ابواحمد مہراج گنج

چند روز پہلے میں نے ایک تحریر لکھا تھا "ایماں مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر” اور اس میں یہ لکھا تھا کہ” دیوبندی علماء کے گمراہ کہہ دینے سے کوئی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں بھی گمراہ ٹھہر جائے گا ایسی کوئی بات نہیں ہے ”
اور اس میں ایک پیراگراف یہ بھی تھا کہ "پورا میدان صاف ہے بس دیوبندی ہی روئے زمین خاص کر براعظم ایشیا پرایسا فرقہ ہے جو ہر طرح کی گمراہی، گستاخی، کج فہمی، اور کج روی سے پاک وصاف ہے بقیہ ساری دنیا میں موجود مسلمان میں کوئی ملحد،تو کوئی متشدد ،کوئی گمراہ تو کوئی گستاخ ہے” ۔
اس تحریر کو میں نے اس گروپ (پاسبان علم و ادب ) میں بھیجنا بہتر نہیں سمجھا، مجھے معلوم ہے کہ اس گروپ میں مختلف مزاج اور فرقے کے افراد موجود ہیں کسی کی دل شکنی ہوسکتی ہے، تو کسی کو اپنے فرقے کی توہین نظر آئے گی، تو کوئی ہوگا جو مسلک کی تنگنائیوں میں محبوس ہوگا اور حق کو اپنے فرقے میں منحصر سمجھنے کا غالی الفکر تابعدار ہوگا۔ اس لئے اس کو فیس بک اور روزنامے کو بھیج دیا مگر مجھے حیرت ہوئی کہ فیس بک سے کاپی کر کے ایک محترم نے اس تحریر کو اس گروپ میں بھیج دیا اور پھر کیا تھا جس کے سمجھ میں جو آیا اس نے اس تحریر سے وہ نتیجہ اخذ کرنے میں دیر نہیں لگایا اور سلسلہ دراز ہوتے ہوتے تا امروز جاری ہے ۔
اس بیچ میں، میں نے اپنی صفائی یا تردید اور تنقید کرنے والوں کو نہ تو کوئی جواب دیا اور نہ ہی سوال کیا بلکہ جگر مرادآبادی کے ایک غزل کو عابدہ پروین کی پرسوز مترنم آواز میں سن کر مسکراتے رہے۔ وہ غزل بھی تفریح کے لیے لکھ دے رہا ہوں:

جلوہ بقدر ظرف نظر دیکھتے رہے
کیا دیکھتے ہم ان کو مگر دیکھتے رہے

اپنا ہی عکس پیش نظر دیکھتے رہے
آئینہ رو برو تھا جدھر دیکھتے رہے

ان کی حریم ناز کہاں اور ہم کہاں
نقش و نگار پردۂ در دیکھتے رہے

ایسی بھی کچھ فراق کی راتیں گزر گئیں
جیسے انہی کو پیش نظر دیکھتے رہے

ہر لحظہ شان حسن بدلتی رہی جگر
ہر آن ہم جہانِ دِگر دیکھتے رہے۔

اور اپنے محسنوں کو دعائیں بھی دیتے رہے، کسی نے مجھے نادان بتلا دیا تو کسی نے نیاز فتحپوری کی نسبت جوڑ دی اور اگر اس سے تسلی نہیں ملی تو ملحدوں کے انجام اور راشد شاذ صاحب کے نام اور ان کی فکر سے بھی ہراساں کرنے کی کوشش کیا اور لکھا کہ "ہمارے فضلا روشن خیالی کے چکر میں کس تیزی کے ساتھ اس گمراہ کن تصور کو اپناتے چلے جارہے ہیں۔
میں شکر گزار ہوں اپنے محبین کا کہ انھیں میری اتنی فکر ہے۔ مگر اس فکر میں میری نیت اور ارادے کی جھلک وہ کس طرح سے محسوس کررہے ہیں، ان کو یہ کیوں محسوس ہورہا ہے کہ میں ملحد اور گمراہ لوگوں کے نظریہ کے تابع ہورہا ہوں، میں بھی تو صرف یہی کہہ رہا ہوں کہ "حق اور حقانیت صرف دیوبندی فرقے میں منحصر نہیں ہے” جس قرآن وحدیث کی روشنی میں دوسروں کو ہم گمراہ لکھ اور کہہ رہے ہیں اسی قرآن وحدیث کی روشنی میں وہ بھی ہم کو کافر، مشرک لکھ رہے ہیں تو ہم ان کے لکھنے اور کہنے سے کافر اور مشرک ہوگیے؟ یا میرے کہنے سے وہ گمراہ اور ملحد ہوگئے؟

میری نیتوں پر نظر رکھنے والوں
خدا را بتادوں میں کیا چاہتا ہوں ۔

یہ میرے لیے تشویش کا باعث ہے ۔ ہاں مجھے اتنی تسلی ضرور ہے کہ ۔

بروز حشر حاکم قادر مطلق خدا ہوگا
فرشتوں کے لکھے اور شیخ کی باتوں سے کیا ہوگا۔

میرے دادا ایک چٹکلہ سنایا کرتے تھے کہ ایک پنجرے میں کوئی طوطا تھا جو رٹ رٹ کر جانوروں کی نقالی اور انکی ایکٹنگ سیکھ لیا تھا ۔جب کوئی اس سے کہتا مٹھو!! بلی کیسے بولتی ہے تو وہ کہتا تھا میاؤں میاؤں ۔جب اس سے کوئی کہتا کتا کیسے بھونکتا ہے۔تو وہ کہتا بھوں بھوں ۔جب کوئی کہتا کہ چھیدی چچا کیسے چلتے ہیں تو لنگڑا پن دکھاتا ۔کوئی پوچھتا کہ دکھی دادا کیسے کھانستے ہیں تو وہ کھوں کھوں کرکے بتاتا ۔ایک دن یہ سب لوگ اس طوطے کے گرد جمع ہوگئے اور طوطے سے پوچھنے لگے مٹھو!! یہ بتاؤ اس میں بلی کون ہے۔ مٹھو!! میاں چپ۔
کسی نے پوچھا مٹھو!! یہ بتاؤ اس میں دکھی دادا کون ہیں مٹھو میاں چپ ،کسی نے پوچھا کتا کیسے بھوکتا ہے مٹھو نے جواب دیا کہ بھوں بھوں لیکن جب اس سے پوچھا کہ ان میں کتا کون ہے مٹھو میاں کی سٹی پٹی گم ۔
یہی کچھ حالت ہمارے لائبریرین محقیقین اور مصنفین کی ہے انھیں نہیں معلوم کہ معاشرے میں بریلوی ،دیوبندی،اہل حدیث ،اور جماعت اسلامی کے لوگ ایک دوسرے سے کس طرح شیر وشکر اورجڑے ہوئے ہیں کس طرح سے دیوبندی گھرانوں کی لڑکیاں بریلوی فرقے کے گھروں میں بکثرت موجود ہیں کیسے اہل حدیث کی لڑکی بریلوی اور دیوبندی دونوں گھروں میں بیوی اور بہو کی شکل میں موجود ہیں کیسے جماعت اسلامی لڑکا دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث گھرانوں کے داماد ہیں ۔
کسی کی ماں بریلوی گھر سے ہے تو کسی کا باپ بریلوی ہے کسی کی بہن اہل حدیث کے یہاں ہے تو کسی کی اماں دیوبندی گھر کی ہے کیا ان سب سے کسی کے اسلام اور مسلمان ہونے میں کچھ فرق پڑرہا ہے ۔اگر پڑ رہا ہے تو چاہئے کہ وہ اپنا باپ ،اپنی ماں،بیوی اور اپنی بہن کو یہاں سے ہٹاکر اپنے دین اور ایمان کی حفاظت کرے۔ وگرنہ جس طرح چل رہا ہے اسی طرح چلنے دے ان کے بیچ موجود خلیج کو اگر پاٹ نہیں سکتا توخدا را ان کے درمیان علیحدگی کی کوئی دیوار حائل نہ کرے۔کسی کو گمراہ تو کسی کو مشرک اور کسی کو ملحد کا سرٹیفیکیٹ نہ بانٹے۔

میرے حضور بڑا جرم ہے یہ بے خبری
تمہاری بزم کے باہر بھی ایک دنیا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے