کرکٹ کے ورلڈکپ میں شرکت کرنے بھارت آئی افغانستان کی ٹیم نے کل شام دلی کے فیروز شاہ کوٹلہ جواب (ارون جیٹلی کرکٹ اسٹیڈیم ہوگیا ہے)میں دفاعی چمپئن اور کرکٹ کے موجد ملک انگلینڈ کو چارو خانے چت کردیا ۔میری طرف سے اس افغانی ٹیم کو بہت بہت مبارک باد ۔ نادم بلخی کا ایک شعر اس افغانی ٹیم کے نذر

ہرجہد مسلسل سے میری ایک شان نمایاں ہوتی ہے
جو غم کا مداوا ہوتی ہے جو درد کا درماں ہو تی ہے

افغانستان کا نام آتے ہی ذہن ودماغ میں مفلسی ،تباہی،بربادی اور کمپرسی سے پر ایک فلم چلنے لگتی ہے ،جہاں حالیہ بیس برسوں میں زندگی بخشنے والی بارش کم اورگولے بارود کی بارش قدرے زیادہ ہوئی ہے ۔جہاں نہتھے ،معصوم،خداپرست انسانوں کو ان کی انسانیت کی سزا سوکال مہذب اور ترقی پسند ملکوں نے دیا،جہاں معصوم بچوں نے ماں کی سوکھ چکی چھاتی سے منھ لگاکر خدا کی قدرت کے کرشمے دکھائے اور گولے ،بارودکے دھوئیں میں پل کر میزائلوں اور ٹینکوں کے نیچے چل کر کھلے آسمان تلے پلنے والی قوم کے کچھ ہونہار نوجوانوں نے فیروز شاہ کوٹلہ کے میدان میں ورلڈ کپ کے دوران شریف اور مہذب لوگوں کے اس کھیل میں بڑے شریفانہ طور پر انگلیڈ کی ٹیم کو اس کھیل کے ہر شعبے میں مات دے کر اپنے جہد مسلسل سے ناکامیوں اور محرومیوں کی ایک دیوار کو منہدم کردیا ۔
یقیناً افغانستان کی ٹیم نے جہد مسلسل سے ایک تاریخ رقم کردی ۔جس میں افغانستان کے ان غموں کا مداوا بھی ہے جو غم پچھلے دو دہائیوں میں افغانستان کا مقدر بنا دیا گیا تھا۔اور اس جیت میں اس درد کا درماں بھی ہے جو درد دنیا کی مہذب ترین قوموں نے افغانستان کے لوگوں کو دیا ہے۔
افغانستان کی ٹیم نے بے سروسامانی اور وسائل کی کمی کے باوجود جہد مسلسل سے جو جذبہ پروان چڑھایا ہے ان شاءاللہ وہ جذبہ سرد نہیں ہوگا۔
بڑی کم ظرفی ہوگی اگر اس موقع پر بھارت کے کرکٹ کوچنگ اکیڈمیوں اور آئی ۔پی۔یل کی فرنچائز کمیٹیوں کا شکریہ ادا نہ کیا جائے جنھوں نے افغانی کھلاڑیوں پر بھروسہ جتاکران کو اس بڑے ایونٹ میں شرکت کے لیے مدعو کیا ۔جس کا خاطر خواہ فائدہ ان کو ورلڈ کپ کے میچوں میں ملنے کے آثار نظر آرہے ہیں ۔

روشن شرر تیشہ سے ہے خانہء فرہاد
بے محنت پیہم کوئی جوہر نہیں کھلتا

افغانستان کرکٹ ٹیم کے نوجوانوں نے محنت پیہم سے جو جوہر کل شام کوئلہ کرکٹ گراؤنڈ پر دکھاۓ وہ سالوں یاد رکھا جاۓگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے