مسلمانوں میں احسن کمال پرویز ، ایم اے سمیع ، میرتحسین علی کے نام پرآیاغور کیاجاسکتاہے ؟!
بیدر۔ 8؍جنوری (محمدیوسف رحیم بیدری): جناب اروندکمارارلی رکن قانون سازکونسل کی میعاد ماہ جون میں ختم ہونے جارہی ہے۔ اروندکمارارلی بنیادی طورپر کانگریس کے کاریہ کرتہ رہے ہیں۔ ان کی زندگی کا آغاز صحافت سے شروع ہوا۔ اور وہ کنڑی صحافت سے نوجوانی میں ہی کانگریس پارٹی سے وابستہ ہوئے ۔ضلع کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریڑی کے عہدے پر کام کرنے کے بعد کینسر جیسے خطرناک مرض میں مبتلا ہوکروہ فریش ہوگئے تھے۔
کس کی قسمت کیسے جاگ جائے یہ وقت ہی بتاتاہے۔ وقت نے اروندکمارارلی کو بستر ِ مرض سے اٹھاکر MLCکی کرسی پر بٹھادِیا۔ کانگریس کی اس وقت کی قدآور شخصیت ڈاکٹرملیکارجن کھرگے (موجودہ قومی صدر ) کی سفارش پر وہ بیدر سے ایم ایل سی بنائے گئے۔ حالانکہ مسٹر ارلی یہ چاہتے تھے کہ انہیں BDAچیرمین بنایاجائے۔ بی ڈی اے کی چیرمین شپ سنجے جاگیردار کے حق میں چلی گئی ۔ وہ خالی ہاتھ رہ گئے تھے لیکن قسمت نے یاوری کی اور وہ بی ڈی اے چیرمین سے بڑے عہدے MLCپر فائزکئے گئے۔ ایم ایل سی بننا اروندکمارارلی کے لئے ایک خواب کی طرح تھا اور ایک چیلنج بھی تھا۔ طبیعت کی ناسازی، بی جے پی حکومت کاکرناٹک پر راج اور کورونا کی آمد تینوںنے مل کر ان کی سرگرمیوں کوپوری طرح محدود کرنے کی حددرجہ کوشش کی۔ بی جے پی حکومت نے بتایاکہ کورونا کے سبب فنڈ نہیں ہے۔ فنڈ کے لئے انتظار کریں۔ انھوں نے ایم ایل سی فنڈ کاانتظار کیا۔ تقریباً ڈیڑھ سال تک بغیر فنڈ کے کام کرتے رہے۔ اس کے بعد انہیں فنڈ حاصل ہوا۔ اس فنڈ کی ریلیز کے لئے بھی انھیں مسائل کاسامناکرناپڑا۔اروندارلی نے ان رکاوٹوں کو بھی پار کرلیااور فنڈریلیز کروانے میں کامیابی حاصل کی۔
دوسری جانب موصوف نے بی جے پی حکومت میں کونسل میں اس قدر سوالات کئے کہ بی جے پی حکومت تنگ آگئی ۔ یہاں تک کہ ایک دن وزیراعلیٰ بسواراج بومئی کو کہناپڑاکہ ارلی ، تمہارا جو بھی سوال ہے اس کاجواب میں دوں گا۔ تم کونسل میں زیادہ شور نہ کرو۔ اروند کمارارلی کے سوالات کاتعلق بی جے پی حکومت کے اسکامس سے لے کر مسلم ، کرسچین، بودھ اور دیگر مینارٹیز سے متعلق رہاکرتاتھا۔ خصوصاً مسلم ایم ایل اے نے اعتراض جتایاکہ تمہیں چاہیے کہ تم صرف ایس سی ؍ایس ٹی سے متعلق سوال کریں۔ مسلمانوں کے معاملات تک تم کیوں پہنچ رہے ہو؟ تمہیں مسلمانوں سے متعلق سوالات نہیں کرناچاہیے۔ کیوں کہ وہ سوالات ہم کریں گے۔ سچا ئی یہ ہے کہ جن مسلم ایم ایل اے نے اعتراض کیا، ان سے زیادہ مسلمانوں کے ایشوز پر اروندکمارارلی نے کونسل میں سوالات کئے جس کافائدہ مسلمانوں کو کسی نہ کسی حوالے سے پہنچا۔ ایس سی ؍ایس ٹی کے لئے سوالات کرنے والے بھی ایم ایل سی اروندکمارارلی ہی تھے۔ بلکہ ان کے مسلسل سوالات نے جہاں بی جے پی حکومت کی نینداڑادی تھی وہیں حکومت اور اپوزیشن دونوں نے محسوس کیاکہ اروندکمارارلی ایک سنجیدہ ایم ایل سی ہیں اور وہ تقریباً تمام ایشوز پر بات کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ جس وقت نائب اسپیکر بنایاجارہاتھااس وقت کانگریس پارٹی کی جانب سے نائب اسپیکر کے عہدے کے لئے وہی امیدوار تھے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ کانگریس کے پاس میجارٹی نہیں تھی لیکن کانگریس پارٹی کا ان پر اعتبار ایسے ہی نہیں تھا۔ ان کاکام ان کے لئے نائب اسپیکر کے عہدے کی راہ کھول چکاتھا۔
ایم ایل سی اروندکمارارلی نے ضلع سطح پر بھی ڈپٹی کمشنر وں کی جانب سے ہونے والی ناانصافی کو اجاگر کرنے اور انصاف دلانے کے لئے کئی ایک درخواستیں ڈپٹی کمشنروں کے خلاف حکومت کو پیش کیں اور انہیں کٹہرے میں لاکھڑا کیا۔ بی ڈی اے کے رکن کی حیثیت سے موصوف نے بی جے پی کے چیرمین بابووالی کے کام پر انکش لگائے اورآج بھی بابووالی کے زمانے کی دوایسی نشستوں پر پابندی ہے جس میں مختلف فیہ فیصلے لئے گئے تھے۔ بیدر بلدیہ میں ٹیکسیس کی وصولی کے لئے انھوں نے کمشنر بلدیہ سے صاف صاف بات کی اور ان کی رہنمائی کرتے ہوئے ٹیکس وصولی کے لئے حوصلہ دلایااور قانونی راہیں سجھائیں۔ بیدر کی اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے لئے کام کیا۔ دورے کئے۔ عیدگاہ بیدر کے ذریعہ سماجی کام کرنے کی ترغیب دی اور اسی طرح قبرستان کی اراضی کے لئے بھی کوشش کی۔
بی جے پی کے دور حکومت میں بیدر میں منی ودھان سودھا اور انتظامی کامپلکس کی تعمیر کے لئے اراضی کامعاملہ اس وقت کے ضلع انچارج وزیر پربھوچوہان اور رکن اسمبلی رحیم خان کے دوران نزاعی بن گیاتھا۔ ضلع انچارج وزیر پربھوچوہان ڈپٹی کمشنر دفتر کو بید رسے 8کیلومیٹر کی دوری پر کولارمیں واقع محکمہ ریشم کی سرزمین پرتعمیرکرناچاہتے تھے۔ ایسے میں وہ شخص اروندکمارارلی ہی تھے جنہوں نے ہارٹی کلچر کالج کے لئے محکمہ ریشم کی 52ایکڑ سے زائد زمین حاصل کرتے ہوئے ضلع انچارج وزیر پربھوچوہان کو سیاسی زک پہنچائی تھی۔اب وہاں کوئی زمین نہیں ہے۔ ایم ایل سی اروندکمارارلی کایہ ہتھوڑا پربھوچوہان بھولے نہیں ہیں۔ ان کی سیاسی زندگی کی یہ وہ شکست ہے جس کو وہ کبھی بھول بھی نہیں سکیں گے۔
ایسے کئی ایک کام ہیں جو اروندکمارارلی نے انجام دے ہیں۔ اسلئے اروندکمارارلی کودوبارہ ایم ایل سی بنانا ضلع بیدر کی ضرورت ہے۔ اگر وہ ہٹادئے جاتے ہیں تو بی جے پی سے مقابلہ کرنے والا اس سطح کاقائد کوئی نہیں ہوگا۔ اروندکمارارلی مسلمان ، کرسچین ، بودھ ، لنگایتوں اور ہندوؤں کاایک طبقہ اور ایس سی ؍ایس ٹی طبقات میں نہایت ہی مقبول لیڈرہیں۔ وہ باتیں نہیں کرتے بلکہ کام کرنے پر زور دیتے ہیں۔ ان کی ڈرافٹنگ کے سامنے سبھی منمنانے لگتے ہیں۔ بی جے پی حکومت سے ٹکر لینے والا بید رجیسے پسماندہ علاقہ کا ایک قابل ترین لیڈرجس کو آزماکر دیکھاگیاہو اس کو دوبارہ اسی سیٹ پر بٹھانا نہایت ہی ضروری ہے۔ورنہ پچھتاؤں کے علاوہ کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔بی جے پی نے بیدر سے اب تک تین دفعہ رگھوناتھ ملکاپورے کو ایم ایل سی بنایاہے تو ایسے میں اروندکمارارلی کوکانگریس کی جانب سے دوسری دفعہ ایم ایل سی بنانا ضرور ی ہوجاتاہے۔
اگر اروندکمارارلی کے لئے کانگریس پارٹی نے قومی سطح پر کوئی عہدہ سوچ رکھاہے تو ایسے میں بیدر کی ایم ایل سی سیٹ کسی مسلمان کو دینا چاہیے۔یہ مطالبہ ضلع بیدر کے مسلمانوں کاہے۔ جیساکہ اس سے قبل اس سیٹ پر قاضی ارشد علی دودفعہ ایم ایل سی نامزد کئے گئے تھے ۔ بیدر کی ایم ایل سی سیٹ کے لئے مسلمانوں میں سابق ایم ایل اے اورسابق ایم ایل سی مرحوم محسن کمال کے فرزند احسن کمال پرویز، ایم اے سمیع جنرل سکریڑی ، میرتحسین علی بسواکلیان اور دیگرمیں سے کسی ایک کاتقرردرست رہے گا۔ نئے نام یاپھر کرناٹکامسلم متحدہ محاذکے افراد پر نظر ڈالی جائے تو بید رکے حوالے سے جناب حامد قادری ، جناب رفیق احمد ، مولانا مونس کرمانی وغیرہ کے نام پرغور کیاجاناچاہیے۔ گوکہ اس کاامکان کم ہے کیوں کہ کانگریس پارٹی اپنے قائدین اور کارکنوں سے آگے بڑھ کر معاشرے میں بے لوث کام کرنے والوں پرنظر ڈالنے سے ہمیشہ بچتی رہی ہے۔ اس دفعہ بھی شاید ایساہی کچھ ہوجائے۔اس لئے ایم ایل سی اروندکمارارلی کو دوبارہ MLC نامزد کرناخود ایشور کھنڈرے اور رحیم خان جیسے ضلع بیدر کے دونوں وزراء کے لئے معاونت اور نیک نامی کاسبب بنے گا۔
