قسط ٥
محمد سعید اللہ مہراج گنج
صحابہ کا مقام قرآن میں
( ٢) وكذلك جعلنكم امةً وسطاً لتكونوا شهداء على الناس ويكون الرسول عليكم شهيداً. (البقرة١٤٣)۔
اسی طرح ہم نے تم کو نہایت معتدل امت بنایا تاکہ تم ( آخرت میں) لوگوں کے بارے میں گواہی دو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے بارے میں گواہی دیں۔
یعنی جیسے تمہارا قبلہ کعبہ نہایت صحیح، معتدل اور تمام قبلوں سے افضل ہے اسی طرح تم (صحابہ کرام اور ان کے متبعین) بھی نہایت معتدل اور افضل امت ہو،اور اسی فضیلت وکمال ہی کی وجہ سے تم آخرت میں دوسری امتوں کے بارے میں گواہ مقبول الشھادت قرار دیئے جاؤگے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری عدالت و صداقت کی گواہی دیں گے۔ وسط کے معنی بالکل بیچ کا راستہ ہیں جو سب سے سیدھا اور معتدل ہوتا ہے، یہ لفظ عربی زبان میں انتہا کی تعریف اور مدح کے لئے استعمال ہوتا ہے،اس آیت میں صحابہ کرام اور ان کے متبعین کے بڑے شرف اور عظمت کا ذکر ہے۔ (معارف القرآن ج ٨ ص ٥٤٤)
( ٣) فالذين آمنوابه وعزّروه ونصروه واتّبعوا النور الذي أنزل معه، أولئك هُم المفلحون. (الأعراف ١٥٧)
سو جو لوگ ان( نبی صلی اللہ علیہ وسلم)پر ایمان لائے، اور ان کی تعظیم کی اور ان کی مدد کی،اور اس نور(قرآن و سنت) کی اتباع کی جو ان کے ساتھ اترا ہے، ایسے ہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں ۔
اس آیت میں کامیابی کو جن چار شرطوں کے ساتھ مشروط کیا گیا ہے وہ بحمداللہ صحابہ کرام میں بدرجہ اتم موجود تھیں ۔ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نہ صرف آپ پر ایمان لائے، بلکہ انہوں نے آپ کی محبت و تعظیم، امداد و اعانت اور اتباع کامل کا ایسا بے مثال نمونہ پیش کیا جس کی نظیر پیش کرنے سے تاریخ کے اوراق قاصر ہیں۔
(٤) والسابقون الأوّلون من المهاجرين والأنصار والذين اتبعوهم بإحسان رضي الله عنهم و رضوا عنه وأعد لهم جنت تجري تحتها الأنهار خلدين فيها أبداً ذلك الفوز العظیم ۔
اور جو مہاجرین وانصار ایمان لانے میں سب سے سابق اور مقدم ہیں، اور بقیہ امت میں جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں، اللہ تعالی ان سب سے راضی ہوا اور وہ سب اس سے راضی ہوئے، اور اللہ تعالی نے ان کے لئے ایسے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، وہ ان باغات میں ہمیشہ رہیں گے، یہ عظیم کامیابی ہے۔
اس آیت میں ان صحابہ کرام کا ذکر ہے جو اولین ایمان لانے والے ہیں، خواہ وہ مدینہ طیبہ کے رہنے والے انصار ہوں یا باہر سے آنے والے مہاجرین ہوں، پھر یہ بھی مذکور ہے کہ اس فضیلت میں بعد میں ایمان لانے والے صحابہ کرام اور ان کے بعد کے اہل ایمان بھی شریک ہیں ۔ (معارف الحدیث ص٥٤٦).
علامہ شبیر احمد عثمانی اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے رقم طراز ہیں: یہ ان اعیان مومنین کا ذکر ہے جنہوں نے ہجرت میں سبقت کی اور اوّلیت کا شرف حاصل کیا ،اور جن انصار نے نصرت واعانت میں پہل کی۔ غرض جن لوگوں نے قبول حق اور خدمت اسلام میں جس قدر آگے آگے بڑھ بڑھ کر حصے لئے، پھر جو لوگ نکو کاری اور حسن نیت سے ان پیش روانِ اسلام کی پیروی کرتے رہے،ان سب کو درجہ بہ درجہ خدا کی خوشنودی اور حقیقی کامیابی حاصل ہو چکی، جیسے انہوں نے پوری خوش دلی اور انشراح قلب کے ساتھ حق تعالی کے احکام تشریعی اور قضاء تکوینی کے سامنے گردنیں جھکادیں، اسی طرح خدا نے ان کو اپنی رضاء اور خوشنودی کا پروانہ دے کر غیر محدود انعام و اکرام سے سرفراز فرمایا۔ (تفسیر عثمانی ٢٦٨).
علامہ ابن کثیر اس آیت کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں: يا ويل من أبغضهم او سبهم أو سب بعضهم……. فأين هؤلاء من الإيمان بالقرآن إذ يسبون من رضي الله عنهم. (ابن كثير) ایسے لوگوں کے لئے دردناک عذاب ہے جو صحابہ کرام یا ان میں سے بعض سے بغض رکھیں ، ان کو برا کہیں، ان لوگوں کا ایمان بالقرآن سے کیا واسطہ جو ایسے لوگوں کو برا کہتے ہیں، جن سے رضامندی کا خود اللہ تعالی نے اعلان فرمایا ہے۔ علامہ ابن عبد البر مقدمہُ استیعاب میں یہی آیت نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں : ومن رضي الله عنه لم يسخط عليه ابداً انشاء الله تعالى . اللہ تعالی جس سے راضی ہوگیا پھر انشاءاللہ اس سے کبھی ناراض نہیں ہوگا۔ (مقام صحابہ ص١٨ )
محمد بن کعب قرظی سے کسی نے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ سب کے سب جنت میں ہیں اگرچہ وہ لوگ ہوں جن سے دنیا میں غلطیاں اور گناہ بھی ہوئے ہوں، اس شخص نے آپ سے دریافت کیا کہ یہ بات آپ نے کہاں سے کہی ہے؟انہوں نے فرمایا کہ قرآن کریم کی یہ آیت پڑھو: السابقون الاوّلون… اس میں تمام صحابہ کے متعلق بلا کسی شرط کے رضي الله عنهم ورضوا عنه ارشاد فرمایا ہے، البتہ تابعین کے معاملہ میں اتباع باحسان کی شرط لگائی گئی ہے، جس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام بلا کسی قید و شرط کے سب کے سب بلا استثناء رضوان الہی سے سرفراز ہیں۔ (معارف القرآن ج٤ ص٤٥٠)
( ٥ ) لا يستوي منكم من أنفق من قبل الفتح و قاتل أولئك أعظم درجةً من الذين أنفقوا من بعد و قاتلوا وكلاً وعد اللہ الحسنی۔
تم میں سے جو لوگ فتح مکہ سے پہلے(فی سبیل اللہ) خرچ کر چکے اور لڑ چکے برابر نہیں ۔ وہ لوگ درجہ میں ان لوگوں سے بڑے ہیں جنہوں نے فتح مکہ کے بعد میں خرچ کیا اور لڑے اور (ویسے تو) اللہ تعالی نے بھلائی (یعنی جنت) کا وعدہ سب سے کر رکھا ہے۔
اس آیت میں پوری صراحت کے ساتھ یہ بیان کر دیا گیا ہے کہ صحابہ کرام اوّلین ہوں یا آخرین، سب سے اللہ تعالی نے حُسنی یعنی جنت کا وعدہ کر رکھا ہے۔ جامع ترمذی میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لا تمس النار مسلماً رآني أو رأى من رآني. کہ جہنم کی آگ اس مسلمان کو نہیں چھوسکتی جس نے مجھے دیکھا ہے یا میرے دیکھنے والوں کو دیکھا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس شخص نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے والے یعنی کسی صحابی کو دیکھا ، وہ جنت میں جائے گا بشرطیکہ اس کا خاتمہ ایمان و اسلام پر ہوا ہو۔
(جاری)
