زین العابدین بن عبدالرحمن
سوشل میڈیا پر کئی سچ کے ساتھ جھوٹ اور غلط فہمیاں , اور کئی جھوٹ و غلط فہیموں کے ساتھ کچھ سچ بھی موجود ہوتا ہے ۔شیعہ سنی کا لڑائی ایک طرف اسرائیل اور فلسطین کی لڑائی الگ مسئلہ ہے ۔پہلے بہت ہی سیاسیت طاقت حکمت کے ساتھ فلسطین کو کئی حصوں میں کیئے پھر دھیرے دھیرے چھوٹے سے بڑے حصہ تک قبضہ کرتے رہے ۔کیا اسرائیل جہاں تک قبضہ کیا ہے وہاں شیعہ کا دین غالب ہے یا شیعہ کا حکومت نافذ ہے؟ نبیﷺ کے پیدا ہونے سے پہلے تقریباً پانچ سول پہلے ہیکلے سلیمانی گر چکا تھا رومن امپائر اس وقت کی پوری دنیا میں بہت بڑی طاقت تھی اس کا ٹائٹس جرنل جو کہ بت پرست تھا اس نے یہودیوں پر حملہ کیا اور لاکھوں لوگوں کے موت کے گھاٹ اتارا اور کئی یہودیوں کو گرفتار کیا ۔اس کا انتشار و فساد پوری دنیا میں پھیلنا شروع ہوا بعد میں اس کو وہاں سےنکال دیئے۔آج بھی اسکی صرف ایک دیوار بچی ہے جس کو دیوار گریہ کہتے ہیں جس کی طرف یہودی منھ کرکے وہاں جاکے تورات پڑھتے ہیں ۔ بعد میں ایک موڑ ایسا آیا کہ یہ لوگ عیسائت قبول کرلیئے تقریبا نبیﷺ کے پیدائش سے دو ڈھائی سال پہلے ۔بعد میں جب نبیﷺ کی پیدائش ہوئی اور عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دور آیا تو یروشلم فتح کیئے ۔فتح کے وقت یروشلم عیسائیوں کے ہاتھ میں تھا پھر یہ اقتدار مسلسل مسلمانوں کے ہاتھوں میں ہی تھا بیچ میں صلیبیوں نے لے لیا تھا مگر سلطان صلاح الدین ایوبی رح ان سے دوبارہ حاصل کیئے اور یہ پھر تقریبا بیسوئی صدی تک خلافت عثمانیہ کے ٹوٹنے تک مسلمانوں کے ہی ہاتھوں میں تھا ۔ اس وقت تو یہودی عیسائی جتنے بڑے دشمن تھے شائد کوئی نہیں تھا مگر آج وہ دونوں مل کر مسلمانوں کے دشمن ہیں ۔ قرآن گواہ ہے کہ یہودی عیسائی مسلمانوں کے کبھی حقیقی دوست نہیں ہوسکتے ۔فلسطین کو سب سے پہلے یو ائن پلان کے تحت ڈیوائڈ کیا گیا تقریبا 1946 سے پہلے فلسطین میں اسرائیل کا کوئی وجود نہیں تھا پھر یہودی چونکہ طاقت میں ,ٹیکنا لوجی میں ,ہتھیار میں بہت طاقت ور بن چکے تھے اور آج بھی ہیں انہوں نے اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چھوٹے چھوٹے حصہ پر قبضہ کرنا چالو کیا اور مسلمانوں کی خون سے ہولیاں کھیلنے لگے اس میں ان کا ساتھ امریکہ دیا کیونکہ امریکہ کا ملکی سطح پر انکم سورس ساٹھ پرسنٹ ہاتھیاروں پر مبنی ہے ۔یہ بھی ممکن ہے کہ اندر سے کچھ شیعہ جو اہل سنت کے دشمن ہیں ان کا ساتھ دیئے ہوں ورنہ اصل لڑائی کچھ اور ہی ہے ۔کیونکہ فلسطین میں اس وقت حماس اہل سنت کی جماعت ہے جس میں سلفی مجاہدین بھی شامل ہیں اور حزب اللہ شیعہ جماعت ہے ۔اس وقت دونوں نے مل کر اسرائیل پر حملہ کیا ہے کیونکہ فلسطینی مسلمان بلکل تھک ہار چکے ہیں ماضی میں بھی جان مال گھر سب قربان کیئے ہیں اب مرنا ہی ہے تو مار کے مریں گے یہ سوچ ہوسکتی ہے جبکہ یہ غلط قدم تھا کیونکہ بغیر مسلم ممالک کے سپورٹ کیے اسرائیل سے مقابلہ کرنا نا ممکن ہے ۔اپنے دفاع میں اسرائیل نے بھی حملہ کیا اور فلسطین میں کیا حال ہوا سب کو معلوم ہے اور اس بار ممکن ہے کہ فلسطین کو بلکل ختم کردے گا اگر انٹرنیشنل لیول پر دوسرے مسلم ممالک اسرائیل کے خلاف آواز نہیں اٹھائے یا فلسطین کا ساتھ نہیں دیئے تو ۔۔۔مسجد کی چار دیواری میں یا کسی درس گارہ میں یا دو پانچ سو اپنے لوگوں کے بیچ میں بولنا بہت آسان ہوتا ہے اور یہی کام صدیوں سے چلا آرہا ہے ۔کتابوں سے باتین نکال کر بیان کرنے اور ہم تو مجبور ہیں صرف دعا ہی کرسکتے ہیں یہ وہ بزدلی ہے جو آج سے پہلے کسی دور میں مسلمانوں سے نہیں ملتا ہے ۔ملکی تعلقات کو بچانے کے لیئے ,کبھی جمہوریت کے پیچھے چھپتے ہیں ,اپنے ملکوں کی ترقی اہم معلوم ہوتی ہے,عیاشیوں میں ڈوبے ہوئے ہیں کون جائے اسرائیل سے مقابلہ کرنے مسلمان کے خون بہہ رہے ہیں تو بہنے دو ظلم ہو رہا ہے تو ہونے دو کیا فرق پڑتا ہے کون سا ہمیں جانا ہے ہمیں تو بس بیانوں سے بزدلی دماغ بنانا ہے یا تو خون گرم کرنا ہے ۔یہ آپسی تفرقہ یہ آپسی لڑائیاں اسرائیل کو ساری کمزوریاں معلوم ہیں ۔اس نے دوسرے ممالک سے کاربار اتنا زیادہ مضبوط کرلیا ہے اسکے خلاف آواز اٹھانے کا سوچ بھی نہیں سکتے ۔ہمارے ملک کی بھی ایک آنکھ پھوٹ چکی ہے فلسطین میں مسلمانوں کے ساتھ ,معصوم بچوں کے ساتھ, بوڑھی ماوں کے ساتھ ,نواجون کے ساتھ ,مساجد کے اندر گھس کر جو کچھ ظلم و زیادتی ہوئی وہ نظر نہیں آئی مگر جیسے ہی فلسطین نے اپنے حق کے لیئے اٹھا ہمارے ملک کو اسرائیل پر بڑا رحم آگیا اب فلسطین کے مقابل میں انڈیا اسرائیل کا ساتھ دے رہا ہے ۔مسلمان اندر سے کس قدر کھوکھلے ہوچکے ہیں یہ دنیا کی ساری قوموں کو معلوم ہوچکا ہے بس ہمیں ہی نہیں معلوم پڑ رہا ہے اب دیکھ لیں ناں جو کبھی آواز اٹھانے کی ہمت نہیں کرتے تھے وہی غیر مسلم آج انڈیا میں کھل کر گالی دیتے ہیں رسول کی توہین کرتے ہیں قرآن کی توہین کرتے ہیں اللہ کو گالی دیتے ہیں جب جب موقعہ ملتا ہے مسلمانوں کا گاجر مولی کی طرح کاٹتے ہیں کیونکہ اس ٹیکنا لوجی کے دور میں ہم نے ہی آپس کے اختلاف و انتشار کو دوسری قوموں کے سامنے رکھا ہے اب ان کو معلوم ہے کہ ہم جب چاہیں جو کرے یہ آپس میں ہی دشمن ہیں تو مل کر ہمارا مقابلہ کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا اور زیادہ سے زیادہ یہی کرسکتے ہیں دعائیں کریں گے یا کچھ لوگ مل کر احتجاج کریں گے ریلی نکالیں گے اور خاموش ہوجائیں گے ۔
یاد رکھو! جب تک ہمارے رہنما لوگ ملت کی سوچ کو نہیں بدلیں گے مقاصد کو نہیں سمجھائیں گے عملی کاموں کی طرف رغبت نہیں دلائیں گے کچھ عملی کام نہیں کریں گے آپسی اختلاف و انتشار بیٹھ کر حل نہیں کریں گے ایک دوسرے کو گلے لگا کر ایک دوسرے کو برداشت نہیں کریں گے جب تک ایک لاکھ کتابیں لکھ ڈالیں روزانہ پروگام کراتے ہیں پانچ سو سال میں بھی کچھ بھی نہیں کرپائیں گے۔
اسرائیل ایک معمولی تعداد والی قوم ہے مگر طاقت میں سپر پاور کیوں ہے کیونکہ اسلام کے خلاف مسلمانوں کے خلاف اپنی حکومت کرنے کا مقاصد پر انہوں نے عملی کام کیا ہے انہوں نے ہمارے گھروں میں اپنا سامان بیچ کر ہم سے پیسہ لیتے ہیں اور ہمیں خریدنے پر مجبور کرتے ہیں کیونکہ اس کا بدل ہمارے مسلمانوں کے پاس نہیں ہیں ۔انہوں نے پوری دنیا میں اپنا سامان بیچ کر پیسہ لیئے اور جب پیسہ میں آگے نکلے تو اسی پیسہ سے امریکہ اور دوسرے ممالک سے ہتھیار لیئے اور خود نہ جانے کتنے ٹیکنا لوجی و ہتھیار کو ایجاد کیئے اور پھر انہی ہتھیاروں سے مسلمانوں پر حملہ کرتے ہیں ۔جب جب ایسا ہوتا ہے شوشل میڈیا پر ایک دو باتیں سننے ملتی ہیں کسی کی سازش ہے کوئی ملا ہوا ہے یا تو ہم مجبور ہیں صرف دعا ہی کرسکتے ہیں ۔بس ۔جبکہ تعداد میں دنیا کی دوسری سب سے بڑی تعداد ہم ہیں ,پیسہ میں ہم ہیں ,ایمانی جذبہ ہمارے پاس ہے ,سالہا سال حکومت ہم نے کیا ہے مسجد و مدارس ہمارے پاس ہے جن کے پاس کچھ نہیں تھا اور مٹھی بھر کے ہیں انہوں نے میدان میں آکر ہمارے ہی سامنے سب کچھ حاصل کرلیا اور ہم صرف الزام اور دعا کی حد تک محدود رہ گئے ۔ وقت کا تقاضہ ہے اب بھی ہوش میں آجائیں۔ ہم نے اپنے ہی ملک میں ماضی میں اور آئے دن کچھ نہ کچھ فلسطین میں ہوئے ظلم کی طرح دیکھ رہے ہیں ۔وہ دن دور نہیں جب ہمارے خلاف دشمن کھل کر آجائیں گے اس وقت کیا کریں گے جب ہمارے عورتوں کی عزت پر حملہ ہوگا ,ہمارے بچوں کے گلے کاٹے جائیں گے ظلم و ستم کھل کر کیا جانے لگا تب گھر میں بیٹھ کر دعائیں کریں گے یا مسجد و مدارس میں درس دیں گے؟ وقت کو بدلنا ہمارے ہاتھ میں اور ہمارا ساتھ دینے کے لیئے سب سے بڑی طاقت جس کے سامنے کسی کی کوئی طاقت کام نہیں آئے گی وہ اللہ کی ذات ہے ۔ کیا اللہ کی مدد اولین مسلمانوں کے ساتھ نہیں تھی؟ قرآن گواہ ہے کہ کافروں کا قتل کرنا اللہ نے اپنے اوپر لے لیا اللہ نے کہا کہ اے ایمان والو تم نے نہیں قتل کیا ہم نے قتل کیا ہے اور اے رسول مٹی آپ نے نہیں پھینکی تھی ہم نے پھینکی تھی ۔اور قربان جائیں اللہ کے اس جملے پر کہ دشمنان اسلام کو کمزور کرنا تھا۔ اس لیئے اللہ نے یہ کام مومنین کے ہاتھوں سے کرایا تھا۔ اس سے بڑھ کر قربان جائیں اللہ کہتا ہے کہ اے کافروں اگر تم باز آجاو تو اب بھی تمہارے لیئے بہتر ہے ورنہ پھر تم تعداد میں جتنا آنا چاہو آجاو تمہاری تعداد تمہاری طاقت تمہارے کچھ کام نہیں آئے گی کیونکہ تمہارے خلاف میں ,میں اپنے مومن بندوں کے ساتھ ہوں۔ سورة انفال۔ ہائے ہائے قربان جاوں اللہ کے اس حوصلہ افزائی پر ۔مگر شاید ہمارے اندر اسی یقین کی کمی آچکی ہے۔
دشمنان اسلام و مسلمان اندر سے مل چکے ہیں ہمیں ایک ہونے کی ضرورت ہے۔ہم آگے بڑھیں یقین اللہ پر رکھیں سب کچھ اسکے ہاتھ میں ہے بس ہمیں آگے بڑھ کر عملی میدان میں کوشش کرنا ہے ۔اللہ کی ذات کو اپی طاقت بنائیں اپنا یقین مضبوط رکھیں پھر دیکھیں ہماری کاوش پر اللہ کی مدد کیسے آتی ہے ۔
