نور اللہ خان
نفرت کی دوکان پر جگہ کھل گئی ہے۔ اور وہ بھی بڑے بڑے شوروم کی شکل میں موجود ہے۔ اور اس کے مالکان سمیت وہاں کا عملہ بھی کامیاب ہے اور عوام کو اپنے جھانسے میں لیکر جھانسی کی رانی کی قربانی کو کم تر دکھانے کیلئے میڈیا کا استعمال بھی ہورہا ہے۔ اور جو اچھا کچھ کرے اسکی کھانسی کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ کیونکہ اچھی سیاست نہیں دبنگ سیاست کا مزاج بن گیا ہے۔ اب زمانہ بدل گیا ہے۔ جھانسی کی رانی نہیں ، جھانسے کا راجہ موجود ہے اور کمال یہ ہے کہ نفرت کے خریدار بہت ہیں۔ اور نفرت کی دوکان ہر جگہ خوب پھل پھول بھی رہی ہے۔
اس سے اندازہ ہورہا ہے کہ محبت میں کمی ہے یا اسکے دوکان دار وقت پر دوکان نہ کھول کر پانچ سال محنت نہ کرکے صرف بیان بازی پر اکتفا کرتے ہیں۔ محبت کی دوکانیں بھی بہت کم ہیں۔ اور لڑائی بھی اسکی آپس میں چلتی ہے کہ ہم الیکشن کے وقت دوکان کھولیں گے۔ حقیقت میں دیکھو یہ حکم کے باوجود سوتے ہیں۔ کام نہیں کرتے ہیں۔ بوڑھے لوگ ہی اب بھی زیادہ تر دوکان پر بیٹھے ہیں۔ اور کاغذ میں یہ محبت والے دوکان کھول کر رسم ادا کرتے ہیں۔ اور کبھی کبھار بیان دے کر بتاتے رہتے ہیں کہ دوکان کھلی ہوئی ہے۔ دوسری طرف نفرت والوں کے پاس ٹیم ہے اور بڑا نیٹ ورک ہے۔ اپنا سامان بیچنے کے لئے وہ فنکاروں کا استعمال کرتے ہیں اور سب سے بڑی چیز عوام کے درمیان اپنا سامان مسلسل بیچتے ہیں۔ سیوا بھی کرتے ہیں۔ الگ الگ رنگ کے کپڑے میں ان کے مارکیٹنگ مینیجر اپنا سامان لے کر چلتے ہیں ۔ بھئی محنت کا اثر پڑتا ہے۔ اس کو وہ مانتے ہیں۔ اور یہ موجودہ سیاسی مارکیٹ سے واضح بھی ہورہا ہے۔
باقی جس دیس میں آدھی چائے پر جھوٹی گواہی کے لئے لوگ تیار ہیں اور جہالت آسمان پر ہے۔ لوگ اندھ بھگتی اور جادو ٹونا میں اب بھی ۲۰۲۳ میں بھی مست ہیں ایسے دیش میں بھیس بدل کر کوئی بھی اپنا جادو چلا سکتا ہے۔ بس فن ہو اور ذرا زبان تیز ہو۔ اور ساتھ میں دھرم کا چورن ہو۔
دراصل کوئی بھی دوکان کھولنا کامیابی نہیں ہے بلکہ کسٹمر کو ڈیل کرنے والا عملہ خوش اخلاق ہو۔ ادھار بھی دینے کی ہمت ہو۔ سامان نہ بھی بکے مگر دوکان کھلی رہے۔ سامان سستا بھی ہو اور سب کو ملے۔ حیلہ بہانہ نہ ہو۔ اور بیچنے والا اتنا باتونی ہو کہ گاہک دوسری دوکان سے آپ کے پاس چلا آئے۔
محبت کی دوکان پانچ سال برابر نہ کھلتی ہے نہ مخلص لوگ فریق ثانی کی طرح محنت سے دوکان کھولتے ہیں۔ کہیں کہیں برابر کھلتی ہے باقی جگہوں پر یہ دوکان دار سرکاری بابو بنے رہتے ہیں۔ اب چوبیس کا میلہ لگنے والا ہے۔ اب اس میں دیکھئے کس دوکان پر بھیڑ زیادہ ہوگی۔
میڈیا کا سب سے زیادہ اس میں کردار ہے۔ یکطرفہ یہ لوگ پرچار کرتے ہیں۔ یہ میڈیا بھی عجیب ہے اس کو نفرت کی بدبو ہی پسند ہے۔ اسے محبت کی خوشبو سے نہلانا پڑے گا اور نہ مانے تو عوام کو بیدار کیا جائے۔ اور سب سے بڑا حل یہی ہے۔ عوام بیدار ہوجائے مگر یہ تبدیلی ابھی ایک دو دہائیوں تک ناممکن سی محسوس ہورہی ہے۔ بہر کیف حالات جیسے بھی ہوں دوکان کھلتی رہے یہی امید بھرا راستہ ہے اور دنیا کی تاریخ رہی ہے کہ بزنس میں وقت دینا پڑتا ہے ، پالیسی بدلنی پڑتی ہے اور صبر کرنا ہوتا ہے تبھی کامیابی ملتی ہے۔
