تحریر :محمد نعمت اللہ ادریس ندوی
اہل سنت و الجماعت کے نزدیک یہ اسلامی عقیدے کا جزء ہے کہ اللہ اور اس کے رسول محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کے تقاضہ کے تحت ،ہر مسلمان ،صحابہ واہل بیت رضی اللہ عنہم سے محبت کرے اور انہیں دوسرے مومنین اور عام مسلمانوں سے افضل جانے۔
اہل بیت:
اہل بیت سے مرادحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل ایمان خاندانی لوگ ہیں  جن پر صدقہ حرام ہے ،اور وہ آل علی ، آل جعفر ،آل عقیل ،آل عباس، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات اورآپ کی صاحبزادیاں ہیں(۱)۔اللہ کا ارشاد ہے :
 ’’إنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ أَھَلَ ا لْبَیْتِ وَیُطَھِّرَکُمْ تَطْھِیْرًا‘‘(۲)
(  اللہ تعالی یہی چاہتا ہے اے اہل بیت !کہ وہ تم سے آلودگی کو دور کردے اور تمہیں خوب پاک کر دے)۔
یہ فرمان ربانی ،ازواج مطہرات کے اہل بیت میں داخل ہونے پر نص قطعی ہونے کے ساتھ ساتھ کہ بالخصوص انہی کے سلسلے میں نازل ہوا ہے، جیسا کہ خود اس فرمان والی آیت اور ماسبق و ما بعد والی آیتوں سے صاف ظاہر ہے (۳)؛ تمام اہل بیت کی فضیلت و منقبت اور عنایت الہی کے مستحقین خاص ہونے پر دلالت کرتا ہے ۔
لہذا، اہل سنت وجماعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت سے عزت و احترام کا معاملہ کر تے ہیں ،ان سے محبت کر تے ہیں اور ان کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت پر عمل کر تے ہیں کہ آپ کا ارشاد ہے جو کہ مسلم کی روایت ہے:  ’’أُذَکِّرُکُمُ اللّٰہَ فِیْ أَھْلِ بَیْتِیْ‘‘(۴)( ا پنے اہل بیت کے بارے میں،میں تمہیں اللہ کی یاد دلاتا ہوں)یعنی کہ اللہ کا حوالہ دے کر میں تمہیں ان کا خیال رکھنے اور محبت و توقیر کرنے کی تلقین کر تا ہوں۔
ہم اہل سنت و جماعت، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اسی وصیت پر عمل پیرا ہیں کہ اہل بیت سے محبت و تعلق اور اعزازز و اکرام میں کوئی کوتاہی نہ ہو؛ اس لئے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور اطاعت و فرمانبرداری کا تقاضہ یہی ہے ۔ لیکن شرط یہ کہ اہل بیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ پر کاربند ہوں ،جیسا کہ ان کے اسلاف حضرت عباس وعلی رضی اللہ عنہما اور ان کی اولادوں کا شیوہ و عمل رہا ہے ۔اگر انھوں نے طریقۂ نبوی سے اختلاف کیا یا دین کی راہ پر گامزن نہ رہے تو پھر اس کے حقدار باقی نہیں رہ جاتے کہ ان کے ساتھ عزت واکرام کا معاملہ کیا جائے یا وفاداری برتی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ سورئہ احزاب کی جن آیتوں کا حوالہ اوپر دیا گیا ان میں اللہ نے ان کو پہلے ایسی ہدایات دیں جن کا تعلق برائیوں سے اجتناب اور نیکیوں کے اختیار سے ہے، پھر بتایا کہ مقصود تربیت و تطہیر ہے ،تاکہ خانہ نبوت کے لائق بن سکیں ۔
یہ وہ بنیاد ہے جس کی بناء پر یہ بات بجا اور حق ہے کہ اہل بیت کے سلسلہ میں اہل سنت وجماعت کا موقف اعتدال وانصاف پر مبنی ہے، چنانچہ وہ اہل بیت کے دینداروں اور اصحاب استقامت سے قلبی تعلق اور لگائو رکھتے ہیں اور ان میں جو سنت کے مخالف اور راہ حق سے دور ہیں ان سے براء ت کا اعلان کر تے ہیں، کیونکہ ظاہر ہے کہ اہل بیت میں سے ہونا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ سے قرابت داری رکھنا اس وقت تک فائدہ مند ونفع بخش نہیں جب تک کہ دین پر عمل نہ ہو۔
صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب سورہ شعراء کی یہ آیت کریمہ:’’وَأَنْذِرْعَشِیْرَتَکَ الأْقْرَبِیْنَ‘‘(۵)( اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائو)آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی ، تو آپ نے فرمایا:
 ’’یَامَعْشَرَ قُرَیْشٍ – أوکلمۃ نحوھا – اشْتَرُوْا أَنْفُسَکُمْ، لَا أُغْنِیْ عَنْکُمْ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا ، یاَ بَنِیْ عَبْدِ مَنَافٍ، لَا أُغْنِیْ عَنْکُمْ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا، یَا عَبَّاسُ بْنَ  عَبْدِالْمُطَّلِبِ، لَا أُغْنِیْ عَنْکَ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا، یَا صَفِیَّۃُ عَمَّۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ، لَا أُغْنِیْ عَنْکِ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا، وَ یَا فَاطِمَۃُ بْنَتُ مُحَمَّدٍ( ﷺ) سَلِیْنِیْ مِنْ مَالِیْ مَا شِئْتِ،لَا أُغْنِیْ عَنْکِ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا‘‘(۶)
(اے قریش کے لوگو!- یا اسی طرح کا کوئی کلمہ آپ نے فرمایا –  اللہ سے اپنی جانوں کا سودا کرلو، میں اللہ کے حضور تمہارے کوئی کام نہیںآسکتا ۔اے بنی عبد مناف ! میںاللہ کے سامنے تمہارے لئے کچھ نہیں کرسکتا ۔ اے صفیہ رسول اللہ کی پھوپھی !میں اللہ کے آگے آپ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔ اے فاطمہ بنت محمد( ﷺ ) ! میرے مال سے جو چاہو مجھ سے مانگ لو، میں اللہ کے پاس تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتا۔)
اہل سنت و جماعت اپنے معتدل موقف ہی کی بنیاد پر اہل بیت کے سلسلہ  میں ان لوگوں کے انتہاء پسندانہ رویہ کا انکار کر تے ہیں جو کہ ان کے لئے عصمت کا دعوی کر تے ہیں ،جب کہ صرف انبیاء ہی معصوم ہوا کر تے ہیں۔ اسی طور پر ان لوگوں سے بھی مکمل اختلاف رکھتے ہیں جواہل بیت سے دشمنی کرکے ان پر لعن و طعن کر تے ہیں۔ اہل بدعت وخرافات کا طریقہ بھی انہیں قابل قبول نہیں، اس لئے کہ وہ اہل بیت کو اللہ سے تقرب کا وسیلہ سمجھتے ہیں ،گویا کہ انہیں اللہ کے علاوہ معبود بناتے ہیں ۔
اہل سنت و جماعت صرف اس باب میں ہی نہیں بلکہ تمام امور میں راہِ اعتدال اختیار کر تے ہیں ، اور صراط مستقیم کو منہج بناتے ہیں، جس میں نہ افراط ہے نہ تفریط، نہ غلو ہے نہ حق تلفی،۔ان کے یہاںاس میانہ روی میں اہل بیت وغیراہل بیت کی تفریق نہیں ہے ، یہی وجہ ہے کہ حق پرست اہل بیت نے اپنے بارے میں غلو پسندی کا انکار کیا ، بلکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے تو ان انتہاپسندوں کو جنھوں نے آپ کے سلسلہ میں غلو سے کام لیا ،آگ میں جھونک دیا، اور ان ؒکے سردار عبداللہ بن سباکو بھی جہنم رسید کرنے کا ارادہ کیا لیکن اس اندیشے کے تحت کہ پھرکہیں کوئی بڑا فتنہ نہ اٹھ کھڑا ہوجائے بعض صحابہ نے آپ کو اس اقدام سے روک دیا ؛ لہذا اسے ساباط المدائن کی طرف جلا وطن کرنے پر اکتفا کیا(۷) ۔
صحابہ کرام:
جہاں تک صحابہ کرام کا تعلق ہے تو ان کے عظمت و مرتبے کے پیش نظرجس کی تفصیل پچھلے یک مضمون میں پیش کی جا چکی ہے، اہل سُنّت و الجماعت ان کی توقیر و تعظیم کو واجب قرار دیتے ہیں، ان سے دلی محبت و تعلق کو ایمان کا تقاضہ گردانتے ہیں،ان کی تنقیص یا ان پر تنقید کو ناجائزسمجھتے ہیں،اور ان کے درمیان رو نما ہونے والے اختلافات کے سلسلہ میں اپنی زبان بند رکھتے ہیں۔اس جزئیے کی وضاحت انشا ء اللہ آئندہ سطروں میں آرہی ہے ۔
 امام طحاوی ؒاہل سُنّت والجماعت کے عقیدے کی ترجمانی کرتے ہوئے فرماتے ہیں :’’ ہم اصحاب رسول  ﷺسے محبت کرتے ہیں،اور ان میں سے کسی سے محبت میں حدسے تجاوز نہیں کرتے ،اور نہ کسی سے لا تعلقی اور براء ت کا اظہار کرتے ہیں۔ ہم اس سے بغض رکھتے ہیں جو ان سے بغض رکھے اور ان کی برائی بیان کرے۔ہم صرف ان کا ذکر خیر کرتے ہیں اور ان کی محبت کو دین وایمان اور احسان کا حصّہ سمجھتے ہیں ،اور اُن سے بغض وعناد کو کفر و نفاق اور سر کشی گردانتے ہیں‘‘(۸)۔
دراصل امام طحاوی ؒ نے ان صاف الفاظ میں صحابہ کرام کے بارے میں اہل سُنّت و الجماعت کے عقیدے کو بیان کرکے اس گم راہ فرقہ کے عقائد باطلہ کا رد کیا ہے جو بعض صحابہ کی محبت میں غلو سے کام لے کر تمام حدود شریعت پار کر جاتا ہے،اور چند کو چھوڑ کر بقیہ تمام صحابہ کرام کی تکفیر و تفسیق کرتا ہے۔اور اسی طرح ان سے بغض و عداوت رکھنا اور ان کی تحقیر و تو ہین کرنا بلکہ اُن کے حق میں دشنام طرازی سے کام لینا دین میں داخل مانتا ہے۔
لیکن علماء مِلّت کا یہ متّفقہ فیصلہ ہے کہ ایسے عقائد قرآن و سُنّت اور اجماع امت سے متصادم بلکہ دین کی بیخ کنی کے مترادف ہیں۔کیونکہ صحابئہ کرام ہی وہ پُل ہیں جن سے ہوکر دین ہم تک آیاہے،اب اگر ہم نے اس پل کو منہدم کردیا تو ہم نے دین کومنہدم کردیا۔امام مسلم کے استاذ امام ابو زرعہ رازی نے انہی خیالات کا اظہار کیا ہے اور اسی کو بنیاد بتاتے ہوئے کہا ہے:’’ جب تم کسی شخص کو دیکھو کہ وہ کسی صحابی کی تنقیص کر رہا ہے تو سمجھ لو کہ وہ زندیق ہے‘‘(۹)۔
امام ذہبی ؒ کی بھی یہی رائے ہے کہ وہ صحابہ پر طعن و تشنیع کرنے والوں اور ان کو بُرا کہنے والوں کومِلّت اسلامیہ سے خارج شمار کرتے ہیں(۱۰)۔
امام مالکؒ سورئہ فتح کی آیت نمبر ۳۹  میں مذکور قول باری تعالی :(لِیغیظَ بہم الکُفَّارَ)سے استدلال کرتے ہوئے کسی صحابی کے تئیں دل میں حسد و کینہ اور غیظ و نفرت رکھنے والے کو کافر کہتے ہیں(۱۱)۔اس لئے کہ آیت کریمہ ہمیں صاف صاف بتارہی ہے کہ صحابہ عظام کے تذکرے اورمدح سرائی سے کافروں کا دل جلن اور کڑھن کا شکار ہوتا ہے۔امام احمد ؒ کا فتوی بھی امام ابن تیمہ ؒ نے ’’ الصارم المسلول‘‘میں نقل کیا ہے کہ صحابہ کی بُرائی کرنا یا ان پر کسی عیب یا نقص کا الزام لگانا نا جائز ہے اور جو شخص ایسا کرے اس کی تادیب و اجب ہے(۱۲)۔
غرض کہ صحابہ کرام کے سلسلہ میں اہل سُنّت و الجماعت کا عقیدہ صاف و شفّاف،زیغ و ضلال سے خالی ،کھوٹ اور بدگمانی سے پاک اور اعتدال و توسط پر مبنی ہے،لہذ کتاب وسُنّت اور اجماع اُمّت سے جو ان کے فضائل و مناقب ثابت ہیں ان کو تسلیم کرتے ہیں کہ وہ نبی اُمّیﷺکے جانباز ساتھی ،دین کے داعی اور راہ حق کے سپاہی تھے۔
اختلافات صحابہ:
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے سلسلے میں ہمارے عقائد کی دوسری شق، ان کے درمیان برپا ہونے والے اختلافات اور فتنوں سے متعلق ہے، اس سلسلہ میں بھی اہل سنت وجماعت کا عقیدہ حق و اعتدال پر مبنی ہے ۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ صحابہ کے درمیان جو قتل وقتال کی نوبت آئی اور فتنے بھڑکے،ـ وہ سب کچھ یہودیوں کی سازش کانتیجہ تھا ،ان سازشوں کا سرغنہ عبداللہ بن سبا یہودی تھاجس نے دین اسلام کی بیخ کنی کے لئے اسلام کا لبادہ اوڑھ لیا تھا ۔اس خبیث و مکار کو پہلی کامیابی تو یہ ملی کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ نہایت بے دردی سے شہید کر دئیے گئے ، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنی احقیت وافضلیت کی بناء پر خلیفہ منتخب کئے گئے لیکن دلوں میں اختلافات کی آگ جل رہی تھی، آپ کی اور عمائدین ملت کی اصلاحی کوششوں کے باوجود اس پر قابو نہ پایا جاسکا اور دشمنانِ اسلام فتنے پھیلانے میں پھرکامیاب ہوگئے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ صحابہ کرام آپس میں جنگ وجدال کے شکار ہوئے۔
لہٰذا اہل سنت وجماعت کا عقیدہ ہے کہ صحابہ کرام کے درمیان جو فتنے ظہور پذیر ہوئے ان پر حرف گیری سے مکمل طور پر باز رہنا واجب ہے ۔ صرف ان کی بہتر سے بہتر طور پر مدح سرائی کرنی چاہئے، جس کے وہ مستحق ہیں، اور ان میں سے ہر ایک کے متعلق ہمیں اپنے دلوں کو کینے اور بغض و عناد سے پاک رکھنا چاہئے ؛کیونکہ خود اللہ نے اپنے کلام پاک میں سبھی صحابہ کرام سے اپنی رضا مندی کا اعلان فرمادیا ہے اور انہیں جنت اور جنت کی نعمتوں کی بشارت دیدی ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے:
 ’’ وَ السَّابِقُوْنَ الأَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُہٰجِرِیْنَ وَ الأَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُمْ بِإِحْسَانٍ ،رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ وَأَعَدَّلَھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْأَنْھَارُ خَالِدِیْنَ فِیْھَا أَبَدًا، ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ‘‘ (۱۳)
(اور جو مہاجرین و انصار سابق اورمقدم ہیں اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو کار ہیں ، اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وہ سب اس سے راضی ہوئے، اور اللہ نے ان کے لئے ایسے باغات مہیاکررکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جن میں ہمیشہ رہیں گے، اور یہ بڑی کامیابی ہے )۔
اس آیت سے یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ اللہ نے ان کی ساری لغزشیں معاف فرمادیں ہیں جو کہ اہل سنت و جماعت کا عقیدہ ہے، ورنہ انہیں جنت اور اس کی نعمتوں کی بشارت نہ دی جاتی، اور اب تنقیص و تنقید کے طور پر ان کی کو تاہیوں کا تذکرہ کرنا کسی مسلمان کے شایان شان نہیں۔ ہمیں تو ان کے بارے میں جو ہدایت دی گئی ہے وہ مندرجہ ذیل آیت میں مذکور ہے، ملاحظہ ہو:
 ’’وَالَّذِیْنَ جَائُ وْ ا مِنْ َبعْدِھِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا وَلإِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالإِیْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلاًّ لِّلَّذِیْنَ آمَنُوْا رَبَّنَا إِنَّکَ رَؤُوْفٌ رَّحِیْمٌ ‘‘  (۱۴)
(اورجو ان مہاجرین کے بعد آنے والے ہیں ،کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار !ہمیں بخش دے، اور ہمارے ان بھائیوں کو جو ہم سے پہلے ایمان لاچکے ہیں ،اور مومنوں کی طرف سے ہمارے دلوں میں کینہ نہ پیدا ہونے دے ،اے ہمارے پروردگار! تو بڑا شفقت ومہربانی کرنے والا ہے )۔
صحابۂ کرام کے اختلافات کے سلسلہ میں اہل سنت وجماعت کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ یہ سب کچھ اجتہاد پر مبنی تاویل کی بناء پر ہوا، چنانچہ جن کا اجتہاد درست تھا انہیں دواجر ملیں گے اور جن سے اجتہاد میں غلطی ہوئی انہیں ایک اجر ملے گا ،جیسا کہ اجتہادکے بارے میں حضرت عمر وبن العاص رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ثابت ہے جو کہ صحیحین میں ہے، ارشاد نبوی ہے:
’’ إِذَا حَکَمَ الْحَاکِمُ فَاجْتَہَدَ، ثُمَّ أَصَابَ  فَلَہُ أَجْرَانِ، وَ إِذَا حَکَمَ فَاجْتَہَدَ ثُمَّ أَخْطَأَ، فَلَہُ أَجْرٌ‘‘ (۱۵)
 (فیصلہ کرنے والا جب اپنے غور و فکر سے فیصلہ کرتا ہے اور وہ فیصلہ ٹھیک ہوتا ہے ، تو اس کو دہرا اجر ملتا ہے ؛ اور اگر غلط ہو جا تا ہے ، تو بھی ایک اجرضرور ملتا ہے) ۔
اہل سنت و جماعت صحابہء کرام کوجن اوصاف و کمالات سے مزین پاتے ہیں اور ان کے باہمی اختلافات کے بارے میںجو موقف اختیار کرتے ہیں، اسے مولانا حالی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے اشعار کی جادوگری کا جامہ پہنایا ہے۔آیئے گفتگوکا یہ ایمان افروز و پُر کیف بیان ان کی زبانی سنتے ہیں:
جب اُمّت کو سب مل چکی حق کی نعمت
ادا کرچکی فرض اپنا، رسالت
رہی حق پہ باقی ،نہ بندوں کی حجت
نبی نے کیا، خلق سے قصد رحلت
تو اسلام کی وارث، اک قوم چھوڑی
کہ دُنیا میں جس کی مثالیں ہیں تھوڑی
سب اسلام کے،حُکم بردار بندے
سب اسلامیوں کے، مددگار بندے
خدا اور نبی کے، وفادار بندے
یتیموں کے رانڈوں کے، غم خوار بندے
رہ کفر و باطل سے ، بیزار سارے
نشہ میں مے حق کے سرشار سارے
اگر اختلاف ان میں، باہم دگر تھا
تو بالکل مدار اس کا، اخلاص پر تھا
جھگڑتے تھے، لیکن نہ جھگڑوں میں شر تھا
خلاف، آشتی سے، خوش آیندہ ترتھا
یہ تھی موج پہلی، اس آزادگی کی
ہرا جس سے ہونے کو تھا با غ ہستی
اللہ تعالیٰ، آغوش نبوی میں پروردہ ان پاکیزہ نفُوس کی سچّی محبت و اؒلفت ہمارے دلوں میں جاگزیں فرمائے اور ان کی عظمت و فضیلت پر ہمارے ا عتما د و یقین کو مزید مستحکم فرمائے ۔ہمیں ان سے محبت کرنے والوں سے محبت کرنے اور ان سے بغض رکھنے والوں سے بغض رکھنے کی توفیق سے نوازے۔اُنہیں دعوت و تبلیغ کے میدان میں اپنے نبی اکرم کی مخلصانہ جانشینی کرکے شریعت ماثورہ کو ہم تک مُنتقل کرنے کا بہترین اجر و صلہ عطا فرمائے ۔ صحابہ کرام و اہل بیت (۱۶)دونوں جماعتوں کے بارے میں راہ اعتدال پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور لغزشوں سےمحفوظ فرمائے کہ دین وایمان کی سلامتی کا راستہ یہی ہے، اور ہمیں اس قرآنی ہدایت کا عامل بنائے جو رب کریم نے ان کے سلسلہ میں ہمیں دیا ہے،جیسا کہ ہم نے سورئہ حشرکی آیت کریمہ سے جانا کہ اللہ ہمیں ان کے لئے مغفرت طلب کرنے اور ان کے لئے اپنے دلوں کو بغض و کینہ سے پاک رکھنے کی ہدایت کی ہے۔
وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین و صلّی اللہُ علی سیدنا و نیبنا محمدوآلہ و صحبہ أجمعین۔
مراجع و مصادر:
۱ – دیکھئے: تفسیر القرآن العظیم از ابن کثیر۳؍۵۹۴، سورہ احزاب کی آیت نمبر۳۳ کی تفسیر کے ضمن میں۔
۲ – الأحزاب : ۳۳۔
 ۳ – دیکھئے : سورہ احزاب کی آیت نمبر ۳۲، ۳۳، ۳۴ ۔
۴- مسلم : (۲۴۰۸)، بروایت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ ۔
 ۵ – الشعراء : ۲۱۴ ۔
۶ – البخاری : (۴۷۷۱)۔
 ۷-دیکھئے : الأدیان و الفرق و المذاہب المعاصرۃ از عبد القادر شیبۃ الحمد ص۱۴۸۔
 ۸ -شرح العقیدۃ الطحاویۃ ص ۴۶۷۔
۹-التعلیق الصبیح از کاندھلوی ج۷ ص۲۸۰۔
۱۰-کتاب الکبائر از ذہبی ص ۲۳۸بحوالہ صحابٔہ رسول اسلام کی نظر میںاز نور عالم امینی ص۱۶۶۔
۱۱-دیکھئے:التعلیق الصبیح از کاندھلوی ج۷ ص۲۸۰۔
۱۲-بحوالہ صحابٔہ رسول اسلام کی نظر میںاز نور عالم امینی ص۱۶۳۔
۱۳-التوبۃ: ۱۰۰۔
۱۴- الحشر :  ۱۰۔
۱۵ – البخاری مع الفتح : ۷۳۵۲، مسلم بشرح النووی : ۱۷۱۶۔
۱۶ ـ ان حضرات کے بارے میں اہل سنت و جماعت کے موقف کی مزید تفصیل ’’ الکواشف  الجلیۃ عن معانی الواسطیۃ ‘‘ میں دیکھی جا سکتی ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے