جنرل باڈی اجلاس کا آغاز تاریخی گھنٹی کی صدا سے، سابق چیئرمین خالد اے ایچ انصاری نے روایت برقرار رکھی
جاوید جمال الدین
ممبئی کی تاریخی شناخت صرف اس کی بندرگاہ، تجارت، صنعت یا کرکٹ تک محدود نہیں بلکہ یہ شہر اپنے اندر فوجی، سماجی اور نوآبادیاتی دور کی بے شمار یادگاریں بھی سمیٹے ہوئے ہے۔ جنوبی ممبئی میں واقع بمبئی جمخانہ انہی تاریخی اداروں میں سے ایک ہے، جہاں آج بھی کئی ایسی روایات زندہ ہیں جو ڈیڑھ صدی قبل کے برطانوی دور کی یاد تازہ کرتی ہیں۔ ان ہی روایات میں ایک اہم روایت "بمبئی لائٹ ہارس کوارٹر گارڈ بیل” کی ہے، جس کی گونج آج بھی ماضی کو حال سے جوڑتی ہے۔
حال ہی میں بمبئی جمخانہ کی جنرل باڈی میٹنگ کا آغاز حسبِ روایت اسی تاریخی گھنٹی کو بجا کر کیا گیا۔ اس موقع پر بمبئی جمخانہ کے سابق چیئرمین، ملک کے ممتاز بزرگ صحافی پدم شری خالد اے ایچ انصاری نے دیگر عہدیداران کے ہمراہ اس تاریخی گھنٹی کو بجایا اور یوں ایک صدی سے زائد قدیم روایت کو ایک بار پھر زندہ کیا۔
وقت کی محافظ گھنٹی
یہ گھنٹی دراصل بمبئی لائٹ ہارس (Bombay Light Horse) کے کوارٹر گارڈ کی گھنٹی ہے۔ بمبئی لائٹ ہارس ایک رضاکار گھڑسوار فوجی یونٹ تھا، جس کی باضابطہ تشکیل 1885 میں عمل میں آئی۔ ابتدا میں یہ انڈین وولنٹیئر فورس کا حصہ تھا، بعد میں انڈین ڈیفنس فورس اور پھر آکزیلری فورس (انڈیا) میں شامل کیا گیا۔
اگرچہ یہ گھڑسوار یونٹ تھا، لیکن اس کے اہلکار روایتی کیولری کے بجائے "ماؤنٹڈ انفنٹری” کے طور پر خدمات انجام دیتے تھے۔ اس دستے نے برطانوی دور میں بمبئی کے دفاعی انتظامات میں معاون کردار ادا کیا۔ آزادی کے بعد 1947 میں اس یونٹ کو تحلیل کر دیا گیا، تاہم اس کی تاریخی یادگاریں آج بھی اس دور کی گواہی دیتی ہیں۔
جب گھنٹی ہی وقت بتاتی تھی
انیسویں اور بیسویں صدی کے اوائل میں، جب نہ لاؤڈ اسپیکر تھے اور نہ ہی جدید مواصلاتی ذرائع، فوجی نظم و ضبط قائم رکھنے کے لیے کوارٹر گارڈ بیل انتہائی اہم سمجھی جاتی تھی۔
یہ گھنٹی فوجی یونٹ کی "ٹائم کیپر” تھی۔ اس کی آواز پر پریڈ کا آغاز ہوتا، گارڈ تبدیل کیے جاتے، روزمرہ کی فوجی ڈیوٹیاں شروع ہوتیں، ہنگامی صورتحال کا اعلان کیا جاتا اور مختلف انتظامی سرگرمیوں کا وقت متعین کیا جاتا۔ گویا ایک گھنٹی پورے فوجی نظام کے نظم و ضبط کی علامت تھی۔
بمبئی جمخانہ اور بمبئی لائٹ ہارس کا تاریخی رشتہ
تاریخی حوالوں کے مطابق 1870 کی دہائی میں جہاں آج بمبئی جمخانہ واقع ہے، وہاں بمبئی رائل گالف کورس (BRG) قائم تھا، جس کی حدود آزاد میدان، اوول میدان اور کراس میدان تک پھیلی ہوئی تھیں۔
اسی علاقے سے بمبئی لائٹ ہارس کا فوجی یونٹ بھی وابستہ تھا، جس کی کوارٹر گارڈ بیل بعد ازاں بمبئی جمخانہ کے تاریخی ذخیرے کا حصہ بن گئی۔
1875 میں قائم ہونے والا بمبئی جمخانہ برصغیر کے قدیم ترین اور باوقار کلبوں میں شمار ہوتا ہے۔ کھیل، سماجی سرگرمیوں اور شہری روایات کے ساتھ ساتھ اس ادارے نے اپنے نوآبادیاتی دور کی متعدد تاریخی یادگاروں کو بھی نہایت اہتمام سے محفوظ رکھا ہے، جن میں یہ گھنٹی خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔
خالد اے ایچ انصاری: صحافت، کھیل اور سماجی خدمات کا معتبر نام
اس موقع پر تاریخی گھنٹی بجانے والوں میں شامل پدم شری خالد اے ایچ انصاری کا نام ممبئی کی صحافت، کھیلوں کی انتظامیہ اور سماجی خدمات کے میدان میں بڑی عزت سے لیا جاتا ہے۔
وہ ملک کے سینئر ترین صحافیوں میں شمار ہوتے ہیں اور کئی دہائیوں تک قومی اور بین الاقوامی صحافت سے وابستہ رہے۔ انہوں نے صحافتی دیانت، متوازن تجزیے اور عوامی مسائل کی مؤثر ترجمانی کے ذریعے اپنی الگ شناخت قائم کی۔
خالد اے ایچ انصاری بمبئی جمخانہ کے سابق چیئرمین بھی رہ چکے ہیں۔ ان کی قیادت میں کلب نے اپنی تاریخی روایات کے تحفظ، کھیلوں کے فروغ، بنیادی سہولیات کی بہتری اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے متعدد اہم اقدامات کیے۔ وہ کھیلوں کے فروغ، نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور مختلف رفاہی سرگرمیوں میں بھی سرگرم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں صحافت، کھیلوں کی تنظیم اور سماجی خدمات، تینوں میدانوں میں یکساں احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
آج بھی برقرار ہے تاریخی روایت:
وقت کے ساتھ اس گھنٹی کی عملی فوجی حیثیت ضرور ختم ہو گئی، لیکن اس کی علامتی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں ہو چکی ہے۔
آج یہ گھنٹی ہر سال یومِ جمہوریہ (26 جنوری)، یومِ آزادی (15 اگست)، بمبئی جمخانہ کی سالانہ جنرل باڈی میٹنگ، منیجنگ کمیٹی کے اجلاسوں اور یومِ تاسیس کی تقریبات کے آغاز کا اعلان کرتی ہے۔ اس طرح یہ صرف ایک تاریخی نوادرات نہیں بلکہ ممبئی کی فوجی، سماجی اور کھیلوں کی مشترکہ تاریخ کا ایک زندہ استعارہ بن چکی ہے۔
تاریخ کی گونج:
بمبئی لائٹ ہارس کی یہ تاریخی گھنٹی اس حقیقت کی یاد دلاتی ہے کہ ممبئی کی تاریخ صرف معاشی ترقی کی داستان نہیں بلکہ اس میں فوجی روایات، رضاکارانہ خدمات، کھیلوں کے فروغ اور شہری اداروں کی ارتقائی تاریخ بھی پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔
جب بھی بمبئی جمخانہ میں یہ گھنٹی بجتی ہے تو اس کی آواز محض کسی اجلاس یا تقریب کے آغاز کا اعلان نہیں کرتی بلکہ ڈیڑھ صدی پر محیط ایک ایسے تاریخی ورثے کی گواہی بھی دیتی ہے جو آج بھی زندہ ہے اور آنے والی نسلوں کو ممبئی کے ماضی سے جوڑے ہوئے ہے۔
