از: افشاں خاتون
راجکیہ ہائی اسکول باغنگر سنت کبیر نگر۔ یوپی
سب سے پہلے یہ سمجھ لیں کہ کوئی بھی سال زندگی میں نیا نہیں ہوتا صرف نمبر کے اعتبار سے نیاہو تا ہے۔سال خواہ کوئی بھی ہو ہمیں احتساب کا درس دیتا ہے اور یہ اپنے زبان حال سے بتاتا ہے کہ انسانو! تمہاری زندگی کم ہو رہی ہے کیوں کہ زندگی دنوں سے بنتی ہے۔اور دن کا انحصار وقت پر ہوتا ہے۔ یہ احتساب کا وقت ہے کہ پچھلا سال کس طرح گزرا۔ احتساب کر کے اپنے آنے والے وقت کو اچھے سے گزارا جاۓ۔ احتساب اس طرح کریں کہ ہم نے پچھلے سال میں اپنی زندگی میں کون کون سے ویلیو ( Value) ایڈ کیے۔ اور کون کون سی بری عادتیں تھیں جن کو ہم نے چھوڑ دیا۔ 2024 آج سے شروع ہے آج ہی زندگی کا کوئی نہ کوئی ہدف متعین کریں کیونکہ بغیر ہدف کے کوئی زندگی نہیں ہے بلکہ وہ جانوروں سی زندگی ہے۔ اللہ تعالی نے قرآن کریم میں فرمایا کہ اے انسانو! ہم نے تم کو بیکار اور عبث پیدا نہیں کیا بلکہ تم کو ایک خاص مقصد کے لیے پیدا کیا ہے۔ تمہاری زندگی کا ایک مشن ہونا چاہیے ایسا مشن جو دین کی نظر میں صحیح بھی ہو اور دنیا میں سرخروئی کا باعث بھی ۔اس کے لیے سب سے پہلے ایک بار ہمیں 2023 پر نظر کرنی ہوگی ۔یہ بات بھی سچ ہے کہ جو قوم فلاح کی طرف گامزن ہوتی ہے وہ اپنے ماضی سے سبق لیتی ہے۔مستقبل کو نظر میں رکھتے ہوئےحال کو سنوارتی ہےاس طرح مستقبل کی طرف بڑھتی ہے۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ آج ہم اپنے وقت کو پانی کی طرح یوں ہی گزار دیتے ہیں۔ آج کچھ لوگ برتھ ڈے مناتے ہیں۔ کچھ لوگ شادی کی سالگرہ مناتے ہیں ۔کچھ لوگ نیا سال انجوائے کرتے ہیں۔ یہ ساری چیزیں انگریزوں کی دین ہیں۔ اسلام سے اس کا کوئی لینا دینا نہیں۔ہمیں تو یہ سوچنا چاہیے کہ جب ہم نیا سال مناتے ہیں تو نیا سال خود ہمیں یہ بتاتا ہے کہ تمہارا پچھلا سال ضائع ہو گیا۔ اب تم کو صرف نئے انداز میں ہم مل رہے ہیں ۔جب ہم شادی کی سالگرہ مناتے ہیں وہ بھی یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ تمہارا ایک سال ضائع ہو گیا ۔اپنا برتھ ڈے منانا گویا اپنی بے وقوفی کا اظہار کرنا ہے۔کہ آدمی کا سال کم ہو جائے اور وہ اس پر خوشیاں منائے۔ 2024 شروع ہوگیا ۔کیا آپ نے کوئی ہدف (Goal) متعین کیا ؟ہمیں ایک اپنا ہدف مقرر کرنا ہوگا اور اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے پوری جی توڑ محنت کرنی ہوگی۔ ہر عقلمند انسان آنے والے دن سے پہلے آنے والے دن کے بارے میں اگر پلاننگ کر لے کہ ہمیں کل کون کون سے کام کرنے ہیں ۔ان میں سے کون اہم ہے اس کا فیصلہ کر کے اس کو پہلے حاصل کریں۔ پورے 24 گھنٹے کے کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بانٹ دیں ۔اس طرح اپنے وقت کی قدر کریں۔ عربی مقولہ ہے الوقت اثمن من الذہب کہ وقت سونا سے زیادہ قیمتی ہے ۔اسی طرح وقت کی قدر کریں وقت کو بےکار کاموں میں ضائع نہ کریں ۔ دنیا کی ہر چیز کبھی بھی حاصل کی جا سکتی ہے لیکن وقت کے گزر جانے پر وقت کا حصول ممکن ہی نہیں۔ دوسرا اہم سبق یہ ہے کہ آپس میں متحد رہیں۔دیوبندی،بریلوی ،شیعہ سنی نہ بنیں۔ صرف زندہ مسلمان بن کر رہیں۔ اتحاد سے بڑھ کر ایمان و یقین کے بعد کوئی دولت نہیں ۔تیسری بات یہ ہے کہ اپنے رشتہ داروں کا خصوصا خیال رکھیں۔کیونکہ آج کے اس پر آشوب حالیہ نظام میں سارے رشتے ٹوٹ کر بکھر گئے ہیں۔ چوتھی بات یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو تعلیم دلائیں۔ خواہ ہمیں اسکے لئے کچھ بھی کرنا پڑے۔بچوں کو یہ بھی بتائیں کہ قرآن کا پہلا سبق تعلیم ہے۔ تعلیم کے بغیر نہ تو عزت ہے اور نہ ہی وقار۔ اور نہ ہی معاشی طور پر استحکام ملتا ہے۔ آج بھی ہم اگر دنیا کے اندر عزت اور وقار حاصل کرنا چاہتے ہیں اور عزت و وقار کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو تعلیم حاصل کرنا ہوگا۔ علم کی پیاس اپنے اندر پیدا کرنی ہوگی۔ پانچویں بات یہ ہے کہ دین کو ٹارچ مان کر اس کی روشنی میں ہم اپنی پوری زندگی گزاریں ۔کیونکہ جہاں دین نہیں ہوتا وہاں نسلیں تباہ اور برباد ہو جاتی ہیں۔ٹھیک اسی طرح جس طرح بارش نہ ہونے پر فصلیں برباد ہو جاتی ہیں۔
اس نئے سال پر ہم سب مل کر یہ عزم کریں کہ ہم اسلام کی روشنی میں پوری زندگی گزاریں گے ۔ اتحاد کے علمبردار رہیں گے اور اعلی تعلیم حاصل کر کے ایک وقار والی زندگی گزاریں گے۔ محبت کے ساتھ رہیں گے ۔اور اپنے خاندان ،قوم اور ملک و ملت کے لیے کچھ ایسا کر جائیں کہ مرنے کے بعد بھی ہمارا نام تاریخ کے اوراق میں درج ہو۔ اگر یہ نہ کیا تو کوئی بھی سال آجائے اس سے ہماری لائف پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ زندگی یوں ہی کٹتی چلی جائے گی وقت آپ کو بعد میں سبق سکھائے گا۔ اگر آپ کے دنیا سے چلے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑا تو سمجھ لیں کہ آپکی زندگی قابل اعتنا نہ تھی ۔ اس لیے اس نئے سال کو پوری بیداری اور تندہی کے ساتھ گزاریں۔ کہ آنے والی نسلیں بھی آپ پر رشک کرے۔۔۔۔
