رفیع نعمانی مہراج گنج
امامت کرنا ایک بہت مہتم بالشان اور عمدہ عمل ہے ۔جس سے مسلمانوں کو ایک امام سے دن رات میں کم از کم پانچ مرتبہ سابقہ پڑتا ہے ۔روز مرہ کے پیش آمدہ شرعی مسائل نکاح جنازہ ،جمعہ ،عیدین ،قربانی، عقیقہ وغیرہ وغیرہ انہیں اماموں سے انجام پاتے ہیں فاتحہ، میلاد تیجہ، دسواں ،چالیسواں ،برسى قرآن خوانی اور دیگر امور انہیں اماموں سے وابستہ ہیں امام مسجد کا بہت بڑا رتبہ ہے احادیث میں بہت سے فضائل بیان کئے گئے ہیں دور نبوی میں کوئی ایسى مثال نہیں ملتى ہے کہ خود رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے کبھى اذان دى ہو اس زمانے سے باضابطہ ایک مؤذن مساجد میں ہوتے تھے مگر اس زمانے میں امام اس لیے رکھے جاتے ہیں کہ وہ مسجد کی صفائی ستھرائی کرےوضوخانہ، استنجاء خانہ، بیت الخلاء کى بھی صفائی کرے ٹنکى میں پانى بھردے پانچ وقت بالکل گھڑى کے مطابق نماز بھی پڑھائے اگر ایک منٹ بھی تا خیر ہوجائے تو کچھ دبنگ اور نیتا قسم کے مقتدى لعن طعن شروع کردیتے ہیں اس امام پر اتنا برس پڑتے ہیں جیسے کہ اس کا منہ نوچ لیں گے نماز کے بعد وہ امام بیچارہ اتنا سہم جاتا ہے جیسے کہ کوئی بہت بڑا مجرم عدالت میں یا تھانے میں ایس پی کے سامنے کھڑا ہو اگر کوئی وقت پر اذان دینے نہیں آیا تو مؤذن کے فرائض بھی انجام دے، بچوں کو مکتب بھى پڑھائے۔ اتنے سارے کاموں کو چوبیس گھنٹے قید بامشقت رہ کر کرنے والے کی تنخواہ بس تین ہزار روپئے سے شروع ہوکر آٹھ ہزار روپے تک ہے۔ مہنگائی آسمان چھو چکى ہے، پھر بھی امام کوئی فرشتہ ہے کیا؟ کیا اس کے بیوی بچے ماں باپ بھائی بہن اعزاء اقرباء نہیں ہیں؟ کسى کی شادى اور خوشى کے موقع پر شریک کس طرح ہوگا؟ کیا یہ قوم بالکل اندھى بہرى گونگى ہوگئی ہے؟!
آج اس قوم کی زبوں حالی پر امام ہی دعا بھی کرتا ہے ان کے مریضوں کو دعا بھی کرتا ہے بھلا بتلائے کوئی اس کی دعا قبول ہو سکتى ہے اگر چھٹی لے کر گھر جائے اور ایک دن لیٹ ہوجائے تو متولی صاحب طرم خان جیسے رعب جما کر ڈانتے ہیں کی تاخیر کیسے ہوگئی آپ کو اسی لئے تنخواہ دی جاتی ہے کی گھر رہیں اب تو باقاعدہ طور پر امام پر سیاست بھی کی جاتی ہے اور امام کو مہرہ بنایا جاتا ہے کہیں کہیں پر تولوگ امام کے پیچھے ہاتھ دھوکر پڑجاتے ہیں اور کڑی نظر سے دیکھتے ہیں اتنا تو وہ اپنے بیوی اور بچیوں پر کڑی نگاہ نہیں رکھتے کی بیوی اور بچیاں کہاں آتی جاتی ہیں کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ گھر میں کچھ نہیں چلتی تو وہ امام پر آکر چلتا چلاتے ہیں الٹا سیدھا بکتے رہتے ہیں گویا اب ایک امام آزاد رہ کر بھی غلامی کی زندگی جینے پر مجبور ہے گورکھپور کی ایک مسجد کے ایک نہایت نیک دل امام جو عالم دین بھی ہیں وہ یہ کہہ رہے تھے کہ مسجد کے متولی صاحب صرف ایک دن مسجد میں جھاڑو نہ لگانے پر ڈانٹ پھٹکار کرنے لگے تو مجھے وہاں سے مجبور ہوکر نکل جانا پڑا ایسے ہی ایک امام نے بتایا کہ دو چار آدمی ایسے بھی ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ جب امام کو تنخواہ دی جاتی ہے تو عیدی اور قربانی وعقیقہ میلاد فاتحہ میں رقم کیوں لیتے ہیں یہ سب امور ان کو مفت میں کرنا چاہئے ایسے ہی ایک امام نے بتایا کہ سمجھو امامت کرنا جیل سے بدتر زندگی ہے کیوں کہ جیل میں صرف ایک ہی جیلر ہوتا ہے اور مسجد میں ہر مقتدی جیلر ہی ہوتے ہیں فرق یہ ہے کہ جیل میں عمدہ کھانا نہیں ملتا ہے اور یہ قوم مرغ کھلاکر اماموں کو مرغا بنانے پر تلی رہتی ہے۔
ایک جگہ ایک امام سے ایک جاہل نے کہا کہ امام صاحب آپ ہمیشہ استنجاء خانہ میں لوٹا بھر رکھ دیا کریں جب جب پانی نہ رہے ایسے ہی کرتے رہیں تبھی یہاں کے لوگ آپ کی عزت کریں گے ورنہ بھگادیں گے ایک مسجد کے امام اپنی آپ بیتی سنائی کی مغرب کے بعد روزانہ بلا ناغہ چند نمازیوں کے گھروں پر جاکر ان کے بیوی بچوں کو دعا پڑھ کر پھونکنا اگر کسی دن نہیں پہنچ پایا تو ملاقات ہوتے ہی کھری کھوٹی سناتے ہیں ابھی گزشتہ دنوں کانپور کی ایک مسجد کے امام نے خود کشی کرلی جو صرف پانچ ہزار پر مقرر تھا آخر اس قوم کی امامت کون کرے اگر حضرت عزرائیل علیہ السلام اور دیگر فرشتے کریں تو کیسا رہے گا لہذا اماموں کی قدر کرو ان کو اپنے سر کا تاج سمجھو ورنہ مسلمانوں تم اپنے امام کی ناقدری کر کے ذلت وخواری کےشکار بنوگے پھر انہیں اماموں سے دعا کے لیے کہتے پھروگے یا فرضی باباؤں کے پیچھے دم ہلاتے نظرآوگے۔اور وہ تمھیں لوٹ کر ذلیل وخوار کرتا رہےگا۔
