محمد رضوان ندوی
کے این پبلک اسکول نانپارہ، بہرائچ، یوپی

سابق ڈپٹی بیسک ایجوکیشن آفیسر الحاج نیاز احمد کی اہلیہ اور میری بڑی والدہ فاطمہ بیگم طویل بیماری کے بعد 17 نومبر 2023 مطابق 3 جمادی الاولی 1445 ہجری جمعہ کے دن عین جمعہ کے وقت فانی دنیا چھوڑ کر ہمیشہ باقی رہنے والی دنیا کی طرف رحلت کر گئیں، گویا دنیا کے ہزار جھمیلوں، بے شمار اذیتوں، بے جا شکوہ شکایات سننے ، طنز و تعریض جھیلنے اور دنیا بھر کی واہیات وخرافات میں مبتلا ہونے سے ان کو ہمیشہ کے لئے چھٹکارا مل گیا، اب جو انعام و اکرام ہوگا، جو عیش و عشرت ہوگی وہ چند روزہ اور عارضی نہیں ہوگی، جنت کے مزے، وہاں ملنے والی سہولیات ہمیشہ ہمیش کے لئے ہوں گی، اللہ تعالیٰ انھیں نیک اور برگزیدہ بندوں میں شامل فرمائے، جنت الفردوس ان کا ٹھکانہ بنائے اور امید و اندازہ سے بڑھ کر اپنی رحمت و قربت عطا فرمائے.
بڑی والدہ کی پوری زندگی تو بڑی آزمائشوں سے گھری ہوئی تھی، انھوں نے بڑا مجاہدہ کیا، ہمیشہ مسافر کی طرح رہیں، بچوں کی تعلیم و تربیت اور شوہر کی خدمت و اطاعت میں ان کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں، ہمت اور قوت برداشت کی صفت ان کو دوسری ہزاروں خواتین سے ممتاز بناتی ہے. ان کے اندر بہت سی خوبیاں تھیں جن کا تذکرہ تفصیل طلب ہے، یہاں عبرت و نصیحت کے لئے صرف تین نمایاں خوبیوں کا ذکر کیا جاتا ہے.

انعامات پر اللہ کا شکر:
اکثر دیکھا گیا ہے کہ زندگی کے حالات بدلنے پر انسان خود بھی بدلنے لگتا ہے اور کبھی کبھی تو اتنا بدل جاتا ہے کہ اس کی پہچان مشکل ہوجاتی ہے، اس کے پیر زمین پر نہیں ٹکتے ، آسمان میں اڑنے لگتا ہے، آپے سے باہر ہو جاتا ہے، بد دماغ ہو جاتا ہے، ظاہری بدلاؤ کے ساتھ اس کے رویہ اور برتاؤ میں بھی خاصی تبدیلی آجاتی ہے، غرور،نفور، نخوت، اتراہٹ، شیخی، تعلِّی،کینہ کدورت، بغض، انتقام، دوری اور بے اعتدالی نہ جانے کون کون سی برائی اور بیماری پیدا ہو جاتی ہے لیکن بڑی امی نے ہر طرح کے حالات میں اپنے آپ کو سنبھالے رکھا، ابتدائی زندگی میں بہت خوش حالی اور فارغ البالی نہیں تھی، شادی سے پہلے اور شادی کے بعد ابتدائی ایام کشمکش اور آزمائش سے بھرے ہوئے تھے، پھر بھی انھوں نے حوصلے سے کام لیا، اور جب اللہ نے خوش حالی دی تو انھوں نے اپنے آپ کو کہیں سے بھی بے لگام نہیں ہونے دیا، آج کل ذرا سی آزادی اور مال داری مل جائے تو دوسرے دن قسطوں پر بڑی اور جدید سہولیات سے لیس لگزری گاڑی گھر کے باہر آکر کھڑی ہو جاتی ہے، اچھا سا بنگلہ بن کر تیار ہو جاتا ہے، ہر دوسرے چوتھے دن مالوں اور بازاروں سے شاپنگ کے بنا چین نہیں ملتا، گھر کے کھانے سے ذائقہ غائب ہوجاتا ہے اور سارا مزا اور ساری لذت کسی بڑے ہوٹل اور کسی مخصوص ریستوران کے جلتے ابلتے اور مہکتے کھانوں میں سما جاتی ہے، گھر میں نوکرانیاں اور خدمت گار آجاتے ہیں، زندگی بزی اور مصروف ہو جاتی ہے، اپنوں اور بیگانوں کے لئے وقت تنگ ہو جاتا ہے، دنیا بھر کے نخرے اور زمانے بھر کی نزاکت اور اتراہٹ کسی ضرورت مند اور عقیدت مند سے بھی دو گھڑی ملنے کا موقع نہیں دیتی، یہاں معاملہ بالکل الٹا تھا، بڑے ابو الحاج ڈپٹی نیاز احمد محکمہ تعلیم کے باوقار عہدے پر فائز تھے، جہاں صرف ہدایا تحائف پر ہی عیش و عشرت کی زندگی گزر سکتی تھی لیکن بڑی امی کی قناعت پسندی، نیک نیتی، صبر اور رضا مندی نے ہمیشہ شوہر کو بھٹکنے بہکنے سے روکا، رشوت اور حرام خوری سے دور رہنے اور اس کے گندے گھنونے کھیل میں ملوث نہ ہونے کے بہت سے اسباب ہو سکتے ہیں لیکن بڑی وجہ بڑی امی کی قناعت پسندی، سادگی اور ایمان داری ہی تھی جس نے پائے استقامت میں کبھی جنبش اور لغزش نہیں آنے دی، جو ملا خوش دلی اور بشاشت کے ساتھ کھا لیا، پہن لیا، اپنی چاہت اور پسند کا اظہار سبھی کرتے ہیں، وہ بھی کرتی رہی ہوں گی لیکن اپنی ضد پر اڑے رہنا، کہرام اور ہنگامہ مچانا، شوہر کو اپنے بے جا اصرار سے ہرا کر ہی دم لینا اس سے ہمیشہ دور رہتی تھیں، اللہ کے دئے ہوئے انعامات کا دل سے اعتراف کرتی تھیں، یہی وجہ تھی کہ کبھی ذخیرہ اندوزی، بینک بیلنس اور انشورنس کی طرف نگاہ نہیں گئی، ضرورت مندوں پر دل کھول کر خرچ کیا، مہمانوں کی حاضری اور اہل تعلق کی وقت بے وقت آمد کبھی ان کو پریشان نہیں کرتی تھی، خندہ پیشانی کے ساتھ ملتیں، سب کے کھانے اور ناشتے کا انتظام و اہتمام کرتیں، بغیر کھائے پئے کسی کو جانے نہیں دیتیں، اپنائیت اور خلوص کا معاملہ کرتیں، یاد داشت قابل رشک تھی، ہر وقت بدلتے منظر اور بدلتے چہروں میں وہ ہمیشہ اپنوں کو پہچان لیتی تھیں، تصنع اور دکھاوے سے بچتی تھیں، ان کا کردار آئینے کی طرح صاف اور چمک دار تھا، اندر کچھ اور باہر کچھ والی پالیسی کی قائل نہیں تھیں، معاملات اور برتاؤ کی شفافیت کی وجہ سے ہمیشہ شاد اور آباد رہتی تھیں، جہاں رہتی تھیں بھیڑ جمع ہو جاتی تھی، پوری زندگی ایک ہجوم اور جھرمٹ میں رہیں، ہمیشہ چمن میں گلاب کی طرح مہکتی رہیں، کسی مجلس میں رہتیں تو اپنے بلند کردار کی وجہ سے شمع محفل بن جاتیں، یہ طرح دار، لچک دار، ملن سار اور تواضع پسند رویہ کا کمال ہی تھا کہ اتنے سارے لوگوں میں رہ کر بھی آخری دور تک محبوبیت کا تاج انھیں کے سر سجا رہا.

مسافرت، قوت برداشت اور مجاہدہ: 

احادیث میں دنیا کی بے ثباتی اور آخرت کی تیاری کے سلسلے میں یہ بات واضح طور پر بتائی گئی ہے کہ اصل ٹھکانہ آخرت کی منزل ہے، دنیا میں بس مسافر کی طرح رہنا ہے ، زیادہ سازوسامان، پختہ دکان و مکان اور عالی شان محلات کی چاہت میں آخرت کی اصل کامیابی اور دائمی سرخ روئی سے نظر نہیں ہٹنی چاہئے، بڑی امی نے ہمیشہ مسافرت کی زندگی بسر کی، چاہتیں تو کسی ایک جگہ عیش گاہ تعمیر کرواکے در در کی خاک چھاننے، دھکا مکی سہنے، سفر کی بے شمار اذیتیں برداشت کرنے سے بچ جاتیں لیکن انھوں نے شوہر کی خدمت اور بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے ذاتی راحت و آرام کو کبھی ترجیح نہیں دیا، بڑے ابو تقریباً 9 سال تک ضلع بستی میں سروس کرتے رہے، 5 سال گونڈہ میں رہے، 19 سال بارہ بنکی میں رہے، 1 سال شراوستی میں اور 2 سال فیض آباد میں رہے، اکثر کرایہ کے معمولی مکان میں گزارا کیا، بارہ بنکی میں تو مسجد کے حجرے میں اقامت اختیار کی لیکن ہر حالت میں ہر جگہ جہاں جیسا موقع آیا خوش دلی کے ساتھ رہنا قبول کرلیا، موافق اور غیر موافق کوئی حالت انھیں مجبور اور معذور نہیں بنا سکی، 36 سال کبھی گھر اور اکثر باہر بتانے سے نظام زندگی کا درہم برہم ہو جانا یقینی ہے،سفر کی دشواریوں میں بہت سے معمولات میں اتار چڑھاؤ آجاتا ہے، کھانا پینا ، سونا جاگنا، چلنا پھرنا، نماز روزہ اور ذکر و تلاوت کوئی چیز وقت پر اکثر نہیں ہو پاتی، جس کا جسم اور طبیعت پر بہت منفی اثر پڑتا ہے، بڑی امی نے سب کچھ ہنس کر برداشت کر لیا بلکہ بہت سے لوگوں کے لئے مثال قائم کر دی کہ سب کچھ اپنی عیش پسندی اور نفسانی خواہشات کی تکمیل ہی نہیں ہے،صرف اپنے لئے جینا کوئی کمال کی بات نہیں ہے، دوسروں کی راحت و آرام کو اپنی ذاتی راحت و آرام پر ترجیح دینا، دوسروں کے دکھ درد میں شریک ہونا اور وقت پر کسی ضرورت مند کی ضرورت پوری کر دینا ہی اصلی انسانیت ہے.
ان کی اعلی ظرفی، کشادہ دلی اور پاکیزہ خوئی دیکھئے کہ انھوں نے مال و دولت کو کبھی قابل ترجیح نہیں سمجھا، پانچ بچوں اور چار بچیوں کے رشتے کئے لیکن کہیں بھی مال و دولت کی کثرت کو بنیاد نہیں بنایا، صرف دین داری، اخلاق اور معاملات کی بہتری کو دیکھا اور رضامندی ظاہر کردی، اللہ نے انھیں دو مرتبہ 2002 اور 2008 میں حج بیت اللہ کی توفیق دی اور متعدد مرتبہ عمرے سے بھی شرف یابی کا موقع عنایت فرمایا، بہت باہمت، حوصلہ مند اور صاحب عزیمت تھیں، 2015 میں میرے والد صاحب کا انتقال ہوا، اس کے بعد والدہ اور ہم ہم سب بھائی بہنوں کی تعزیت و دلداری کے لئے کئی مرتبہ سخت بیماری و معذوری کے باوجود لمبی مسافت طے کر کے نانپارہ تشریف لائیں،گر گئی تھیں، ہاتھ بری طرح ٹوٹ گیا تھا، لاکھ علاج کے باوجود وہ دوبارہ صحیح نہ ہو سکا،اس سے سہارا نہیں لے پاتی تھیں، اعضاء بہت کمزور ہو گئے تھے، جسم بھاری تھا، بغیر مضبوط سہارے کے دو قدم چلنا بھی دوبھر تھا، ذرا سا چلنے پر سانس لینے میں بڑی دشواری ہوتی تھیں، پھر بھی دوسروں کے دکھ میں شریک ہونے کے لئے اپنا غم بھول گئیں، دوسرا کوئی ان حالات میں ارادہ ہی نہ کرتا، انھوں نے ہمت کی اور کئی بار آئی گئیں، ایسا مجاہدہ اور ایسی قربانی بہت کم دیکھنے کو ملتی ہے، اللہ تعالیٰ انھیں بہترین بدلہ عطا فرمائے.

آزمائش پر صبر:
تقریباً 71 سال قبل ضلع بہرائچ کے ایک مشہور گاؤں خیرہ بازار میں زندگی کی شروعات کرنے والی اس نیک دل خاتون نے زندگی میں بے شمار نشیب و فراز کا سامنا کیا لیکن آخری دس سال بہت صبر آزما تھے، بیماری پر بیماری اور امتحان پر امتحان،شوگر، ہائی بلڈ پریشر اور سانس کی بیماری سے وہ آخری وقت تک لڑتی رہیں،2022 میں ایٹگرل لکھنؤ میں ڈائلیسس کے بعد بہت افاقہ مل گیا تھا، سال بھر کافی عافیت کے ساتھ رہیں لیکن نومبر 2023 شروع ہوتے ہی بیماری نے شدت اختیار کرلی کڈنی بہت متاثر ہو گئی تھی، کئی مرتبہ بلرام پور ہاسپٹل لکھنؤ میں ڈائلیسس کے مرحلے سے گزرنا پڑا، 17 نومبر 2023 جمعہ کے روز جب سب تیمار دار اور تعلق والے نماز جمعہ کی تیاری کرکے مسجد جانے کے لئے روانہ ہو رہے تھے انھوں نے سارے دنیاوی رشتے ختم کرکے اپنے رب کے پاس جانے کی تیاری کرلی، وہ اپنے صبر، بیماری پر حسن برداشت اور دنیا میں کی گئی بے شمار نیکیوں کا بدلہ لینے کے لئے اتنی دور چلی گئیں جہاں سے پلٹ کر اب اس دنیا میں دوبارہ نہیں آئیں گی،مجھے پوری امید ہے کہ وہ دنیا کے آلام و مصائب،شرور و فتن اور برائی کے جنجال سے چھٹکارا پاکر ہمیشہ کا سکون و اطمینان اور دائمی راحت و انعام پاکر یقیناً بہت خوش ہوں گی، رب کریم ان کی کامل مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ ترین مقام عطا فرمائے، آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے