ظہیرآباد.28/جون (مشرقی آواز جدید): آئیٹا تلنگانہ کے پرنٹ میڈیا سیکریٹری محمد معین الدین نے اپنے ایک پریس نوٹ میں بتایاکہ بھرت چندرا اسکول پرکٹ ( آرمور ) ضلع نظام آباد میں ہوئے اردو ٹیچر پر حملے کی آئیٹا ( AIITA ) سخت مذمت کرتی ہے ۔ عامر سر پر حملہ پوری ٹیچر برادری پر حملہ ہے ۔ اسکول مینجمنٹ نے مسلم اولیائے طلبہ کے مطالبے پرمسلم طلباء کو اردو سکھانے کا فیصلہ کیاگیا۔ہوسکتا ہےکہ مینجمنٹ سے اپروچ میں کوئی غلطی ہوئی ہو ویسے اردو کوئی ممنوع زبان نہیں ہے یہ تلنگانہ کی دوسری سرکاری زبان ہے ۔سہ لسانی فارمولے کے تحت طلبہ اختیاری طور پر اردو زبان کا انتخاب کر سکتے ہیں۔لیکن لگتا ہے کچھ فرقہ پرست عناصر نے سستی شہرت کے لئے عمدا”یہ ڈرامہ رچا ہے۔ پولیس کی موجودگی میں ٹیچر پر حملہ پولیس پر عوام کے اعتماد کو متزلزل کررہاہے۔ میر ممتاز علی صدر و عبدالمجیب سکریٹری آئیٹا تلنگانہ نے کہا کہ یہ ایک ٹیچر پر حملہ نہیں بلکہ پوری ٹیچر برادری کے وقار پر حملہ ہے۔ انہوں نے پولیس ڈیپارٹمنٹ سے مطالبہ کیا کہ وہ منصفانہ تحقیقات کرتے ہوئے خاطی افراد پر قانون کے مطابق سخت سے سخت کاروائی کریں نیز محکمہ تعلیمات کے ذمہ داروں سے آئیٹا مطالبہ کرتی ہے کہ اس واقعہ کا سخت نوٹ لیتے ہوئے سخت ترین قانونی کاروائی کریں تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات کا اعادہ نہ ہو۔۔۔۔
