گھریلو اجتماع میں’’ گفتگواور دماغی صحت‘‘ سے متعلق کئی نکات سامنے آئے
بیدر 15؍اکٹوبر (محمدیوسف رحیم بیدری): کامیاب خاندانی زندگی کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہر ماہ کم ازکم ہم اپناجائزہ لیتے رہیں۔ یہ دنیا کی زندگی عارضی ہے ۔ اس کے بعد جو زندگی آئے گی وہ پائیدار اور ہمیشہ باقی رہنے والی ہے اس کے لئے ہمیں تیاری کرنی چاہیے۔ یہ باتیں محترمہ وائفہ اشرف نے کہیں۔ وہ آج اتوار کو اپنی رہائش گاہ پتال نگری بید رمیں ’’گھریلو اجتماع‘‘سے خطاب کررہی تھیں۔ انھوں نے قرآنی آیات پڑھ کرسناتے ہوئے کہاکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’اے لوگو! جوایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرواور ہر شخص یہ دیکھے کہ اس نے کل کیلئے کیاسامان کیاہے ۔ اللہ سے ڈرتے رہو ، اللہ یقینا
تمہارے ان سب اعمال سے باخبر ہے جو تم کرتے ہو(سورہ حشر ، آیت 18) ۔ ام سلمہ عرف مثیرہ نے ’’گفتگو کے آداب ‘‘ پیش کرتے ہوئے کہاکہ ہمیشہ سچ بولیں، ضرورت کے وقت ہی بات کیجئے گا۔ جب بھی بات کیجئے نرمی کے ساتھ اورمیٹھے لہجے میں بات کیجئے۔ درمیانی آواز میں بولیں‘‘اس موقع پر تمام بچوں نے عزم کیاکہ وہ سچ بولیں اور جھوٹ سے سختی سے پرہیز کریں گے۔ ایک دوسرے کوطعنہ نہیں دیں.
گے۔ محمدابوالاعلیٰ نے جناب افضل حسین ؒصاحب کی کتاب’’ اخلاقی کہانیاں حصہ سوم‘‘ سے دوسری کہانی ’’سادگی ‘‘ پڑھ کر سنائی جو حضرت سلمان فارسیؓ کی زندگی سے متعلق ہے۔ اور بتایاکہ حضرت عمر فاروق ؓ کے زمانے میں سلمان فارسی ؓ مدائن کے گورنر بنائے گئے۔ پانچ ہزار دینارسالانہ تنخواہ مقرر ہوئی لیکن وہ اس تنخواہ کو غریبوں اور مسکینوں میں تقسیم کردیتے تھے۔ اور خود چٹائی بن کرروزی کماتے تھے۔ انھوں نے اپنے لیے گھر نہیں بنایا۔ درختوں اور دیواروں کے سائے میں آرام کرتے۔ ایک پیالہ اور ایک لوٹایہی کچھ ہمارے گورنر حضرت سلمان فارسی ؓ کاجملہ سامان تھا۔ اس کے بعد انھوں نے شرکائے اجتماع سے سوالات بھی کئے جس کے مناسب جوابات موصو ل ہوئے۔ محمد عمر فاروق طالب علم نے ’’زیادہ وقت بیٹھ کرگزارنا دماغ کیلئے تباہ کن‘‘ نامی مضمون پڑھ کر سنایااور بتایاکہ جو لوگ اپنازیادہ وقت بیٹھ کرگزارتے ہیں وہ درحقیقت اپنے دماغ کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ تحقیق سے پتہ چلاہے کہ زیادہ دیر بیٹھنے والوں کے دماغ کا حجم 20%تک کم ہورہاہے لہٰذا بیٹھ کرکام کرنے والوں کوچاہیے کہ وہ اٹھ کر چلتے رہیں ۔
دعا پر یہ گھریلو اجتماع اپنے اختتام کوپہنچا۔ اپیل کرتے ہوئے کہا گیا کہ امت مسلمہ کے ہرگھر میں ’’گھریلواجتماع‘‘ کا انعقاد عمل میں لایاجائے تو ملت کی موجودہ اور آنے والی نسل کی تربیت کا کام بحسن وخوبی انجام پاسکتا ہے۔ اب تک تربیت کا کام اسکول؍مدرسہ ؍جلسہ جلوس اور دینی جماعتیں کرتی رہی ہیں۔ اب والدین کو آگے بڑھ کر اپنے گھروں میں خصوصی طورپر بچوں کی تربیت کا اہتمام کرنا ہوگا۔
