انس مسرور انصاری
بس میں بے بسی
بس میں بے بسی وہی جانے جس نے ہماری طرح بس میں بے بسی کو دیکھا اور جھیلا ہو۔ ریلوے اسٹیشن کی بھیڑ بھاڑ سے ہمیں بڑی الرجی ہے۔ لگتا ہے جیسے قیامت سے پہلے قیامت کے میدان میں انٹری ہوگئی ہو۔ ہرطرف بھاگم بھاگ۔دوڑ دھوپ۔ دھکم پیل۔کو لھوسے کو لھو کا چھلنا۔سینے سے سینہ کا چسپاں ہونا۔ ایک جیب کا مال دوسرے کی جیب میں پہنچنا۔ اور کبھی کبھی کسی خاتون کا چانٹا کسی شریف نوجوان کے گال پر پڑنا۔۔۔ وغیرہ، وغیرہ۔ خدا کی پناہ۔۔۔۔۔۔ اس لیے ریل گاڑی کے بجائے بس میں سفر ہمیں بہت مرغوب ہے۔ لیکن بس کا وہ سفر ہرگز نھیں جس کی داستانِ دل خراش و جگر خروش کا سنانا ہمیں مطلوب ہے۔
بڑی اور چھوٹی گاڑیوں کے ڈرائیوروں اور کنڈکٹروں میں جویک جہتی و یکتائی اور بھائی چارہ ہے اس کی مثال کو ہم تلاش کرنے نکلے تو سخت مایوسی اور پشیمانی ہوئی کہ وہ بے مثال ہے۔
ہماری بس آگے ہی آگے بھاگتی جارہی تھی اور منزل قریب تھی۔ یعنی۔۔ دو چار ہاتھ جب کہ لبِ بام رہ گیا،، سامنے سے آنے والی بس نے ہمارے بس ڈرائیور کو اشارہ کیا۔دونوں بسیں پہلو بہ پہلو کھڑی ہوگئیں۔ پتا چلا کہ آگے آر،ٹی،او، نے روڈ کو بلاک کر رکھا ہے۔ گاڑیوں کی چیکنگ ہو رہی ہے۔ شاید آر،ٹی،او کی بیوی نے پھر کوئی نئی فرمائش کر دی ہوگی۔ ہماری بس کا ڈرائیور بہت چالاک تھا۔ اور ڈرائیور تو چالاک ہوتے ہی ہیں۔ چنانچہ اس نے کچھ دور جاکر ۔۔بائی پاس، کی طرف گاڑی کو موڑ دیا۔ چیکنگ افسر کی دلی آرزو کو توڑ دیا۔ بائی پاس صرف سرجری ہی نھیں ہوتی بلکہ بائی پاس بہت کچھ ہوتا ہے۔ مثلاً ہمارا یہ بائی پاس سفر۔۔! بائی پاس سفر کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ وہ کبھی کبھی جہنٌم کے دہانے تک پہنچا دیتا ہے۔
کہتے ہیں کہ ہمارا ملک ہندوستان گاؤں میں بستا ہے۔ ہمارا بائی پاس بھی گاؤں سے ہو کر گزرتا تھا۔ ہم نے سوچا کہ چلو آج اصل ہندوستان کو دیکھتے ہیں۔ ہماری بس تھوڑی دور چلی ہوگی کہ محسوس ہوا کہ ہم جہنٌم کے راستے پر سفر کر رہے ہیں۔ سڑکیں کیا تھیں، محبوب کی الجھی ہوئی خم دار زلفِ گرہ گیر تھیں۔ بس کبھی دائیں کروٹ لینا چاہتی کبھی بائیں کروٹ۔نتیجے میں بس کے اندر سواریوں کی حالت دگرگوں تھی۔ ایک بار بس اپنے بائیں پہلو پر اس طرح جھکی کہ دوسری طرف کی سواریاں ہمای طرف لڑھک آئیں اور وہ مثل صادق ہوئی کہ۔۔ من تو شدم تو من شدی من تن شدم تو جاں شدی،، بس کے اندر مختلف آوازیں گونجنے لگیں۔
۔۔ارے! ارے، خدا کی پناہ! بھیا جی، ذرا آہستہ چلاؤ۔ مانا کہ یہ کوئی ٹٹو تو ہےنھیں، بس ہے۔لیکن بس چلارہےہوکہ راکٹ۔خدارا ذرا عقل سے بھی تھوڑاکام لےلیاکرو۔علامہ اقبال نے یہ تو نھیں کہا تھا کہ ہمیشہ عقل کو بے لگام گھوڑی کی طرح کھولےرکھو۔انھوں نے تودوٹوک لفظوں میں صاف ہی صاف کہاتھا۔!
ہرچند سا تھ سا تھ ر ہے پا سبانِ عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑدے
پتانھیں اقبال نے پاسبان کوچھوڑنےکےلیےکہاتھایا عقل کو۔؟لیکن آپ ڈرائیور حضرات ہیں کہ دونوں کو گھاس چرنے کے لیے بالکل ہی کھلے چھوڑرکھاہے۔ للٌہ ذرا عقل کے ناخن ہی لے لو میاں۔ کیوں ننھی منی جانوں کے پیچھے ہاتھ دھوکر پڑ گئے ہو۔؟ اگر آپ لوگوں کو اپنی جان کی پرواہ نھیں ہے تونہ سہی مگر خدا کے واسطے دوسروں کی جان ہی کا خیال کرو۔ شاید دوسروں کو اپنی جان عزیز ہو۔؟اف،خدایا،توبہ توبہ۔یہ بریک لگا رہے ہو یا آسمان سے دھکٌے دے رہے ہو۔؟ﷲ رحم کرے۔ توبہ، استغفرﷲ۔ارے بابا ہم تو پہلےہی سنگل پسلی کے ہیں۔ کیا اسےبھی توڑدو گے۔کیوں ہماری ہڈیوں کا سرمہ بنانےپرتلےہو۔؟سرمےہی کاشوق ہےتوہزارپتےہم سےلو۔ہرطرح کےسرمےکانام بھی لک ذکرکھوالو۔بریلی کےبازارکاجھمکاہی نھیں،وہاں کا سرمہ بھی تو بہت مشہور ہے،،
۔۔اف،آہ،یاﷲتوبہ۔استغفرﷲ۔۔استغفرﷲ۔الہٰی خیر۔۔۔۔خداراخداراکچھ تورحم کھاؤ۔ابھی ہماراارادہ کچھ سال اورجینےکاہے۔ابھی ہم نے بہاریں ہی کتنی دیکھی ہیں۔کل ملاکر صرف باسٹھ سال۔!ابھی تو بہت کچھ دیکھناباقی ہے،،
۔۔ ارےارےبھیاجی!بس کوروک لو۔ہمیں اترناہے۔باقاعدہ اترتولینےدو۔ابھی ایک پاؤں زمین پرسیدھےرکھا نھیں ہے۔دوسراپاؤں بس کےاندر ہی ہےکہ آپ حضرات بس چلادیتےہیں۔بنادیکھےبھالےکہ بس سےکون کامیابی کے ساتھ فاتح بن کراترسکاہےاورکون بس کےنیچےآکر عدم آبادبلاٹکٹ ہی چلاگیا۔مگر کون کہاں جاتاہے،آپ کی بلاسے۔کوئی جئے،کوئی مرے،بھلا آپ کوکیافکر۔!بس میں ایسی بےبسی۔ﷲ کی پناہ۔کسی مسافرکوخبرنھیں کہ آمدہ ساعت فنا کی ہےیابقاکی!،،
۔۔ ارےﷲکےبندے!بس کوپوری طرح روک تولو۔مجھے اترناہےبھائی۔سنگل پسلی کامسافرہوں۔مگران باتوں سے بھلا آپ کوکیاغرض۔؟خیر خیر۔۔۔ خدا آپ لوگوں کو نیکی کی ہدایت اور توفیق عطا فرمائے۔آمین۔۔ثمٌہ آمین۔۔،،
بس کےاندرکی افراتفری کایہ سلسلہ قریب ایک گھنٹہ تک جاری رہا۔کئ مسافروں کی پتلون گیلی ہوئی۔ کئی سرایک دوسرےسےباربارٹکرائے۔کئی بارمسافرایک دوسرے کی آغوش میں آئے۔مگر کسی نےبرانھیں مانا۔جب بس پچ روڈپرآئی تب مسافروں کی جان میں جان آئی۔*****
*انس مسرورانصاری
قومی اردو تحریک فاؤنڈیشن (انڈیا)
