مہراج گنج (اشفاق اللہ خان ندوی) 30/اکتوبر: کل بتاریخ 30/ اکتوبر بروز پیر بعد نمازعشاء سر زمینِ نارائن پور کشی نگر میں ایک اجلاس عام حضرت مولانا وصی اللہ صاحب کے سر پرستی میں منعقد کیا گیا نظامت کے فرائض بہترین شاعر اور ادیب حضرت مولانا نعیم اللہ اطہر قاسمی صاحب نے انجام دیے اور شاعر چمنستان نبوت حضرت قاری سہیل احمد صاحب کشی نگری نے مختلف لب و لہجے میں نعتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا ترانہ گنگنایا اجلاس کے مقرر خصوصی رہے حضرت مولانا اشفاق اللہ خان ندوی نے سامعین کو مخاطب کرتے ہوئے انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ اور آپ کے حیات مبارکہ کی روشنی میں زندگی گزارنے کی تلقین کی. مولانا نے فرمایا حالات جس طرح سے بھی ہوں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ اور آپ کی حیات مبارکہ ہماری رہنمائی کرنے کے لئے کافی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی اور کے رہنمائی کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مقدس میں یہ اعلان کر دیا ہے لقَد کان لکُم فی رسول اللہ اسوۃٌ حسنۃ ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے ، نیز آپ نے سامعین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ اتنے عظیم الشان پیغمبر کے امتی آج ذلیل و رسواء ہو رہے ہیں جن امتیوں کو قرآن کریم نے كُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ اور وَ لَا تَهِنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ۔ کا پروانہ دل نواز سنایا اور جن امتیوں کے بارے میں علامہ اقبال نے کہا تھا:

تھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میں
خشکیوں میں کبھی لڑتے، کبھی دریاؤں میں
دِیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میں
کبھی افریقہ کے تپتے ہوئے صحراؤں میں
شان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہاںداروں کی
کلِمہ پڑھتے تھے ہم چھاؤں میں تلواروں کی

لیکن اسی امت کے زبوں حالی کےسلسلے میں آج کا شاعر یہ کہنے پر مجبور ہے کہ

آپ جا نکلیں کسی سمت کہیں سیر کناں
ٹوٹے پھوٹے سے مکانات نظر آئیں وہاں
ہو کا عالم در و دیوار سے ہوتا ہو عیاں
طود مطبخ سے نکلتا ہوا آہوں کا دھواں
کہیں حسرت کی قبر ہو کہیں ارمانوں کی
بس سمجھ لو! کہ یہ بستی ہے مسلمانوں کی.
آج ٹوٹنا پھوٹنا ہمارا مقدر بن چکا ہے

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اور آپ زندگی کے ہر گوشے میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ اور آپ کے حیات مبارکہ کو سامنے رکھ کر زندگی گزاریں ، اخیر میں انہوں نے یہ شعر کہتے ہوئے اپنی بات کو مکمل کیا

اٹھو!! مومنوں آج سے عھد کر لیں
حبیبِ خدا کی اطاعت کرینگے
عقیدت کے پہلو بہ پہلو عمل سے
حقیقت میں تعمیلِ سنت کرینگے
وہ تابندہ اسلام جو رہ گیا ہے
کتابوں کے اوراق میں دفن ہو کر
وفا کوشیوں سے جفا کوشیوں سے
زمانے میں اس کی اشاعت کرینگے

اخیر میں حضرت مولانا جاوید احمد صاحب قاسمی کے پر مغز بیان اور مختصر دعا کے ذریعے اجلاس کا اختتام ہوا.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے