- علاقے کے علمی حلقوں میں خوشی کا ماحول
- والدین، اساتذہ، رشتہ داروں اور دوستوں کے علاوہ علماء کرام نےبھی دی مبارک باد اور دعائیں
سمریاواں، سنت کبیر نگر (محمد رضوان ندوی): تپہ اجیار میں نئی نسل کو تعلیمی میدان میں مسلسل آگے بڑھنے کے لئے حوصلہ دینے اور مخلص ہو کر مناسب رہنمائی کرنے والے، فعال سماجی کارکن، سینئر استاذ و ٹرینر، پرائمری ٹیچرس ایسوسی ایشن کے ضلعی نائب صدر ظفیر علی کرخی کے بڑے صاحبزادے محمد خالد ظفیر کو پی ایس ایل ریسرچ یونیورسٹی (پیرس سائنسیز اینڈ لیٹریس ریسرچ یونیورسٹی) میں مٹیریل انجینیئرنگ کے شعبہ میں داخلہ ملنے پر پورے علاقے میں خوشی اور جوش کا ماحول دیکھا گیا، علمی طبقہ کی طرف سے خاص طور پر اعلی تعلیم کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کرکے مبارک باد اور دعاؤں سے نوازا گیا۔
خالد ظفیر کو بچپن سے ہی پڑھ لکھ کر ملک اور قوم کی خدمت کا بڑا شوق تھا، انھوں نے پرائمری تعلیم گاؤں ہی میں واقع الھدی پبلک اسکول سمریاواں سے حاصل کی۔ پریکسس بستی سے انٹرمیڈیٹ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اے ایم یو علی گڑھ سے کیمسٹری میں بی ایس سی اور ایم ایس سی ڈگری اعلیٰ نمبرات کے ساتھ حاصل کی۔ کیمسٹری خالد ظفیر کا بنیادی اور مرکزی مضمون ہے۔
پی ایس ایل میں داخلے کا خاص مقصد مزید تحقیق کرنا ہے۔ خالد ظفیر کے اب تک چار تحقیقی مقالے شائع ہو چکے ہیں۔ مٹیرئلز انجینئرنگ میں ایک سالہ ماسٹر ریسرچ کورس کرنے کے بعد پی ایچ ڈی کرنے کا ارادہ ہے۔
پی ایس ایل یونیورسٹی فرانس کی اعلیٰ سرکاری یونیورسٹیوں میں سے ایک ہے۔ اسے ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ میں 24 واں مقام دیا گیا ہے، جہاں تعلیم حاصل کرنے کا خواب نہ جانے کتنے طلبہ دیکھتے ہیں لیکن کسی نہ کسی رکاوٹ کی وجہ سے وہ اپنے خواب کو شرمندہ تعبیر نہیں کر پاتے، خالد ظفیر اس معاملے میں قسمت کے دھنی ہیں، انھوں نے اپنی محنت اور لگن سے بہت سی رکاوٹوں کو دور کرکے تعلیمی میدان میں پیش رفت جاری رکھی ہے.
خالد ظفیر آج 7 ستمبر کو دن میں دس بجے بے شمار امیدوں اور امنگوں کے ساتھ دہلی سے فرانس کے لئے روانہ ہوچکے ہیں، اس موقع پر انھیں علاقے کے بے شمار تعلیم یافتہ لوگوں سمیت اہل خانہ، متعلقین، رشتہ دار اور علماء کرام نے نیک خواہشات اور دعاؤں سے نوازا ہے، مبارک باد پیش کرنے والوں میں مشہور عالم چو دھری ،محمد احمد، مجیب اللہ پرنسپل، مقصود ندوی، منیر الحسن چودھری، وسیم احمد پرنسپل،سید فیروز اشرف الھدی پبلک اسکول کے منیجر ماسٹر فیضان احمد، اعجاز احمد کرخی، پروفیسر خلیل احمد، سہیل احمد علیگ، انظر حسین کرہی، محمد رضوان ندوی، فضیل احمد ندوی، مولانا منیر احمد ندوی، نور محمد قاسمی، وصی اللہ حسینی، ابرار احمد پردھان افضال احمد، شمشیر احمد، فیروز احمد ندوی،عبد الرحیم، محمد اعظم، دانش رحمن، حافظ اعجاز منیر، محمد عدنان صحافی، منور خان، مسرور خان، مہیندر سریواستو، صبیح احمد کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں.
