کتبہ: محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی

میرا ماننا ہےکہ واٹساپ فیسبک پر فقاہت جھاڑنے اور علامہ گری کرنے سے بہتر ہے کہ ارض الواقع میں کام کیا جائے ، یہ صحیح ہے کہ جلسوں کی اصلاح ہوں ،طریقہ بدلہ جائے ، مگر کسی کے ایمان واخلاص پر شب خونی کرنا ،منتظمین اجلاس کو بالکل مایوسی میں ڈالنے والی تحریریں لکھکر اپنی صلاحیت کو بگھارنا کوئی اچھی چیز نہیں ہے ،محفل وعظ وتذکیر کو صرف اور صرف میلہ ٹھیلہ کانام دینا ، جلسہ کے نام پر چندہ خوری کا الزام لگانا سراسر غلط ہے ، حقیقت یہ بھی ہیکہ ابہی بھی مخلص منتظم موجود ہے ۔۔ اصلاح سماج کیلئے متفکر رہنے والے دعاۃ ومبلغین کی کثیر تعداد ہے ۔ عوام الناس کی ایک اچھی خاصی تعداد خطباء کو سنتی ہیں ، وعظ وبیان پندونصائح سے اپنے منجمد دلوں کو صیقل کرتی ہیں ، گھروں کی اصلاح کی باتیں کرتی بھی ہیں اور عمل بھی کرتی ہیں ۔بلکہ بعض مخصوص منجھے ہوۓ خطیبوں کو سننے کیلئے دیوانہ وار دور سے سفر کر جلسہ گاہ پہنچتے ہیں ، حالت اتنا بگڑ چکا ہے کہ عوام بھی اب ان بعض عجلت باز مفتیوں کو سمجھنے لگی ہے ۔بعض جذباتی نے جلسہ پر اتنا لکھا کہ گویا جلسہ کرنا کسی شر کو بڑھاوا دینا ہے ۔ دیررات تک کے اجلاس اور ان کے مفاسد سے بچنا بچانا مثبت طریقہ سے کیا جانا چاہیے ۔ لیکن یہ کیاہر کوئی پہینک رہا ہے ،عندیہ دۓ رہا ہے ۔لگ رہا ہے کہ ان جلسوں سے امت کا بیڑہ غرق ہوجائے گا ، بھائی! راتوں رات پب جی کھیلتے ہوں ،موبائل کے اسکرینوں پر پوری رات گذار دیتے ہوں ۔۔۔۔۔۔ کیا اس سے بھی یہ بہتر نہیں ہوا کہ چند منٹ ہی سہی کسی محفل وعظ وتذکیر میں شریک ہوکر دین کی بات سنے ۔۔۔۔ عجیب تماشا ہے ۔

حضرات ! اتنااسپیڈ ہوائی فائرنگ بھی درست نہیں ۔ اتنا زوردار بریک بھی حکمت ومصلحت نہیں ۔ جلسہ کو بالکل گویا مجسم شر بتانا حماقت نہیں تو اور کیا ہے ۔۔۔۔۔۔

خود ہمارے اسلاف جلسہ میں شرکت فرماتے تھے ،خطاب کرتے تھے ۔ ، مولانا ثناء اللہ امرتسری ،مولانا عبد العزیز رحیم آبادی ، مولانا اسماعیل سلفی،عطاء اللہ حنیف بھوجیانی ، مولانا عبدالرؤوف رحمانی۔۔۔۔۔۔۔۔ وغیرہم کی دعوتی جہود وسرگرمیوں کا ایک حصّہ جلسہ بھی تھا ۔

مسئلہ یہ ہے کہ بھیڑ کے چھتے پر پتھر پھینک کر شور بپاکرنا مقصد ہوتو شوسل میڈیا پر کچھ بھی تھونک دو ،پھینک دو ،انڈیل دو ، ماہرین سوشل میڈیا کو گویا موضوع بحث مل گیا ۔ اب ہر شخص کمنٹ پر کمنٹ ۔۔۔۔

یار ۔۔۔۔۔ بہت ساری چیزیں مصلحتا بھی سوسل میڈیا پر شئیر نہیں کی جاتی اتنا تو سمجھ لو ، دعوت اصلاح کا طریقۂ ،تبلیغ کے اصول ،مصلحت ومفسدۃ میں فرق اور اخف الضررین کو سمجھنا ہی کامیاب داعی کی علامت ہے ۔ والسلام ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صائب ودرست سمجھ دۓ، آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے