ابو احمد مہراج گنج
گزشتہ دنوں "یوم اردو” کے نام سے ہونے والے بہت سے پروگرام کی رپورٹس اور خبریں دیکھنے پڑھنے اور سننے کو ملیں، جن کو عام طور پر اردو کے مستقبل کے لیے خوش آئند اور نیک فال قرار دیا جاتا ہے ۔
بھارت میں اردو زبان کی بیسک اور بنیادی تعلیم مسجد کے زیر انتظام چلنے والے مکاتب یا دینی مدارس کے ذریعہ ہی ہوتی ہے یا کچھ پرائیویٹ اسکول وکالج کے ذریعہ ہوجاتی ہے۔ لیکن اسکول کالج اور یونیورسٹیز کے مقابلے مدارس اور مکاتب کا پورا نظام تعلیم اردو زبان کے اردگرد ہی گھومتا ہے، مدارس میں اعلیٰ درجات کی کتابیں عربی زبان میں موجود ہیں لیکن ان کتابوں کی تعلیم وتدریس اردو زبان میں کی جاتی ہے اور بغیر اردو کے وہ بچوں کی سمجھ اور عقل میں أنے سے رہ جاتی ہیں ۔
آزادی کے بعد جب ملک کی سرکاری زبان ہندی بن گئی تو مسلمانوں کے دین و ایمان کی فکر رکھنے والے افراد دانشوران قوم وملت نے گاؤں گاؤں دینی مدارس اور مکاتب کا جال بچھا کر اردو زبان کو ذریعہ تعلیم منتخب کیا اور اُس زمانے میں مکتب یا مدرسے کے پڑھے ہوۓ لوگ ہی آج کل مسجد اور مدرسوں کے ذمہ دار بنے ہوئے ہیں لیکن افسوس کہ ان ذمہ داروں نے اپنی ذمہ داری کو اس ایمانداری سے پورا نہیں کیا جس ذمہ داری کے ساتھ ان کے والدین نے ان کو دینی تعلیم اور اردو زبان سکھائی تھی ۔آج کل اردو زبان سے ناواقفیت کی حد یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ جن مساجد کے مکاتب میں ذریعہ تعلیم ہی اردو ہے ان ہی مساجد میں تبلیغی جماعت کی روزانہ کی کارگزاری کا رجسٹر دیوناگری رسم الخط میں لکھا جارہا ہے ۔یہ کسی ایک مسجد کا المیہ نہیں ہے بلکہ بیشتر مساجد میں یہی مزاج پروان چڑھا ہوا ہے ۔
اوپر جو تصویر شیئر کی گئی ہے وہ اسی ملی المیہ کی ایک بانگی ہے۔اسے ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ "چراغ تلے اندھیرا سمٹنے کے بجائے لگاتار بڑھتا جارہا ہے” ۔اور ہم جیسے لوگ جو کچھ اردو پڑھنا لکھنا جانتے ہیں ان کے کانوں پر بھی جوں نہیں رینگتے۔
اس تغافل کا خمیازہ دیر یا سویر بھگتنا تو پڑے گا ہی۔
ایک دوسرا محاذ بھی ہے جہاں پر ہم آنکھ موند کر کھڑے ہیں وہ محاذ ہے دینی اور اسلامی تعلیمات پر مشتمل دیوناگری رسم الخط میں کتابوں کی موجودگی۔
مذہب اسلام کا اصلی سرمایہ قرآن وحدیث کی شکل میں عربی زبان میں ہے لیکن اسلام جن ممالک میں پہنچا وہاں کے لوگوں نے قرآن وحدیث اور ان سے مستفاد فقہ وفتاویٰ ،سیرت و سوانح کو مقامی زبان میں منتقل کرکے دین اسلام کو سمجھنے اور اس کے اصول و ضوابط پر عمل کرنے کو آسان بنایا۔ بھارت میں جب اسلام پھیلا تو یہاں کی سرکاری زبان فارسی تھی تو دین اسلام قران وحدیث فقہ،فتاوی ،سیرت وسوانح کی بے شمار بیش قیمت کتابیں فارسی زبان میں لکھیں گئیں جو اردو میں اسلامی تعلیمات کے سرمایہ کو منتقل کرنے والوں کےلئے مآخذ اور مراجع ہیں ۔اردو زبان میں اسلامی تعلیمات کے تمام گوشوں پر مشتمل کتابیں موجود ہیں اور لگاتار یہ سلسلہ چلتا رہا ہے۔لیکن تقسیم ملک کے بعد کے حالات اور ہم مسلمانوں کی ملی اور مذہبی بے حسی ہے کہ اردو کا دامن بھارت میں تنگ تر ہوتا جارہا ہے اور مسلمان جن کا مذہبی سرمایہ فارسی سے اردو میں منتقل ہوچکاہے وہ زمانے کی چال سے بےخبر ہیں نہ تواپنے دینی سرمایہ کی زبان کو اپنی نسلوں میں پیوست کررہے ہیں اور نہ ہی بھارت کے سرکاری زبان ہندی اور اس کے دیوناگری رسم الخط میں اپنے دینی سرمایہ کو منتقل کرنے کی دل چسپی دکھا رہے ہیں ۔جس قدر مسجد مدرسہ مکتب میں اردو رسم الخط کے بجائے دیوناگری رسم الخط کا استعمال بڑھتا جاۓ گا اسی قدر بھارت میں اردو کا دائرہ تنگ تر ہوتا جاۓ گا۔
کیا کہیے کیا رکھے ہیں ہم تجھ سے یار خواہش
یک جان وصد تمنا یک دل ہزار خواہش
