارروائی کے طریق سے عام انسانوں پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں اس کی بھی بقدر ضرورت نشاندہی کرتی ہے ۔اس فلم کو لکھا اور پردہ سیمیں پر اتارا ہے سبھاش کپور نے ۔اور اس میں اہم کردار ادا کیا ہے بھارتیہ فلم انڈسٹری کے سب سے بڑے راشٹروادی ایکٹر اکشے کمار نے۔
اس مختصر سی تمہید کے بعد ہم بھارتیہ مسلمانوں کے مقصد کی بات یہ ہے کہ اس فلم میں تین مسلم کیریکٹر ہیں جوفلم کی شروعات سے لیکر اختتام تک آپ کے ذہن ودماغ پر حاوی رہیں گے ۔ایک ہیں لکھنؤ بار ایسوسی ایشن کے چیئرمین مسٹر رضوی صاحب ۔
دوسرے اقبال صدیقی ۔
تیسرے اقبال قادری۔
میری گفتگو کا محور مسٹر رضوی سینئر ایڈووکیٹ لکھنؤ سول کورٹ اور اقبال قادری ہیں ۔
ہم بھارتیہ مسلمانوں کا المیہ یہ ہے کہ جب کوئی مسلمان بڑے پوسٹ یا کچھ اہم مقام پر فائز ہوجاتا ہے تو اس کو اپنے کمیونٹی کے لوگ بھیڑ بکریوں سے زیادہ کچھ نظر نہیں آتے ، بے چارے جاہل ،پس ماندہ ،ناخواندہ مسلمان صرف نام اور چہرے دیکھ کر سمجھتے ہیں کہ یہ ہماری کمیونٹی کا ہے ہمارا کچھ تو خیال کرے گا ہمارے لیے کچھ تو آواز بلند کرے گا کچھ تو میرے درد کو محسوس کرے گا ۔یہی سب سوچ کرحنا قاسم صدیقی( اقبال صدیقی جو ایک فرض انکاؤنٹر میں ہلاک کردیا جاتا ہے کی بیوی )مسٹر رضوی سینئر ایڈوکیٹ سے ملتی ہے منھ مانگی فیس جمع کراتی ہے لیکن رضوی صاحب اس کے ساتھ ٹال مٹول اور ٹرخا ے کا وہی رویہ روا رکھتے ہیں جو حقیقی زندگی میں اونچے عہدے پر فائز مسلمان ایک دوسرے کم درجہ مسلمان کے ساتھ روا رکھتا ہے ۔
جب یہ درد برداشت سے باہر ہوتا ہے تو وہ رضوی صاحب کے جونیر بلکہ کلرک جگدیشور عرف جالی مشرا کے رابطے میں آتی ہے اور اس کا مقدمہ کورٹ میں دائر ہوتا ہے ۔اور اسے انصاف ملتا ہے ۔
جس کیس کو سینیئر ایڈوکیٹ لائق توجہ نہیں سمجھتا یا جس سے پہلو تہی کرتے ہوئے دامن بچاتا ہے اسی کیس کو لڑکر ایک کلرک نما وکیل عزت وعظمت حاصل کرتا ہے ۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ستم تو یہ کہ ہماری صفوں میں شامل ہیں۔
چراغ بجھتے ہی خیمہ بدلنے والے لوگ
دوسرا کردار اقبال قادری کا ہے جس کے ذریعہ یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ مسلمان دہشت گردانہ کارروائیوں میں مصروف وملوث ہے اور مختلف شکلوں میں یہ بھارت میں موجود ہے ۔جب کہ یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ کانگریس کے دور حکومت 2004سے 2014تک بیشتر دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ایک خاص ذہنیت کے لوگ شامل رہے ہیں ۔اور ہماری تفتیشی اور تحقیقاتی ادارے یکسر ان کو ملزم ماننے سے انکار کرتے ہوئے مسلم نوجوانوں کو بلا ثبوت وشواہد پس دیوار زنداں کرتے رہے ہیں ۔
جس کی سب سے بڑی اور اہم وجہ ہے ہمارے قائدین اور رہنماؤں کا ڈھل مل رویہ اور اپنے منصب اور کرسی کوآنے والے آنچ سے محفوظ رکھنے کی تگ و دَو ۔
مجھ کو تھپک تھپک کے سلاتا رہا چراغ
پہلو میں میرے رات بھر بیٹھا رہا چراغ
کہتا رہا کہ رات یہ کتنی حسین ہے
تیرہ شبی کا گریہ بھی کرتا رہا چراغ
کہنے کو تو یہ فلمی کہانی ہے مگر بے بسی اور بے حسی کی روئداد اور تھوپے گئے آتنک واد کی مکمل تصویر اس میں اس طرح پیش کی گئی ہے کہ ایک بھارتیہ مسلمان کا درد وکرب اگر سمجھنا چاہتے ہیں تو یہ فلم دیکھ کر اپنے فہم و فکر میں کچھ اضافہ کرسکتے ہیں ۔
