از قلم: خالد سہیل
ایم اے عربی
غزہ کے حالات سے آپ لوگ واقف ہیں۔ جتنی طرح کی بربریت، سفاکیت وہاں پر کی جاسکتی ہے وہاں کے مظلوم عوام کے ساتھ کی جارہی ہے اور ہم ان اپنی گنہگار آنکھوں سے وہاں کے مناظر دیکھ رہے مگر اس مہذب دنیا نے ان کو اکیلا چھوڑ دیا ہے۔آج بہت سارے پلیٹ فارم سے ظالموں کے پروڈکٹس کی چاہے وہ کھانے کے ہوں پہننے کے ہوں اور چاہے کسی طرح کی مشینری ہو ان کے بائیکاٹ کی اپیل بہت سارے علماء اور دانشوروں نے کی ہے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان پر عمل کریں۔
مجھے افسوس ہوتا ہے بہت سارے لوگ دکانوں پر آتے ہیں اور مذاقیہ لہجہ میں کہتے ہیں مجھے اسرائیلی پروڈکٹس چاہیے۔ دنیا میں سب سے زیادہ پی جانے والی چیزیں سافٹ ڈرنکس اور چاکلیٹس انہیں کی بنائی ہوئی ہیں۔ اگر ہم ان سے اپنے آپ کو بچالیں تو اس میں صحت اور عافیت دونوں چیزیں مل جاییں گی۔مجھے فرحان اعظمی کے ایک جملے نے قلم اٹھانے پر مجبور کردیا محترم بیان کرتے ہیں میں اپنی شریک حیات کے ساتھ کسی سپر مارکیٹ میں خریداری کے لئے گیا اور جیسے ہی میں نے ٹایڈ کا واشنگ پاؤڈر اٹھایا میری بیوی نے کہا نہیں۔ گھڑی یا نرما واشنگ پاؤڈر لے لیتے ہیں۔ کہنے لگے جب ہماری گھر والی کو پریشانی نہیں ہے تو پھر مجھے کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔
جب سے یہ بات عزیزم فرحان اعظمی نے بتائی ہے۔ دلوں میں جوش اور ہمت بڑھ گئی ہے۔میرے دل ودماغ میں سی اے اے اور این آر سی کا احتجاجی منظر گھوم گیا کہ کس طرح ہماری ماؤں بہنوں اور بیٹیوں سے محاذ کو سنبھالا تھا۔ میری بہنو! آج پھر سے آپ کی ضرورت آن پڑی ہے مظلوموں کی خاطر ایسی چیزوں کا استمال بند کریں جس سے اسلام اور مسلمانوں پر ضرب پڑتی ہو۔ آج آپ کو روڈ پر نہیں اپنے گھروں کے اندر ہی احتجاج کرنا ہے۔ سب بڑا سوال ھے کہ کیا متبادل موجود ہیں۔
جی ہاں متبادل موجود ہیں جیسے میں نے کولگیٹ کی جگہ ہمالیہ کا ٹوتھ پیسٹ آزمایا کافی اچھا ٹیسٹ ہے میں اور میرے بچے شوق سے استعمال کر رہے ہیں۔
انٹرنیٹ پر کسی کمپنی کا نام نہیں اس چیز کا نام ڈالیں ہزاروں متبادل پروڈکٹس آپ کو مل جائیں گے۔ جیسے ٹوتھ پیسٹ، واشنگ پاؤڈر، کوکنگ آئل وغیرہ ۔
اللہ حافظ۔ اپنا اور اپنے عزیزوں کا خیال رکھیں۔
