اہل مدارس کی خدمت میں چند معروضات
عبدالغفار صدیقی
علم کی اہمیت و افادیت اور اسلام میں اس کے حصول کی ترغیب و تاکید کے بارے میں امت میں کوئی اشکال نہیں پایا جاتا ۔ہر شخص علم اور تعلیم کی اہمیت سے واقف ہے ۔البتہ کیا پڑھاجائے اور کیا نہ پڑھاجائے یہ سوال آج بھی مختلف فیہ ہے ۔جہاں تک عصری علوم کی تعلیم کا سوال ہے اس بارے میں دو رائے ہیں ۔ایک رائے ہے کہ مسلمانوں کو سب سے پہلے دین کی بنیادی تعلیم حاصل کرنا چاہئے ،اس کے بعد اسکولوں اور کالجوں کا رخ کرنا کرنا چاہئے ۔ایک رائے یہ بھی ہے کہ عصری تعلیم صرف اس قدر حاصل کرنا چاہئے کہ زندگی کی ضرورت پوری ہوسکے ،اور دین کا وسیع علم حاصل کرنا چاہئے ۔یہ اختلاف رائے ۔یہ ہمیشہ رہے گا ۔اِس وقت خوش آئند پہلو یہ ہے کہ مسلمان بحیثیت قوم تعلیم کی طرف راغب ہیں ۔امت کے کچھ خیر خواہ اس جانب پیش رفت کررہے ہیں ۔جس کے نتیجہ میںمقابلہ جاتی امتحانات میں قابل فخر تو نہیں البتہ قابل ذکر کامیابی ملی ہے ۔
ہمارے مدارس کا نظام تعلیم قابل توجہ ہے ۔مدارس کے نظام تعلیم پر بھی اچھی خاصی بحث ملک میں ہوتی رہی ہے ۔اس کے نصاب کو اپ ڈیٹ کرنے کے مشورے دیے گئے ہیں ،سمینار اور کانفرنسیں ہوئی ہیں ۔لیکن اس طرف کوئی خاص پیش رفت ہوتی نظر نہیں آئی ۔رواں سال شاہین گروپ کی طرف سے مدارس کے فارغین اور حفاظ کے لیے ملکی سطح پر اسکیم لانچ کی گئی تھی ۔اس کو جس طرح اہل مدارس کی طرف سے پذیرائی ملنا چاہئے تھی نہیں ملی ۔بلکہ بعض مقامات پرتو مخالفت کی گئی ۔جس سے یہ اندازہ ہوا کہ ابھی بھی ہمارے علماء و فارغین مدارس عصری تعلیم کو مناسب نہیں سمجھتے ۔انھیں یہ فکر ہے کہ اگر حفاظ و علماء ،ڈاکٹر اورانجینئر بن جائیں گے تو مسجدوں میں امام کہاں سے آئیں گے ؟ میرا سول ہے کہ جو حافظ اور عالم ڈاکٹر یا انجینئر بن جائے گا تو کیا وہ نماز پڑھانے کے قابل نہیں رہے گا ؟بلکہ وہ تو بغیر کسی تنخواہ کے نماز پڑھاسکتا ہے ۔اس طرح مساجد کو اعلیٰ تعلیم یافتہ اور اعزازی امام میسر آجائیں گے ۔
پہلی گزارش تو یہی ہے کہ اہل مدارس علم کے تعلق سے اپنا ذہن صاف کریں ۔عصری علوم کی اہمیت کو بھی سمجھیں ۔اس کی مخالفت سے باز آئیں ۔حالانکہ بعض مدارس نے اس جانب پہل کی ہے ،لیکن ان کے یہاں بھی عصری مضامین کی حیثیت ثانوی ہے ۔علماء دین اسکولوں اور کالجوں میں پڑھنے والوں کو کمتر اور حقیر نہ جانیں ۔بلکہ اس کا اہتمام کریں کہ جو طلبہ عصری دان شگاہوں میں زیر تعلیم ہیں ان کو دین کی بنیادی تعلیم دی جائے ۔اس کے لیے عصر و مغرب بعد مساجد اور مدارس میں ان بچوں کی خصوصی کلاس لگائی جائے ۔ایک جامع اور مختصر نصاب مرتب کیا جائے ۔جس کو پڑھ کر ایک مسلمان طالب علم اسلامی عقیدے ،عبادات ،اخلاق ،اور زندگی کے آداب سے واقف ہوسکے ،اسی کے ساتھ اسے قرآن مجید کی تعلیم لازمی دی جائے۔یعنی مدارس کے ذمہ داران کوعصری تعلیم کی مخالفت کے بجائے اس کا نظم کرنا چاہئے کہ اسکول و کالج میں پڑھنے والے طلبہ دینی تعلیم سے بہرہ ور ہوسکیں۔
دوسری گزارش یہ ہے کہ نصاب تعلیم کو اپ ڈیٹ کریں ۔کیا یہ امر واقعہ نہیں ہے کہ ہمارے مدارس میں سیکڑوں سال قدیم کتابیں پڑھائی جاتی ہیں ۔فقہ کے نام پر بعض وہ مسائل پڑھائے جارہے ہیں جن کا اب کوئی حاصل نہیں ہے ۔جب کہ نئے نئے مسائل سامنے ہیں جن پر رہنمائی کی ضرورت ہے ۔ان کتابوں کو از سر نو ترتیب دینے کی ضرورت ہے ۔کیا ہمارے درمیان اہل علم و دانش کا اس قدر فقدان ہے کہ ان کتابوں پر نظر ثانی نہیں کرسکتی ۔فقہ و حدیث کی قدیم کتابوں کو جن پر فارسی کا حاشیہ ہے انھیں جدید اسلوب میں ترتیب نہیں دینے میں کیا قباحت ہے ؟دنیا میں جو بھی نصابی کتابیں ہیں وہ تقریباً ہر چار پانچ سال میں اپ ڈیٹ کی جاتی رہتی ہیں ۔زبانوں میں نئے الفاظ شامل ہوتے ہیں ۔نئی تراکیب استعمال ہوتی ہے ،نئے ایشوز پیدا ہوتے ہیں ،سائنس کے ذریعہ جدید تحقیقات سامنے آتی ہیں،نئی بیماریاںپیدا ہوتی ہیں ۔ان سب کے پیش نظر نصابی کتابوں کو بھی از سر نو ترتیب دیا جاتا ہے ۔مثال کے طور پر ایک زمانہ تھا کہ ہمارے سماج میں کنوئوں کا استعمال بہت تھا ۔اس لیے اس کے مسائل ہماری فقہ کی کتابوں میں موجود ہیں ۔آج کنویں ختم ہوگئے ہیں ۔قدیم کتابوں میں ٹیلی فون اور موبائل کا ذکر تک نہیں ہے ،آج وہ ہر شخص کی ضرورت ہے ۔اس سے متعلق مسائل پر ہماری درسی کتابوں میں بات ہونا چاہئے ۔
نصاب تعلیم کے ساتھ ساتھ طریقہ تعلیم کا بھی اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے ۔یہ ڈیجیٹل دور ہے ۔ہر چیز ایک کلک پر اسکرین پر موجود ہے ۔ان جدید ذرئع کا استعمال کیا جانا چاہئے ۔اہل کفر تو ان جدید وسائل کا استعمال کرکے حق کے خلاف محاذ آرائی کریں اور اہل ایمان ان کے نام اور استعمال سے بھی ناواقف ہوں،تب کس طرح مقابلہ کیا جاسکتا ہے؟ کیا یہ کسی ایسی امت کا حال ہوسکتا ہے جسے دنیا کی امامت کے خیر امت کے لقب سے برپا کیا گیا ہو۔جب مسجد کی امامت کے لیے ضروری ہے کہ امام اپنے مقتدیوں سے علم و عمل میں برتر ہونا چاہئے تو دنیا کی امامت کے لیے یہ کیوں ضروری نہ گا کہ جس قوم کو دنیا کی پیشوائی کرنا ہے ، وہ اپنی ہم عصر قوموں سے علم کے میدان میں آگے ہو ۔میں سمجھتا ہوں کہ اہل مدراس کو جدید ذرائع مثلا ً کمپیوٹر ،پروجیکٹر،انٹر نیٹ وغیرہ کا استعمال کرنا چاہئے ۔
ایک قابل غور ایشو مدارس میں نظریہ تعلیم کا بھی ہے ۔یعنی مدارس کے طلبہ میں کس قسم کی سوچ پیدا کی جارہی ہے ۔میری معلومات کی حد تک سبھی مدارس مسلکوں کی بنیاد پر قائم ہیں ۔دیوبندی ،بریلوی اور اہل حدیث ،یہ تین مکتبہائے فکر یا مسالک ہیں جن کے فروغ و اشاعت کے لیے مدارس قائم کیے گئے ہیں ۔ان مدارس میں جو نظام تعلیم و نصاب تعلیم رائج ہے وہ اپنے مسلک کی فضیلت و برتری اور دوسرے مسلک کی تحقیر و تکفیر پر مبنی ہے ۔اہل تشیع کو چھوڑ دیجیے ۔ان کے بارے میں تو مذکورہ بالا تینوں مسلک ہم زبان و ہم خیال ہیں ۔لیکن یہ آپس میں بھی دست بگریباں ہیں ۔اگر میں یہ کہنے میں احتیاط سے کام لوں کہ یہ تینوں ایک دوسرے کی تکفیر نہیں کرتے ،تب بھی میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ یہ تینوں ایک دوسرے کو باطل ضرور گردانتے ہیں ۔آپ اندازہ لگائیے کہ گزشتہ سو، ڈیڑھ سو سال سے ہمارے مدارس قائم ہیں ۔دارالعلوم دیوبند 1866میں قائم ہوا۔جامعہ اشرفیہ مبارک پور 1922میں قائم ہوا ۔اہل حدیث حضرات کے مطابق تو ان کے علماء نے ہر دور میں تعلیم و تدریس کو قائم رکھا ۔اس عرصہ میں لاکھوں طلبہ نے ان مدارس سے تعلیم حاصل کی ۔وہ مسلم امت کی رہنمائی کے لیے امام و خطیب بنے ۔مسلکوں کی بنیاد پر مساجد کی تعمیر ہوئی ۔جہاں سے وہی مسلکی برتری کا پیغام دیا گیا جو مدارس میں پڑھایا گیا تھا ۔کتنی نسلیں اسی تعلیم کو سن کر گزرگئیں ۔اس صور ت حال میں آپ کس طرح مسلم امت میں اتحاد کی توقع کرسکتے ہیں ۔اس درمیان مناظرے بازیاں بھی ہوئیں ۔میں سمجھتا ہوں اس نظریہ تعلیم کے رہتے ہوئے مسلمانوں میں باہمی اتحاد کی کوئی تحریک کارگر نہیں ہوسکتی ۔
ضرورت ہے کہ ہمارے مدارس مسالک کی برتری کے بجائے ائمہ فقہ و محدثین کی آراء کو پیش کرنے پر ہی اکتفاء فرمائیں اور یہ باور کرائیں کہ تمام ائمہ و محدثین اپنی خدمات کے سلسلہ میں مخلص تھے ۔طلبہ کو ہر کسی کی رائے کا احترام کرنا سکھائیں ۔ہر مدرسہ میں ہر مسلک کے طلبہ تعلیم حاصل کرسکیں ایسا ماحول بنائیں ۔کم سے کم ہر مدرسہ کے فارغ ہونے والے طلبہ کو دیگر مسالک کے جید علماء سے روبرو کرائیں تاکہ وہ اپنے اشکالات رفع کرسکیں ۔ایک طرف تو ہمارا نعرہ ہے کہ سارے ائمہ برحق ہیں ،دوسری طرف ہم ان کو باطل قراردیتے ہیں ۔ایک طرف ہم قرآن و حدیث کو مآخذ تسلیم کرتے ہیں اور دوسری طرف ہم ان مآخذ کے بجائے ائمہ فقہ کی آراء کو ترجیح دیتے ہیں تو یہ متضادباتیں کنفیوژن پیدا کرتی ہیں اور باہمی دوریاں پیدا کرتی ہیں ۔فارغین مدارس کو دیگر مسالک کے مدارس کا دورہ کرانا چاہئے ۔ان کے ساتھ اخوت و بھائی چارگی کا تعلق پیدا کرانا چاہئے ۔
ایک قابل توجہ پہلو یہ ہے کہ مدارس میں فیس کا نظام نہیں ہے ۔بیشتر مدارس مفت تعلیم دیتے ہیں ۔اس پہلو سے تو یہ لائق تحسین ہے کہ مدراس قوم کی بڑی خدمت انجام دے رہے ہیں ۔لیکن بغیر فیس کے حاصل کی گئی تعلیم کی قدر کم ہوتی ہے ۔جس چیز پر ہم اپنا مال خرچ کرتے ہیں اس کی قدر بھی زیادہ کرتے ہیں ،جو چیز مفت مل جاتی ہے اس کی ناقدری ہوتی ہے ۔دوسرا نقصان یہ ہے کہ مدارس کو اچھی خاصی محنت زکاۃ فراہم کرنے میں صرف کرنی پڑتی ہے ۔تیسری بات یہ ہے کہ ساری زکاۃ مدارس میں چلے جانے سے دیگر مستحقین کی مدد نہیں ہوپاتی ۔جس کی وجہ سے مسلم سوسائٹی غربت سے نہیں نکل پاتی ۔اس لیے میری رائے ہے کہ فیس کا نظام نافذ کیا جائے ۔بعض مدارس میں مستطیع طلبہ سے فیس لی جاتی ہے ،لیکن ان کی تعداد بہت کم ہے ۔ہر بچہ کچھ نہ کچھ فیس ضرور دے ۔آج کے زمانے میں سو دوسو روپے ماہانہ فیس دینا کوئی بڑی بات نہیں ہے ۔جب ہم اپنے بچوں کے مکان ،شادی بیاہ ،علاج معالجہ پر پیسہ خرچ کرتے ہیں تو ہمیں اپنے بچوں کی تعلیم پر بھی خرچ کرنا چاہئے ۔فیس نہ لینے کی وجہ سے مدارس مالی بحران کا شکار رہتے ہیں اور جدید وسائل فراہم نہیں کرپاتے ۔
ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ بیشترمدارس میں میں مقامی طلبہ کی تعداد کم اور بیرونی طلبہ کی تعداد زیادہ ہوتی ہے ۔یعنی چراغ تلے اندھیرا ہوتا ہے ۔اس پر بھی قابو پانا چاہئے ۔ایک مسئلہ کمیٹیوں میں شامل افراد کا ہے ۔بیشتر مقامات پر بھائی بھتیجہ واد حاوی ہے ۔کمیٹی میں باصلاحیت افراد کافقدان مہتمم پر لگام کسنے میں ناکام ہے ۔بعض چالاک قسم کے مولوی حضرات شہر کے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کو درکنار کر کچھ عقیدت مندوں کو کمیٹی میں رکھ لیتے ہیں اور ان سے حسب ضرورت دستخط کرالیتے ہیں ۔ایک ضروری اور قابل توجہ پہلو ہمارے مدارس کا ڈاکیو منٹیشن بھی ہے ۔زمینوں کے کاغذات ،کمیٹیوں کا رجسٹریشن ،مالیات سے متعلق رجسٹر وغیرہ کے تعلق سے ہماری لاپرواہی مستقبل میں مسائل پیدا کرسکتی ہے ۔سرکاری مالی مراعات سے بچے رہنے میں ہی عافیت ہے ۔
ہمارے پاس مدارس کی شکل میں بہت قیمتی اثاثہ موجود ہے ۔اگر اس کا صحیح استعمال ہوجائے تو ہم ترقی کے آسمان پر پہنچ سکتے ہیں ۔ہم خدا کی کتاب کے امین ہیں ۔ہم خیر امت ہیں ۔ہماری ذمہ داری دنیا کی پیشوائی کرنا ہے ۔ہمیں دنیا کی امامت کے منصب پر فائز کیا گیا ہے ۔ لیکن یہ تبھی ممکن ہے جب ہم خود کو اس منصب کے لئے اہل ثابت کریں ۔یہ اہلیت اسی وقت ثابت ہوسکتی ہے جب ہم علم کے میدان میں ہم عصر قوموں سے آگے نکل جائیں ۔
