✍️احمد حسين مظاہری پرولیا

فی الوقت پوری دنیا میں انسان عام طور پر مختلف قسم کی ہمہ گیر اور وسیع مصائب اور آفات سے دوچار ہیں،ان ہی مصائب و آفات میں سے ایک زلزلہ ہے،انسانی زندگی پر زلزلے کے اثرات دیگر قدرتی آفات مثلاً سیلاب،طوفان، وبائی بیماریوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ گہرے اور دیرپا ہوتے ہیں، اکثر دیکھا جاتا ہے فلک بوس عمارتیں چند سیکنڈ میں زمین بوس ہوجاتی ہیں، زلزلہ انسانوں کے لئے بہت بڑی تباہی کا ذریعہ ہے، جس کی وجہ سے بڑے بڑے شہر اور علاقے تباہ و برباد ہو جاتے ہیں،پوری پوری بستیوں کا نشان صفحہ ہستی سے مٹ جاتا ہے۔۔

ہر کس و ناکس کے ذہن میں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ زلزلہ آتا کیوں ہے؟یاد رکھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مخلوق کے لئے وبال کبھی زلزلہ کی شکل میں آتا ہے، نیز انسانوں کے بُرےاعمال ہی زلزلہ آنے کی وجہ بنتے ہیں۔

چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے کسی نے پوچھا،ام المؤمنین زلزلے کیوں آتے ہیں؟ انہوں نے ارشاد فرمایا کہ جب عورتیں غیر مردوں کے لئے خوشبو استعمال کریں۔یعنی خاوند کے لئے نہیں بلکہ غیر مردوں کے لئے خوشبو لگا ئیں۔

دوسرا فر مایا کہ جب عورتیں غیر محرم مرد کے سامنےننگی ہونے میں جھجک محسوس نہ کریں ۔ یعنی زنا عام ہو جائے۔

تیسرافرمایا کہ جب شراب اور موسیقی عام ہو جائے ۔تو یہ وہ گناہ ہیں کہ جن کی وجہ سے تم زلزلوں کی توقع رکھنا۔

حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ فرماتے ہیں:

مَا ظَهَرَ فِي قَوْمِ الزِّنَا أَوِالرِّبَا إِلَّا أَحَلُوا بِأَنفُسِهِمْ عَذَابَ اللَّهِ

(الترغیب و ترہیب : ج ۴، ص ۸۵) جب کسی قوم کے اندر سود اور زنا یہ دو چیزیں عام ہو جاتی ہیں، وہ اپنے آپ کو اللہ کے عذاب کے لئے پیش کر دیا کرتی ہے)

معتبر ذرائع کے مطابق آج کل کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ زمین پر زلزلہ اس وقت آتا ہے کہ زمین کے اندر بہت زیادہ مقدار میں بُخارات جمع ہونے سے ایک ہائیڈ روجن اور اسٹیم بن جاتی ہے، یا پہاڑوں کے آتش فشاں کے گرد و پیش بخارات جمع ہو جاتے ہیں، اور وہ ایک دم باہر نکلنا چاہتے ہیں تو اگر زمین کے مسام ( باریک باریک سوراخ ) تنگ ہوں جس کی وجہ سے ان مسامات سے بخارات نہ نکل سکیں تو اُن کی وجہ سے زمین پر زلزلہ واقع ہوتا ہے، جیسا کہ آج کل کھانا وغیرہ پکانے کا پریشر کُو کر ہے کہ اگر اس کے نیچے آگ جلنے سے اندر زیادہ مقدار میں بخارات ( گیس ) جمع ہو جائیں اور اوپر سے سوراخ بند ہونے کی وجہ سے ان کو نکلنے کی جگہ نہ ملے تو ایک دم پَریشر کُو کر کو حرکت ہوتی ہے اور بعض اوقات یک لخت پھٹ بھی جاتا ہے۔ مگر اولاً تو ضروری نہیں کہ سائنس کا ہر مسئلہ صحیح اور حقیقت کے مطابق ہو،سائنس نے یہ تو بتادیا زلزلہ آنے کی وجہ؛ لیکن اِس کا حل اور ایسے موقع پر کیا کرنا چاہیے، یہ نہیں بتایا؛ لیکن اِسلام نے جہاں ایک طرف زلزلے کے اسباب بتائے،وہیں دوسری طرف اُس کا معقول اور مطمئن حل بھی بتایا ہے۔۔

حضرت جی پیر ذوالفُقار صاحب نقشبندی فرماتے ہیں:سائنس زلزلے کا مرکز،زلزلے کی شدت اور گہرائی تو بتاسکتی ہے؛ لیکن کب آئے گا؟ اور کہاں کہاں کتنی تباہی پھیلائے کا،اِس بارے میں باوجود اتنی ریسرچ کے سائنس گنگ ہوجاتی ہے قُلْ إِنَّمَا الْعِلْمُ عِندَ اللہِ وَإِنَّمَا أَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْن (الملک:۲۶) کہہ دو کہ اِس کا علم تو فقط اللہ ہی کے پاس ہے میں تو صرف ڈرانے والا ہوں۔۔

حضرت مولانا محمدیوسف صاحب لدھیانویؒ لکھتے ہیں:زلزلہ کے کچھ اسباب بھی ہیں،جن کو طبقات ارض کے ماہرین بیان کرتے ہیں؛ مگر ان اسباب کو مہیاکرنے والا ارادہٴ خداوندی ہے اور بعض دفعہ طبعی اسباب کے بغیر بھی زلزلہ آتا ہے، بہر حال ان زلزلوں سے ا یک مسلمان کو عبرت حاصل کرنی چاہیے اور دعا واستغفار، صدقہ وخیرات اور ترکِ معاصی کا اہتمام کرنا چاہیے۔۔

مفتی محمدرضوان راولپنڈی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں:احادیث اور روایات سے زلزلہ سے حفاظت کے لئے چند اسباب و آداب معلوم ہوتے ہیں،جو کہ درج ذیل ہیں:

(1) توبہ و استغفار کا اہتمام کرنا۔

(۲) امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا اہتمام کرنا

(۳)دعا کا اہتمام کرنا ۔

(۴) زکاۃ وصدقات کا اہتمام کرنا۔

(۵)فرض اور نفل نمازوں کا اہتمام کرنا۔

عوام میں جو رائج ہے کہ زلزلے کے وقت اذانیں کہنے لگتے ہیں شرعی دلائل سے اس کا ثبوت نہیں۔

حضرت جی پیر ذوالفُقار صاحب نقشبندی اپنی کتاب (زلزلہ) میں لکھتے ہیں:ذہن میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب زلزلہ آئے تو کیا کریں۔

علامہ ابن قیم ؒنے الجواب الکافی میں یہ بات لکھی کہ عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ جو خلیفہ عادل تھے،ان کے بارے میں آتا ہے کہ انہوں نے ایک حکم نامہ لکھوایا اور جہاں تک بھی ان کی حکومت تھی مختلف بڑے بڑے شہروں میں بھیجوایا ۔ اور اس میں انہوں نے فرمایا کہ دیکھو اگر کہیں تمہیں زلزلہ پیش آئے تو تم چار کام کرنا۔سب سے پہلے اللہ رب العزت سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنا،استغفار کرنا۔ اللہ رب العزت کے سامنے اپنے قصوروں کا اعتراف کر لینا،اپنی غلطیوں کومان لینا اور اللہ رب العزت کے سامنےسچی تو بہ کر لینا، یہ پہلا کام کرنا۔ اور دوسرا کام فرمایا کہ تم انفرادی طور پر اللہ تعالیٰ سے دعا ئیں کرنا، آہ وزاری کرنا، اپنے گھروں میں چاہو یا مساجد میں چاہو، انفرادی اور پر اکیلے اکیلے میں ۔ اور تیسری بات فرمائی کہ اگر تم چاہو تو اجتماعی طور پر بھی کھلے میدان میں نکل کراپنے رب کو منانے کیلئے دعائیں کرنا۔

اور چوتھی بات کہی کہ تم اپنے مال کو اللہ کے راستے میں صدقہ کرنا ،صدقہ آنےوالی بلاؤں کو ٹال دیتا ہے۔۔

صاحبِ بدائع علاّمہ کاسانیؒ نے یہ اصول قائم کیا ہے کہ ہر گھبراہٹ کے موقع پر نماز پڑھنی چاہیے،زلزلہ بھی ان مواقع میں سے ہے؛ لہٰذا فرداً فرداً مسلمانوں کو نماز ادا کرنی چاہیے، اور تضرع کے ساتھ دعائیں کرنی چاہیے،اور یہ نماز دو رکعت عام نمازوں کی طرح ہوگی؛ البتہ مکروہ وقت میں نہ پڑھی جائے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ انھوں نے بصرہ میں زلزلہ کی بنا پر نماز پڑھی ہے۔ (شامی/٢/١٨٣،بدائع الصنائع ۱/۲۸۲)

زلزلے کے موقع پر مذکورہ دعاؤں کاوِرد رکھنا چاہیے، حضرت عمر بن عبد العزیزؒ نے اِس موقع پر لوگوں کو تین دعاوٴں کے اہتمام کی تاکید کی تھی، یہ تینوں دعائیں، قرآنی دعائیں ہیں؛ اِس لیے اِن کی اہمیت اور تاثیر کا انکار نہیں کیا جاسکتا:

۱- حضرت آدم علیہ السلام کی دعا: رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَکُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِیْن (الاعراف:۲۳)

 

۲- حضرت نوح علیہ السلام کی دعا: وَإِلاَّ تَغْفِرْ لِیْ وَتَرْحَمْنِیْ أَکُن مِّنَ الْخَاسِرِیْنَ (ہود:۴۷)

 

۳- حضرت یونس کی دعا: لاإِلَہَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَکَ إِنِّیْ کُنتُ مِنَ الظَّالِمِیْن (انبیاء:۸۷) (زلزلہ /٥٢ /الجواب الکافی،ص:۴۷)

ایسے موقع پر ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کے آگے روئیں گڑ گڑا ئیں اور اپنے تمام گناہوں سے سچی اور پکی تو یہ کریں۔ کیونکہ اللہ کے عذاب سے بچنے کا یہ واحد نسخہ ہے۔

قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ برملا ارشاد فرماتے ہیں: وَمَا كَانَ اللهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأنتَ فِيهِمْ وَ مَا كَانَ اللهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُم يَسْتَغْفِرُونَ (الانفال /۳۳)[ترجمہ :اللہ انہیں عذاب نہیں دے گا جب تک کہ آپ ان میں موجود ہیں اور عذاب نہیں دے گا جب کہ وہ استغفار کرتے ہوں]

اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن واحادیث کی مذکورہ بالا باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین)۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے