~ عبد المقیت

   عبید اللّہ فیضی 

 

آزاد ہندوستان کی تاریخ میں بابری مسجد کی شہادت کا سانحہ ایک ایسا دلسوز واقعہ ہے جسے آنے والی نسلیں بھی فراموش نہیں کر سکتیں- دہشت گرد عناصر نے جس انداز میں دن کے اجالوں میں مسلمانوں کی تاریخی عبادت گاہ کو زمیں بوس کر دیا اس سے ہندوستانی دستور اور قانون بھی پامال ہوا- بابری مسجد کی شہادت پر سپریم کورٹ کا یہ تبصرہ حقیقت پر مبنی تھا کہ 6 دسمبر 1992 کو محض بابری مسجد ہی شہید نہیں ہوئی بلکہ ملک کا قانون اور دستور بھی منہدم ہو گیا- اس وقت کے صدرِ جمہوریہ نے اس بدبختانہ واقعہ کو ہندو دہشت گردوں کی کھلی غنڈہ گردی قرار دیا تھا-

بابری مسجد کو شہید ہوئے 31 سال ہونے کو ہیں لیکن یہ زخم مسلمانوں کے سینوں میں اب بھی تازہ ہے اور جب تک بابری مسجد اپنے اصل مقام پر دوبارہ تعمیر نہیں ہو جاتی یہ گھاؤ اسی طرح رستا رہے گا- صدیاں گزر جائیں گی لیکن مسلمان بابری مسجد کی بازیابی کی جدوجہد کو نہیں چھوڑیں گے- اس لئے کہ جب مسجد کسی مقام پر تعمیر ہو جاتی ہے تو قیامت تک مسجد ہی رہے گی، مسلمانوں کو بھی حق نہیں ہے کہ وہ کسی مسجد کو کسی اور عبادت گاہ میں تبدیل کر دیں یا اس کی اراضی کو فروخت کر دیں-

مغلیہ سلطنت کے بانی ظہیر الدین بابر کے ایک وزیر میر باقی نے بابری مسجد کی تعمیر 1528 میں کروائی تھی- اس وقت سے لیکر ملک کی آزادی تک یہاں مسلمان عبادت کرتے رہے- لیکن آزادی کے بعد چند فرقہ پرست رات کے اندھیرے میں مسجد میں مورتیاں لاکر رکھ دیتے ہیں اور اچانک یہ پروپیگنڈہ شروع کر دیا جاتا ہے کہ یہاں رام کی پیدائش ہوئی ہے- 22 اور 23 دسمبر 1949 کی رات میں یہ شر انگیزی ہوتی ہے، جس کے بعد بابری مسجد پر تالا ڈال دیا جاتا ہے، مقدمہ بازی کا آغاز ہوتا ہے، بالآخر 6 دسمبر 1992 کو فوج اور پولیس کی نگرانی میں بابری مسجد کے انہدام کا دل خراش سانحہ پیش آتا ہے-

وقت کے وزیراعظم پی وی نرسمہا راؤ نے بابری مسجد کی شہادت کے فوری بعد اعلان کیا تھا کہ بابری مسجد اسی مقام پر تعمیر کی جائے گی جہاں اس کو شہید کیا گیا- لیکن افسوس کہ ان کا یہ وعدہ آج تک پورا نہ ہوا-

9 نومبر 2019 کو سپریم کورٹ نے سارے تاریخی حقائق کو بالائے طاق رکھتے ہوئے "آستھا” کی بنیاد پر مندر کے حق میں فیصلہ سنا دیا-

ہندستانی عدلیہ کو سلام کرنے کا دل کرتا ہے، عدلیہ کہتی ہے کہ بابری مسجد میں مورتی رکھا جانا غلط تھا، اسے توڑنا بھی غیر قانونی تھا، لیکن اس کے باوجود جس فریق نے یہ سارا پروپیگنڈہ کیا تھا اسے ہی زمین سونپ دیتی ہے-

عدلیہ کہتی ہے کہ ہم "آستھا” کی بنیاد پر فیصلہ نہیں کرتے لیکن اگلی ہی لائن میں یہ بھی کہہ دیتی ہے کہ اجودھیا ہی رام کا جنم استھان ہے-

عدلیہ کہتی ہے کہ کھدائی میں قدیم زمانے کے جو نشانات مسجد کے نیچے ملے ہیں وہ مندر کے ہیں لیکن پھر اگلی ہی لائن میں کہتی ہے کہ مسجد مندر توڑ کر بنائی گئی تھی اس کا کوئی ثبوت نہیں ہیں-

عدلیہ کہتی ہے 1949 میں مسجد میں مورتیاں رکھنا غلط تھا 1992 میں مسجد کو گرانا درست نہیں لیکن 2019 میں کہتی ہے کہ اس زمین کو رام للا کو دیا جائے گا-

کیا آپ سمجھ پارہے ہیں عدلیہ اپنی ہی باتوں کا رد عمل پیش کرکے کیا کہنا چاہ رہی ہے؟؟؟

کیا یہ اس کی معصومیت نہیں ہے کہ ساری چیزیں کھول کے بتا دیا ہے-

اسی کا شہر، وہی مدعی، وہی منصف

ہمیں یقین تھا ہمارا قصور نکلے گا-

(امیر قزلباش)

 

آر ایس ایس کے سنچالک موہن بھاگوت نے رام مندر کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے کہا تھا کہ آج صرف ایک مندر کی تعمیر کا آغاز نہیں ہو رہا ہے بلکہ یہ ہندوستان کو ہندو راشٹر بنانے کی پہل ہے-

یاد رکھیں عدالتیں آستھا کی بنیاد پر فیصلے دینے لگیں تو پھر ملک میں قانون کی حکمرانی بے معنیٰ ہو جائے گی-

بابری مسجد کی شہادت کے 31 سال مکمل ہونے پر مسلمانوں کو بھی اپنا محاسبہ کرتے ہوئے سوچنا چاہئے کہ حالات کے اس سنگینی میں ہمارا لائحہ عمل کیا ہونا چاہئے؟ اب ایک بابری مسجد کی بات نہیں رہی ہزاروں مسجد فرقہ پرستوں کے نشانہ پر ہیں- اس کا مقابلہ کیسے کیا جائے یہ سب سے بڑا چیلنج ہے جو اس وقت مسلمانوں کو درپیش ہے، اس لئے امت کو اپنے مساجد کے تئیں چوکنا رہنا ہوگا-

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے