تحریر : ڈاکٹر محمد نعمت اللہ ادریس ندوی
اس موضوع کا تعلق جن مردان حق ، بندگان خدا ،داعیان دین اور سپہ سالارانِ ملّت سے ہے ، اُنکی قربانیوں اور جانفشانیوں ہی کی بدولت اللہ نے ہمیں ایمان کی دولت سے نوازا ، اپنی آخری شریعت کا پیروکار بنایا اور آج ہم مسلمان کہلاتے ہیں۔
جس طرح ہمارے نبی ﷺ آخری نبی تھے لیکن اللہ انہیں سارے انبیاء پر فضیلت دی اور انہیں سید المرسلین بنایا، اسی طرح آپؐ کے اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بھی نبیوں اور رسولوں کے بعد تمام انسانوں پر فوقیت دی اور اپنے نبی خاتم علیہ الصلاۃ والسلام کی صحبت کا شرف عطا کیا۔ ابن مسعود ؓ سے روایت ہے جو کہ مسند احمد میں صحیح سند کے ساتھ مذکور ہے کہ اللہ تعالی نے بندوں کے دلوں کی طرف دیکھا تو سب سے بہتر محمد ﷺ کے دل کو پایا لہذا اللہ نے آپ کو اپنا لیا اور رہتی دنیا تک کے لئے رسول مقرر فرمادیا ، پھر اللہ نے بندوں کے دلوں کی طرف نظر ڈالی تو آپؐ کے بعد سب سے اچھے دلوں والے آپ کے اصحاب تھے، تو اللہ نے انہیں اپنے نبی ﷺ کے رفقاء اور مشیران کاربننے کی سعادت نصیب فرمادی (الفتح الربّانی لترتیب مسند الإمام احمد بن حنبل از ساعاتی ج۲۲ ص۱۷۰)۔
پھر انہوں نے اپنے نبی کی رفاقت کا حق ایسا ادا کیا، اور ان سے محبت و عقیدت اور دین کے لئے سرفروشانہ و مخلصانہ جدوجہد کاوہ اعلی نمونہ پیش کیا کہ اللہ نے قرآن کریم کی متعدد آیات کو انکی مدح و شتا ئش اور اُن سے اپنی رضا کے اعلان کے لئے خاص کردیا ۔ چنانچہ سورئہ توبہ میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :
{السابقون الأوَّلُون من المُہاجرین و الأنصار والذین اتَّبعوہُم بإحسانٍ،رضی اللَّہُ عنہُم ورَضُوا عَنہ،وأعَدَّ لہم جَنَّاتٍ تجری تحتہا الأنہارُ خالدینَ فیہا أبدا،وذلک الفوزُالعظیم} (التوبۃ ۱۰۰)
(اور جو مہاجرین اور انصار سابق و مقدم ہیں،اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ اُن کے پیرو ہیں،اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ سب اس سے راضی ہوئے۔اور اللہ نے ان کے لئے ایسے باغ مہیّا کر رکھے ہیں،جن کے نیچے نہریں جاری ہونگی ،جن میں ہمیشہ رہیں گے۔ اور یہ بڑی کامیابی ہے)۔
صحابہ کرام کے فضائل میں بڑی کثرت سے آیات و احادیث وارد ہوئی ہیں ، لیکن ان کا جائزہ لینے سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ پہلے صحابی کی تعریف سمجھ لی جائے کہ صحابی کسے کہتے ہیں؟
صحابی وہ ہیں جن کو ایمان کی حالت میں نبی کریم ﷺ کی صحبت نصیب ہوئی ہو یا اُن کا دیدار کیا ہو،اور ایمان ہی کی حالت میں وفات ہوئی ہو،چاہے اس صحبت یا دیدار کی مدّت کتنی ہی مختصر کیوں نہ ہو۔جس کسی نے آپ ﷺ کو ایک بار دیکھ لیا یا کسی وجہ سے مثلاً نابیناہونے کی وجہ سے دیکھ تو نہ سکے لیکن ہم نشینی کا شرف مل گیا،اِس پر صحابی کی تعریف صادق آتی ہے۔ کسی غزوہ میں شریک ہونا یا روایت کا نقل کرنا لازمی شرط نہیں۔ یہی راجح اور معتمد قول ہے جوکہ ابن حجر ؒنے ’’الإصابۃ فی تمییز الصحابۃ‘‘ میںذکر کیاہے۔
جہاں تک صحابہ کرام کے فضائل و مناقب کا تعلق ہے تو اجتماعی طور پر بھی قرآن کریم اور احادیث نبویہ میں واردہوئے ہیں اور انفرادی طور پر بھی ایک بڑی تعداد کے امتیازات و اوصاف بیان ہوئے ہیں،لیکن ظاہر ہے کہ میری گفتگو ان کے عمومی و اجتماعی فضائل و خصوصیات سے متعلق ہے۔سورئہ توبہ کی وہ آیت آپ نے ملاحظہ کی جس میں اللہ نے انصار و مہاجرین سے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہوئے اُنہیں جنّت کی بشارت دی ہے اور سورۃ الفتح میں اللہ کا ارشاد ہے :
{لقد رضی اللَّہُ عنِ المؤمِنینَ إذ یُبایِعُونَکَ تحتَ الشَجَرَۃِ فَعَلِمَ ما فی قُلُو بہم، فأنزلَ السکینۃَ علیہم و أثابہم فتحاً قریباً وَّمَغَانم کثیرۃً یَّأخذونہا وکان اللَّہُ عزیزاً حکیما} (الفتح ۱۸)
(یقینًا اللہ تعالیٰ مؤمنون سے خوش ہوگیا جب کہ وہ درخت تلے تجھ سے بیعت کر رہے تھے۔ان کے دلوں میں جو تھا اسے اس نے معلوم کر لیا،اور ان پر اطمئنان نازل فرمایا ،اور انہیں قریب کی فتح عنایت کی،اور بہت سی غنیمتیں جنہیں وہ حاصل کریں گے اور اللہ غالب حکمت والا ہے)۔
اس آیت میں جس بیعت کا ذکر ہے اس سے مراد بیعت رضوان ہے جو کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت عثمان ؓ کی خبر شہادت سن کر اُن کا انتقام لینے کے لئے حُدیبیہ میں موجود چودہ یا پندرہ سو مسلمانوں سے لی تھی۔ان اہل بیعت کے لئے نبی کریم ﷺ کی پیش گوئی صحیح مسلم میں حضرت جابر ؓ سے مروی ہے :’’جنہوں نے درخت تلے بیعت کی ان میں سے کوئی جہّنم میں نہیں جائے گا‘‘(صحیح مسلم حدیث نمبر۲۴۹۶)۔یہ اس بنیاد پر کہ اللہ ان سے راضی اور خوش ہوگیا جیسا کہ سورۃ التوبہ اور سورۃ الفتح کی آیات سے معلوم ہوا۔ابن کثیرؒ نے فرمایا کہ اللہ نے جب مہاجرین وانصار کی پہلی جماعت اور اُن کے پُر خلوص متّبعین کے بارے میں اپنی رضا مندی ظاہر فرمادی تو اب جس نے ان سے بغض رکھا یا ان کو بُرا بھلا کہا اسکے لئے تباہی و بربادی ہے(تفسیر ابن کثیر،سورۃ التوبہ آیت نمبر ۱۰۰ کی تفسیر)۔
سورۃ الحشر میں اللہ نے ان کے اخلاص للّہیت ،دین کی حمایت و نصرت،راست بازی واستقامت اور ایثار وقربانی کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا ہے:
{للفُقرائِ المُہاجرین الَّذین أُخرِجوا من دیارہم و أموالِہم، یبتغون فضلا مِّنَ اللَّہ ورضوانا وَّینصرون اللَّہ ورسولہ او لئک ہم الصادقون، والذین تبؤّئُ الدارَ والإیمانَ من قبلہم یُحبّون من ہاجرإلیہم ،ولا یجدون فی صدورہم حاجۃً ممّاأوتوا ویؤثِرون علی أنفسہم ولوکان بہم خصا صۃ،ومن یوقَ شُحَّ نفسہِ فأولئک ہم المفلحون }(الحشر ۸)
(فیء کا مال ان مہاجر مسکینوں کے لئے ہے جو رہتے گھروں سے اور اپنے مالوں سے نکال دیئے گئے ہیں،وہ اللہ کے فضل اور اس کی رضامندی کے طلب گار ہیں،اور اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں،یہی راست باز لوگ ہیں اور ( ان کے لئے) جنہوں نے اس گھر (یعنی مدینہ)اور ایمان میں اِن سے پہلے جگہ بنالی ہے(یعنی وہ انصار جو مدینہ میں ہجرت سے پہلے موجود تھے) اور اپنی طرف ہجرت کرکے آنے والوں سے محبت کرتے ہیں اور مہاجرین کو جو کچھ دیا جائے ،اس سے وہ اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہیں رکھتے بلکہ خود اپنے اُوپر اُنہیں ترجیح دیتے ہیں،گو خود کو کتنی ہی حاجت ہو (بات یہ ہے کہ )جو بھی اپنے نفس کے بخل سے بچا لیا گیا،وہی کامیاب ہے)۔
سورۃ الفتح میں صحابہ کرام کی عظمت وفضیلت ،خوبی و کمال ،عبادت و ریاضت کی کثرت ،اُخروی مغفرت اور اجر عظیم کو یوں بیان کیا گیا ہے،ارشاد باری ہے:
{محمدُ رَّسولُ اللَّہِ والذین معہ أشدَّآئُ علی الکُفّارِ رُحَمَآئُ بینہم،تراہم رُکَّعاً سُجَّداً یبتغون فضلاً مّن اللَّہِ ورِضوَٰناً،سیماہم فی وُجُوہِہِم مّن أَثَرِ السُّجُود،ذٰلِکَ مَثَلُہُم فِی التَّورَاۃِ،وَمَثَلُہُم فی الإِنجِیلِ کَزَرعٍ أَخرَجَ شَطئَہُ فَئَازَرَہُ فاستَغلَظَ فَاستویٰ علیٰ سُوقِہِ یعجبُ الزُّرَّاعَ لِیغیظَ بہم الکُفَّارَ،وَعَدَ اللَّہُ الذَّینَ ء امَنُوا وَعَمِلوا الصَّٰلِحَٰتِ مِنہم مّغفِرَۃً وَأَجراً عَظِیماَ}(الفتح ۳۹)
(محمد ﷺاللہ کے رسو ل ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں ،کافروں کے لئے سخت ہیں،آپس میں رحم دل ہیں وہ رکوع و سجدے میں ،اور اللہ کے فضل و رضامندی کی جُستجو میں نظر آتے ہیں ،ان کا نشان اِن کے چہروںپر سجدوں کے اثر سے ہے۔ان کی یہی مثال توریت میں ہے ،اور ان کی مثال انجیل میں ہے،مثل اس پودے کے جس نے دانہ پھاڑ کر اپنا انکھوا نکالا ،پھر اسے مضبوط کیا اور وہ موٹا ہوگیا ،پھر اپنے تنے پر سیدھا کھڑا ہوگیا ،اور کسانوں کو خوش کرنے لگا تاکہ ان کی وجہ سے کافروں کا جی جلائے۔ان ایمان والوں اور نیک اعمال والوں سے اللہ نے بخشش کا اور بہت بڑے ثواب کا وعدہ کر رکھا ہے)۔
اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے بعض علماء نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بغض و عناد رکھنے والوں کو کافر قرار دیا ہے جیسا کہ امام مالک ؒکی رائے ہے(التعلیق الصبیح از کاندھلوی ج۷ ص۲۸۰)۔اس لئے کہ آیت کریمہ ہمیں صاف صاف بتارہی ہے کہ صحابہ عظام کے تذکرے اورمدح سرائی سے کافروں کا دل جلن اور کڑھن کا شکار ہوتا ہے۔
یہ وہ بعض قرآنی آیات ہیںجن سے ہمیں بخوبی اندازہ ہوسکتا ہے کہ اللہ کہ یہ برگزیدہ بندے جن کا انتخاب شرف صحبت کے لئے ہوا تھا،قربت ومحبوبیت کے کس مقام پر فائز تھے،اور اخروی سعادت کس طرح ان کے حصّے میں آئی ہے۔
آیات قرآنیہ کے علاوہ احادیث نبویہ کی ایک بڑی تعداد صحابہ کی انفرادی یا اجتماعی تعریف و توصیف اور ان کے فضل و کمالات کے ذکر سے پُر نظر آتی ہے ۔
صحیحین میںحضرت عمران بن حصین ؓ سے مروی حدیث ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :
’’خیرُکم قرنی ثُمّ الذین یلونہم،ثُمّ الذین یلونہم‘‘۔
(تم میں کے بہترین لوگ میری صدی کے ہیں،پھر اُن کے بعد آنے والے ،اور پھر اُن کے بعد آنے والے)۔
راوی حدیث حضرت عمرا نؓ فرماتے ہبں کہ مجھے یاد نہیں کہ ایا نبی کریم ﷺ نے اپنی صدی کے بعد مزید دو صدیوں کا ذکر کیا یا تین کا،اسکے بعد فرمایا:
’’ّ إنَّ بعدکُم قوماً یخونون ولا یؤتمنون ،ویشہدون ولا یُستشہَدونَ،وینذرُون ولا یفونَ،ویظہِرُ فیہمُ السِمن‘‘(البخاری:۲۶۵۱،مسلم:۲۵۳۵ )۔
(پھر تمہارے بعد ایسے لوگ آئیں گے جو خیانت کریں گے اوروہ اپنا اعتبار کھو بیٹھیں گے ، اورگواہی دیں گے حالاںکہ ان سے گواہی طلب نہیں کی جائے گی (یعنی جھوٹی گواہی بڑے شوق سے دیں گے) اور نذر مانیں گے لیکن پورا نہیں کریں گے،اور اِن میں موٹاپا ظاہر ہوگا(یعنی بڑے تن آسان اور راحت طلب ہونگے)۔
اِس حدیث میں ’’ قرنی‘‘سے مُراد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں جیسا کے ابن اثیر جزری نے صراحت کی ہے(بحوالہ صحابٔہ رسول اسلام کی نظر میںاز نور عالم امینی ص۱۴۰ )۔
جامع ترمذی وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن مغفل ؓ سے مروی ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا :
’’اللہ اللہ فی اصحابی! اللہ اللہ فی اصحابی! لاتتّخذوہم غرضاً بعدی،فمن أحبَّہم فحبّنی أحبَّہم،ومن أبغضہم فبغضی أبغضہم،ومن آذاہم فقد آذانی،ومن آذانی فقد آذی اللہ،ومن آذی اللہ فیوشک أن یأخذہ‘‘(جامع الترمذی:۳۸۶۲،ترمذی نے اس حدیث کو ’غریب‘ کہا ہے)۔
(اللہ سے ڈرو !اللہ سے ڈرو !میرے صحابہ کے بارے میں ،اللہ سے ڈرو !اللہ سے ڈرو !میرے صحابہ کے بارے میں(اپنے صحابہ کے سلسلہ ہی میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ اِن کی تنقیص نہ کرو،میرے بعد انہیں نشانہ ملامت نہ بناؤ ۔جس نے بھی ان سے محبت کی تو گویا میری محبت میں اِن سے محبت کی۔اور جس نے بھی ان سے نفرت کی تو گویا مُجھ سے نفرت کی بنیاد پر ان سے نفرت کی۔اور جس نے ان کی دل ازاری کی اُس نے گویا میری دل ازاری کی،اور جس نے میری دل ازاری کی اُس نے اللہ کو ایذا پہونچائی،اور جس نے اللہ کو ایذا پہونچائی تو عنقریب ہی اللہ اُسے اپنی گرفت میں لے لے گا)۔
صحیحین میں حضرت ابو سعید الخدری ؓ سے روایت ہے کہ حضرت خالد بن ولیداور عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہما کے درمیان کچھ اختلافات تھے تو خالد ؓ نے عبدالرحمٰن ؓ کو بُرا بھلاکہا اس پر نبی کریم ﷺ نے تنبیہاً اُن سے کہا:
’’لا تسبّوا أحداً من أصحابی،فلو أنّ أحدکم أنفق مثل أحد ذھباً ما أدرک مدّ أحدہم ولا نصیفہ‘‘(البخاری:۳۶۷۳ ،مسلم:۲۵۴۱)۔
(میرے صحابہ میں سے کسی کی بُرائی نہ کرو،تم میں سے اگر کوئی احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کرے تو ان میں سے کسی کے ایک مد یا اِس کے نصف بھی خرچ کرنے کے برابر ثواب نہیں پائے گا)۔
مدّ غلّہ کا ایک پیمانہ تھا جس میں نصف کیلو سے کچھ زیادہ اناج آتا تھا اور یہ چوتھائی صاع نبوی کے مساوی ہے۔(ابن عثیمین)۔
حدیث کی وضاحت میں علامہ بیضاوی ؒ نے کہا ہے کہ اگرکوئی شخص مدینہ منوّرہ کے مشہور پہاڑ احدکے جتنا بھی سونا اللہ کے راستے میں خرچ کردے تو اسے صحابہ کے خرچ کئے گئے ایک مد بلکہ نصف مد کے برابر بھی اجروثواب نہیں مل سکتا،اور اس فرق کی وجہ ان کا بھرپوراخلاص اور صدق نیت تھا(بحوالہ التعلیق الصبیح از کاندھلوی ج۷ص۲۸۸ )۔
ابن حجررحمۃ اللہ علیہ ’فتح الباری ‘ میں حدیث کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ افضلیت کی بڑی وجہ یہ ہے کہ صحابہ کرام نے جو کچھ خرچ کیا،انتہائی شدید ضرورت اور کٹھن حالات کے وقت خرچ کیا اور مال کے ساتھ ساتھ اُنہوں نے جان کی بھی قُربانی دی ، جیسا کہ اللہ کا ارشاد ہے :
{لا یستوی منکم مّن أنفق من قبل الفتح وقٰتل،اولئک أعظمُ دَرَجَۃً مِّن الذین أنفقوا من بعد و قاتلوا،وکُلّاً وَّعَدَ اللَّہُ الحُسنی،واللَّہُ بِماَ تَعمَلُونَ خَبِیرٌ} (الحدید ۱۰)
(تم میں سے جن لوگوں نے فتح سے پہلے فی سبیل اللہ خرچ کیا اور جہاد کیا وہ دوسروں کے برابر نہیں بلکہ ان کا درجہ اُن سے بہت بڑا ہے جنہوں نے فتح کے بعد خرچ کیا اور جہاد میں حصّہ لیا ۔اور ہاں بھلائی کا وعدہ تو اللہ تعالیٰ کا ان سب سے ہے۔جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ ان سے خبردار ہے)۔
اس آیت اور صحیحین کی روایت ’’لا تسبّوا أصحابی‘‘(میرے صحابہ پر سب و شتم نہ کرو) دونوں میں ان صحابہ کرام کا مقام و فضل بیان کیا گیا ہے جن کو قرآن کی اصطلاح میں ’’السّابقون الأوّلون‘‘کہا گیا ہے اور ان سے مراد وہ صحابہ ہیں جنہوں نے اسلام قبول کرنے میں سبقت کی چاہے وہ صحابہ ہوں جنہوں نے دونوں قِبلوں کی طرف رُخ کرکے نماز پڑھی،یا اہل بدر ہوں یا بیعت رضوان میں حاضر رہنے والے۔ علامہ شوکانی نے کہا ہے اس آیت کریمہ میں فتح سے مراد فتح مکّہ یا پھر صلح حدیبیہ ہے۔بہر حال صلح حدیبیہ یا فتح مکّہ سے قبل مسلمان تعداد اور قوت کے لحاظ سے کم تر تھے اور مسلمانوں کی مالی حالت بھی بہت کمزور تھی۔اِن حالات میں اللہ کی راہ میں خرچ کرنا اور جہاد میں حصّہ لینا دونوں نہایت مُشکل اور بڑے دِل گردے کا کام تھا جب کہ فتح مکّہ کے بعد یہ صورت حال بدل گئی ،لہذا دونوں ادوار کے مسلمانوں کی بابت اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ اجر میں برابر نہیں ہوسکتے۔لیکن تفاوت درجات کے باوجود صحبت رسول ﷺ کا رُتبہ پالینے کے سبب یہ وضاحت کردی گئی کہ اس اس شرف صحابت کی بنیاد پر بھلائی وبہتری کا وعدہ اللہ کے طرف سے سارے صحابہ کے لئے ہے۔فرضِی اللہ عنہم و رضواعنہ۔
حضرت ابو سعید الخدری ؓ کی روایت میں حضور ﷺنے حضرت خالد بن ولید اور اُن کے ہم مثل صحابہ کو تنبیہ کرتے ہوئے حضرت عبد الرحمن بن عوف اور ان کے ہم مثل صحابہ کے بارے میں فرمایا ’’لا تسبّوا أصحابی‘‘(میرے صحابہ کو بُرا بھلا نہ کہو )۔یہ اس لئے کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف اور ان جیسے حضرات سابقین اولین میں سے تھے لہذا ان کا مرتبہ بڑا تھا اور حضرت خالد بن ولید اور ان جیسے حضرات متأخرین صحابہ میں سے تھے تو گویا نبی کریم ﷺنے ان صحابہ کو جو متأخرین تھے ، اس سے منع فرمایا کہ اپنے مُتقدمین کی بُرائی کریں،چناچہ یہ بات بدرجئہ اولی ثابت ہوگئی کہ جو صحابہ نہیں ہیں ان کو صحابہ پر نکتہ چینی کرنے یا حرف گیری کرنے کا کوئی حق نہیں ۔
نبی کریم ﷺنے اپنے صحابئہ کرام کے مقام عالی کو ایک حدیث میں یوں بیان فرمایا ہے کہ جو مسند بزار میں صحیح سند کے ساتھ حضرت جابر ؓ کی روایت ہے:’’إنّ اللہَ إختار أصحابی علی الثقلین سوی النبیینَ والمُرسلین‘‘(اللہ نے میرے صحابہ کا انتخاب انبیاء و مرسلین کے علاوہ اِنس و جن کے درمیان سے کیا)۔یعنی نبیوں اور رسولوں کے سوا تمام جن واِنس پر صحابہ کو برتری وفوقیت حاصل ہے۔
صحابہ کرام کے منصب و مرتبہ سے متعلق یہ چند آیات و احادیث تھیں جن کی ضروری وضاحت کے بعد اُن کی قدر و منزلت اور وبے مثال شخصیت کی سچّی تصویر اُبھر کر آپ کے سامنے آگئی ہوگی ۔اب آئیے مزید ان کے بارے میں علماء اُمّت کی آراء کا ایک مختصر جائزۃ لیتے ہیں۔
ابن حجرؒ نے اپنی کتاب ’’الإصابۃ فی تمییز الصحابۃ‘‘ میں خطیب بغدادی ؒ کا ایک قول نقل کیا ہے وہ کہتے ہیں: ’’اگر صحابہ کے فضل وکمال کے سلسلہ میںکُچھ بھی آیات و احادیث وارد نہ ہوتیں،پھر بھی اسلام کی مدد و نصرت،ہجرت و جہاد ،جان و مال کی قربانی ،باپ اور بیٹوں کی سرزنی ،دین ہی کے لئے ایک دوسرے کو و صیت و نصیحت اور ان کے ایمان و یقین کی قوّت ،اِس امر کے لئے کا فی بُنیاد ہے کہ قطعی طور پر ان کو عدل و معتبر مانا جائے،ان کی نزاہت و ثقاہت کا یقین کیا جائے اور ان تمام پاسبان اُمّت کو اپنے بعد آنے والی نسلوں سے اعلی و ارفع جانا جائے ‘‘۔
چنانچہ قرآن و سُنّت میں ان کی مدح سرائی ،خصوصیات و امتیازات اور کارناموںکی بناء پر ساری اُمّت مسلمہ کے علماء حق کا اجماع ہے کہ بلا امتیاز سبھی صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نبی اعظم محمدﷺ اور دیگر انبیاء کے بعد روئے زمین کی سب سے برگزیدہ شخصیت ،خدائی انتخاب کا بہترین نمونہ، انسانی گروہ کے بے مثال افراد، اخلاص و للّہیت کے پیکر مجسّم، نبی اُمّی کے سچے شیدائی، ایثار و قربانی میں یکتائے روز گار اور عدالت وثقاہیت کے گوہر تابدار ہیں، جوکہ پوری اُمّت کے لئے روشنی کے مینار اور قابل احترام و تعظیم ہیں۔سنن ابو داؤد میں حضرت سعید بن زیدؓ کا قو ل منقول ہے کہ اُنہوں نے پہلے عشرہ مبشرہ کے نام گنوائے جو انہوں نے حضورﷺ سے سُنے تھے اور جن میں سے ایک وہ خود بھی ہیں ،پھر فرمایا : ’’خدا کی قسم کسی صحابی کا رسو ل اللہﷺ کے سا تھ کسی جہاد میں شریک ہونا جس میں ان کا چہرہ گرد آلود ہوجائے، کسی غیر صحابی کی عمر بھر کی عبادت وعمل سے بہتر ہے گرچہ اس کو عمر نوح مل جائے‘‘۔ (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر:۴۶۵۰)۔
خلیفئہ اموی حضرت عمر بن عبد العزیز جو کہ افضل ترین تابعین میں سے ہیں اور پانچویں خلیفہ راشد کہلاتے ہیں ،انہوں نے اپنے ایک مکتوب میں ،صحابہ کرام کی عظمت و مر تبت کو واضح کرتے ہوئے اُمّت کو ان سے رہنُمائی حاصل کرنے کی تلقین اس طرح فرمائی ہے: ’’اپنے لئے وہی طریقہ اختیار کرو ،جس کو قوم(صحابہ کرام)نے اپنے لئے پسند کیا تھا ،اس لئے کہ وہ جس حد پر ٹہرے ، علم کے ساتھ ٹہرے ۔اُنہوں نے جس چیز سے لوگوں کو روکا،اپنی دوراندیشی کی بناء پر روکا۔ بلا شبہ وہی حضرات دقیق حکمتوں اور علمی گُھتیوں کے سُلجھانے پر قادر تھے ،وہ جس کام میں تھے،اس میں سب سے زیادہ فضیلت کے وہی مستحق تھے‘‘۔ (سنن ابوداؤد، حدیث نمبر:۴۶۱۲)۔
پانچویں صدی کے مشہور و معروف عالم ابن حزم ؒ پر زور انداز اختیار کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:’’روئے زمین کا کوئی شخص،ادنی صحابی کے درجے کو بھی نہیں پاسکتا‘‘(بحوالہ صحابٔہ رسول اسلام کی نظر میںاز نور عالم امینی ص۱۷۰ )۔
علامہ قرطبی ؒنے اپنی شہرئہ آفاق تفسیر میں آیت کریمہ’’کنتم خیرأمّۃ أُخرجت للناس‘‘کے مطالب پر مختلف پہلؤوں سے روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں:’’جس نے نبی ﷺکی صحبت پائی اور زندگی میں ایک بار بھی آپ کا دیدارکرلیا ،وہ بعد والوں سے افضل ہے ، صحابیت کی فضیلت کے برابر کوئی عمل نہیں‘‘(الجامع لأحکام القرآن ، آل عمران ،آیت نمبر ۱۰۰)۔
خلاصئہ کلام یہ ہے کہ شرف صحبت بذات خود ایک ایسی امتیازی خصوصیت ہے جو رضائے الہی کی ضمانت ہے،لہذا اس سے مشرف ہر فرد،ہر سلیم العقیدہ مسلمان کے لئے باعث صد احترام اور قابل امتنان و تشکر ہے کہ اللہ تعالی نے ہمیں ان ہی کے واسطے سے دین و ایمان کی دولت سے سر فراز فرمایاہے۔جزاہم اللہ عن الاسلام و المسلمین خیرا۔
