بارہ بنکی(ابوشحمہ انصاری): گزشتہ دنوں مدرسہ جامعہ مدینۃ العلوم رسولی کے مؤقر استاد مولانا محمد جواد قاسمی کا 61 سال کی عمر میں اچانک حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے انتقال ہوگیا تھا۔

مولانا محمد جواد قاسمی موضع کھجونہ ضلع ہردوئی سےتعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے تقریباً 36 سالوں تک جامعہ مدینۃ العلوم رسولی میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ جمعہ کے روز علی الصباح جیسے ہی یہ اندوہناک حادثہ رونما ہوا۔ جس کی بناء پر ہر ہشاش و بشاش چہرے پر پزمردگی و اداسی چھانے لگی۔ پرسکون ماحول بے چینی اور اضطراب میں تبدیل ہوگیا۔

ضلع بارہ بنکی خصوصاً رسولی میں مولانا کے شاگردوں کی آہ و بکا اور گریہ زاری سے ان گھروں میں غمگین ماحول بن گیا۔ اور پھر فون پر ہر چھوٹے بڑے کی جانب سے تعزیتی کلمات کا دَور شروع ہوگیا۔ یہ سب کچھ صرف اس لئے ہوا کہ مدرسہ جامعہ مدینۃ العلوم رسولی ایک بے مثال عالمِ دین سے محروم ہوگیا۔

ان کی موت پر جامعہ کے سینئر استاد مولانا محمد ارشد قاسمی نے ممبئی سے نمائندے کو فون پر اپنے غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا جواد قاسمی نور اللہ مرقدہ بہت ہی نیک اور علمی صلاحیتوں کے مالک تھے۔ ان سے میرا پچھلے چالیس سالوں سے قدیمی ربط رہا ہے۔ ان سے میرا زمانۂ حفظ سے مدینۃ العلوم رسولی اور پھر دارالعلوم دیوبند تک ساتھ رہا۔ پھر فراغت کے چند سالوں بعد وہ جامعہ ہذا کے مدرس مقرر ہوئے۔ اور تب سے اب تک ہمارا ان کا ساتھ رہا۔ ان کی وفات پر میرا دل بہت رنجیدہ ہے۔ ان کی تعلیمی و تدریسی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ ان جیسی صلاحیتوں والی شخصیت کا ملنا بہت مشکل ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرماکر آخرت کی تمام منزلیں آسان بنائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے