مفتی ہمایوں اقبال ندوی 

نائب صدر، جمعیت علماء ارریہ 

و جنرل سکریٹری، تنظیم أبناء ندوہ پورنیہ کمشنری

 

دو بچیوں نے اس وقت پوری دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی ہے،انمیں ایک نو مولود بچی ہے جو ۳۷/ دن بعد غزہ کے کھنڈر سے دستیاب ہوئی ہے، اور دوسری ننھی سی اسرائیلی لڑکی ہے جو حماس کی قید سے اپنی ماں کے ساتھ ابھی آزاد ہوئی ہے۔ پہلے واقعہ سے دنیا حیرت میں ہے کہ مسلسل چوالیس دنوں سے غزہ پر اسرائیلی بمباری ہوتی ائی ہے، اس کا اسی فیصد حصہ کھنڈر میں تبدیل ہو گیا ہے، سولہ ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں اور تیس ہزار سے زائد زخمی ہیں،جاں بحق ہونےوالوں میں زیادہ تعداد بچوں کی ہی ہے، باوجود اس کے یہ بچی زندہ کیسے بچ گئی ہے؟اس کے والدین کی ہنوز کوئی خبر نہیں ہے، وہ با حیات ہیں یا اسی مکان کے ملبے میں مدفون ہیں؟ بغیر ماں باپ اور غذا و دوا کے اتنےدنوں تک یہ کیسے سلامت رہ گئی ہے ؟ لوگ حیرت میں ہیں اور اسے کرشمہ خداوندی اور معجزہ سے تعبیر کر رہے ہیں۔

دوسرا واقعہ یہ بھی جنگ زدہ غزہ سے ہی متعلق ہے۔ ایک اسرائیلی بچی جو اپنے ماں کے ساتھ حماس کے قید سے رہا ہوئی ہے۔ ماں کا نام” دنیال” ہے اور بچی کا نام” ایمیلیا ہے۔ عبرانی زبان میں خط لکھ کر ماں نےبچی کی طرف سے حماس کا شکریہ ادا کیا ہے۔ وہ کہتی ہیں ؛”میں اپ سب کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتی ہوں کہ اپ نے میری بیٹی کے ساتھ حسن سلوک اور محبت کا مظاہرہ کیا ہے،والدین جیسا سلوک کیا ہے۔ میری بیٹی خود کو غزہ میں ملکہ سمجھتی تھی اور سب کی توجہ کا مرکز تھی۔ میں ہمیشہ مشکور رہوں گی کیونکہ کہ ہم یہاں سے کوئی دکھ لے کر نہیں جا رہے ہیں”۔

دنیا اس واقعہ پر بھی محوحیرت ہےکہ حماس کے لوگ جو اپنے گھر کی حفاظت نہ کر سکے،خود بھوکے رہے مگران قیدیوں کےلئے محفوظ مقام اور انواع واقسام کے طعام کا انتظام کس طرح کیا ہے؟ ان بندھکوں کومجاہدین سےایسا پیار ملا کہ وہ سب شکریہ ادا کرنے پراس وقت مجبور ہیں۔یہ مجاہدین اپنے بچوں کی حفاظت نہیں کر سکے مگر دشمن کی بچی کو اتنا پیار دیا کہ وہ خود کو قیدی نہیں بلکہ شہزادی سمجھ رہی ہے۔

دنیا کے لیے یہ سلوک حیرت کی بات ہوسکتی ہے مگر ایک ایمان والے کے لیے کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی یہ سنت ہے،اسلام خواتین بچے پر ہتھیار اٹھانے کی جنگ کے میدان میں بھی اجازت نہیں دیتا ہے، قرآن قیدیوں کے ساتھ نیک سلوک کا حکم دیتا ہے، ارشاد باری تعالٰی ہے؛ "اور کھلاتے ہیں کھانا اس کی محبت پر محتاج کو یتیم کو اور قیدی کو” (سورہ الدھر)

حدیث میں ہے کہ بدر کے قیدیوں کے متعلق حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جس مسلمان کے پاس کوئی قیدی ہے اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے، چنانچہ صحابہ کرام اس حکم کی تعمیل میں قیدیوں کو اپنے سے بہتر کھانا کھلاتے تھے ،آج یہ کام فلسطینی مسلمان انجام دے رہے ہیں،ان قران ایات کی عملی تفسیر بن گئے ہیں اور مذہب اسلام کی حقیقی تصویر دنیا کے سامنے پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔قرآن کریم میں ایسے مومنین کی شان میں یہ آیت نازل ہوئی ہے؛” اپنے مال اور نفس سے جہاد کرنے والوں کو اللہ نے بیٹھے رہنے والوں پر ایک درجہ فضیلت دی ہے” (سورہ نساء)

مذکورہ آیت کی روشنی میں یہ بات بلا خوف تردید کہی جاسکتی ہےکہ اس وقت پوری دنیا کے مسلمانوں میں یہ فضیلت فلسطینی بھائیوں کو حاصل ہے۔ اپنی تھوڑی سی تعداد کے باوجودجدید ہتھیار سے لیس اسرائیل کے لاکھوں فوجیوں سے یہ برسر پیکار ہیں،یہ غزوہ بدر کا منظر پیش کررہے ہیں۔بھوک وپیاس کی تکلیف، بال بچوں کی قربانی، مال ودولت سے دستبرداری، گھر بارکی تباہی وبربادی، یہ اسلام کے مکی دور کا نقشہ سامنے کردیتے ہیں، باوجود اس کے عزم واستقلال کا پہاڑ بنے ہوئے ہیں، اپنے موقف پر قائم ہیں، استقامت میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی پیروی کررہے ہیں، قبلہ اولی کی بازیابی چاہتے ہیں اور اس راہ میں کوئی بھی خطرہ مول لینے سے دریغ نہیں کرتے ہیں۔بقول شاعر

کچھ سمجھ کر ہی ہوا ہوں موج طوفاں کا حریف

ورنہ میں بھی جانتا تھا عافیت ساحل میں ہے

قرآن کریم ایک زندہ کٹاب ہے اور قیامت تک کے لئےہماری رہنمائی کا سامان ہے ،اس موقع پر ایسے جواں مردوں کے لیے قرانی پیغام ہے؛” اے ایمان والو مشکلات میں ثابت قدم رہو ،اور مقابلے میں مضبوطی دکھاؤ، اور کام میں لگے رہو، اور خدا سے ڈرو، شاید کہ تم مرادکو پہنچو( ال عمران) ان شاء اللہ العزیز عنقریب یہ اپنی منزل مراد کو پہنچنے والے ہیں، بیت المقدس کی بازیابی اور دنیوی واخروی کامیابی سے سرفراز ہونے جا رہے ہیں،وماذالک علی بعزیز۰۰

اج دنیا یہ سمجھ رہی ہے کہ فلسطینی مسلمانوں کا مستقبل خطرہ میں ہے، ان کی بقیہ زمین ان کے ہاتھوں سے نکل رہی ہے،ان کا نام ونشان ختم ہونے جارہا ہے، ان کی تعداد کم ہوتی جارہی ہے، یہ مارے جا رہے ہیں،اسرائیل نے یہ اعلان کیا ہے کہ ہم غزہ کو قبرستان میں بدل دیں گے، ایسے لوگوں کے لئے قرآن کا یہ اعلان ہے؛” جو خدا کی راہ میں مارے گئے ان کو مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تم کو اس کا احساس نہیں ہے” (سورہ بقرہ)

اج خدا فلسطین میں یہ کرشمہ دکھا رہا ہے کہ بغیر دانہ پانی کے ملبہ کے ڈھیر میں ہم ایک ننھی سی جان کی حفاظت کرتے ہیں دراصل ایک زندہ قوم پیدا کررہے ہیں، یہ ایسے لوگ ہیں جو خود بھوکے رہتے ہیں مگر اپنی قیدیوں کو قرانی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے بہترین کھانے سے ان کی ضیافت کرتے ہیں ،ہم انہیں کامیاب وبامراد کریں گے، اور جو لوگ منافقین کی طرح یہ کہتے ہیں کہ کیا ضرورت تھی اتنی بڑی تعداد سے حماس کو برسر پیکار ہونے کی توایسے لوگوں کے لیے بھی اس واقعہ میں بڑا سبق ہے کہ جس کی موت نہیں ہے ا سے ہم موت کے منہ سے بھی نکالتے ہیں ،اور جن کی موت لکھی ہوئی ہے وہ اپنے بستر پر بھی مرجاتے ہیں۔ ارشاد خداوندی ہے ؛”منافق کہتے ہیں کہ اگر ہماری بات مان لی جاتی تو ہم یہاں مارے نہ جاتے کہدبے کہ اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن پر یہاں مرنا لکھا تھا وہ از خود مقتل میں نکل اتے ہیں( ال عمران)

:فاعتبروا یا اولی الابصار "۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے