بارہ بنکی(ابوشحمہ انصاری): گزشتہ شب بزم عزیز کی ماہانہ طرحی نشست الحاج نصیر انصاری کی رہائش گاہ پر منعقد ہوئی۔جس کی صدارت طارق جیلانی نے اور نظامت کے فرائض ہزیل لعل پوری نے انجام دیٸے مہمان خصوصی کی حیثیت سے مسٹر امیٹھوی و صغیر نوری نے شرکت کی۔نشست میں پڑھے گئے اشعار نذر قارئين ہیں:

اس بات کو سمجھنا آساں نہیں ہے لوگو

جو بات کہہ گیا اک دیوانہ بے خودی میں

نصیر انصاری

ایماں کی آزمائش ہے پاک دامنی میں

 زاہد کا امتحاں بھی ہوتا ہے بندگی میں

عرفان بارہ بنکوی

جو کچھ ہے پاس تیرے قربان اس پہ کر دے

 یہ شرط لازمی ہے قانون عاشقی میں

 مسٹر امیٹھوی

جو بات ہم نے دیکھی اس ایک آدمی میں

 وہ بات ہم نے دیکھی اب تک نہیں کسی میں

ماسٹر عرفان بارہ بنکوی

یہ عشق ہی خدا ہے بس عشق ہی خدا ہے

اک رند کہہ رہا تھا کل رات بے خودی میں

 صغیر نوری

ممکن نہیں کہ گزرے دن رات عیش ہی میں

آتی ہے شام غم بھی انساں کی زندگی میں

 ہزیل لعل پوری

امید کیا لگائیں ہم اپنے منصفوں سے

 جو فرق ہی نہ سمجھیں نیکی میں اور بدی میں

 ارشاد بارہ بنکوی

اس بات کا ہے چرچا ہر گاؤں ہر گلی میں

بادام جیسی طاقت ہوتی ہے موم پھلی میں

نفیس بارہ بنکوی

کیا خاص بات آخر رکھتا ہے حسن ان کا

 چرچے جو ہو رہے ہیں ان کے گلی گلی میں

سرور کنتوری

دلکش ادا سے اپنی دل لوٹ لے گیا وہ

اک درد دے گیا ہے دل کو ہنسی ہنسی میں

بشر مسولوی

اس کے علاوہ شمس زکریاوی، تابش بارہ بنکوی، نظر مسولوی، حیدر مسولوی، عارف شہاب پوری، صبا جہانگیر آبادی نے بھی اپنا طرحی کلام پیش کیا ۔ آخر میں بزم کے جنرل سکریٹری نے سبھی کا شکریہ ادا کیا ۔بزم کا آئندہ طرحی مشاعرہ مصرع طرح "دل میں کسی کی یاد بسائے ہوئے ہیں ہم” پر ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے