از قلم: عرفان افضل، بنگلورو
اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ہے کہ مسجد اللہ کا گھر ہے اور مسجدوں کے تعمیر میں حصہ لینے سے کئی نیکیوں کی بشارت مل جاتی ہے۔ ویسے احادیث کی روشنی میں ثابت ہے مسجد کی تعمیر میں حصہ لینے والوں کے لئے جنت میں محلات تعمیر کئے جاتے ہیں۔ صرف چنداینٹوںکی مدد سے کئی نیکیاں حاصل ہو جاتی ہیں۔ اور اسی لئے امت ِ مسلمہ میں اکثر کسی بھی دیگر کارِ خیر سے بڑھ کرمسجد کی تعمیر، جدید کاری اور دیگر اخراجات کے لئے کچھ ہی دنوں میں کئی لاکھ یا یوں کہیں کروڑ وں روپئے بھی جمع ہو جاتے ہیں۔ پہلے شہروں میں اکادُکا ہی مسجد ہوتی تھی۔ پھر آبادیوں کی تناسب سے مساجد تعمیر ہوتی گئیں یعنی پہلے جامع مسجد جو شہر کی سب سے بڑی مسجد ہوتی تھی اور اس کے بعد کچھ مسلک کے ٹھیکیداروں نے اپنی اپنی مسالک کی مساجد بنا دیں۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ ہر محلہ یا یوں کہیں ہر گلی میں کم از کم دو یا اس سے زائد مساجد بن گئیں لیکن اب مساجد کے باہر یہ باتیں عام کر دی گئیں کہ فلاں فلاں مسلک کی اس مسجد میں نماز پڑھنا ممنوع ہے یا اس امام کو ماننے والوں کا اس مسجد میں داخلہ ممنوع ہے۔ یعنی اقبال نے جو کہا تھا ؎
مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن نہ سکا
ہم یہ بھی نہیں سمجھتے کہ ہمارے اس رویہ سے ہمارے بھائی کو کیا تکلیف پہنچے گی یا پھر دشمنانِ ملت کو اسلام کے خلاف شرارت کرنے کی کون کون سی نئی تجاویز ہم خود مہیا کروا رہے ہیں۔ اور دوسری جانب ہم نے اسکولوں کو صرف کاروباری اور تجارتی مراکز بنا ڈالاہے۔ پہلے تو یہ ہے کہ ہم نے سرکاری مدرسوں میں اس لئے دھیان نہیں دیا کہ یہ ہمارا کام نہیں یہ تو حکومت کا کام ہے۔اور پھر وہاں سے اپنے بچوں کو یہ کہہ کر نکال لائے کہ یہاں کا تعلیمی معیار ٹھیک نہیں، اساتذہ غیر ذمہ دار ہیں، اسکول کی بلڈنگ اچھی نہیں یا پھر ہمیں یہ اسکول ہی پسند نہیں۔ کچھ احباب نے اپنی استطاعت اور محنت اور اپنے صرفِ خاص اور دیگر احباب کی مدد سے ایک اسکول کی بنیاد یہ سوچ کر ڈالی کہ ہمارے قوم کے بچوں و بچیوں کے لئے مناسب تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی ماحول و تعلیمات سے آراستہ کیا جائے گا۔لیکن کچھ عرصہ بعد ان کی نیت میں کھوٹ آگئی اور انہوں نے عصری تعلیم کے مدرسہ کو کمائی کا مرکز بنا دیا اور اب وہ مدرسہ نہیں اسکول بن گئی جہاں ہر بات کی فیس طے ہے۔ اگر وہ فیس نہ لیں تو ان کا خرچہ نہ نکلے۔ صحیح بات ہے اگر اسکول کی زمین یا عمارت کرایہ پر ہے تو ایک مختص رقم نکالنا ہی پڑتا ہے پھر اس کے بعد اساتذہ کی تنخواہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کی تنخواہیں سرکاری اساتذہ کے مقابلے بہت کم ہوتی ہیں لیکن یہ رقم بھی کچھ کم نہیں ہوتی ہیں۔ اس کے بعد اسکول کے عملے، بجلی اور پانی کی بل اور دیگر اخراجات کل ملا کر ماہانہ اتنی رقم ہوتی ہے کہ ہر ماہ کچھ نہ کچھ رقم دیناباقی رہ جاتا ہے۔ اس لئے ان اسکولوں نے ہر جائز وناجائز معاملے پر فیس طے کر دی ہے۔ اسکول میں کوئی جلسہ یا تقریب منعقد کرنی ہو تو والدین کی جیب پر ڈاکہ ڈالا جاتا ہے۔ اس بات سے ان اسکول والوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس بچے کے والدین آٹو ڈرائیور، درزی، بڑھائی یا پھر کوئی بھی مزدوری کرتے ہوں لیکن ان کی طے شدہ پوری فیس ان اسکول والوں کو مل جانی چائیے لیکن دوسری طرف وہ مینجمنٹ والے جو اپنے کاروبار یا کہیں اور سے اکٹھا کردہ رقم کے ذریعہ بڑی محنت و مشقت کے ساتھ اسکول چلاتے ہیں۔ ان کا پرسان حال کوئی نہیں کیوں کہ جو اسکول بے وجہ اور بہت تگڑی رقم لیتے ہیں وہ وزراء اور دیگر قائدین شہر کو اپنی تقریب میں بطور مہمان مدعو کرتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے اس تقریب کا خرچ وہاں پڑھنے والے بچوں کے والدین سے وصول کیا جاتا ہے اور وزیرِ موصوف سے اپنے ذاتی کام کا وعدہ بھی کروا لیتے ہیں۔ دوسری جانب وہ اسکول جو بچوں سے کم فیس یا کچھ بچوں کو مفت میں ہی تعلیم کا انتظام کرتے ہیں وہ کسی صورت دکھاوے کیلئے لوگوں کو مدعو نہیں کرتے۔ اس لئے ان کو حکومت سے کوئی خاص مالی امداد بھی نہیں ملتی اور نہ ہی کوئی یم یل اے یا سیاسی رہنما ان کی خبر گیری کرتا ہے اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس اسکول کو مالی امداد کے لئے ہاتھ پھیلانے پڑتے ہیں۔
بات بہت کڑوی ہے لیکن اگر ہم اطمینان سے سوچیں تو معلوم ہوگا ہم ہر سال مسجدوں میں جہاں پہلے ہی اچھا فرش ہے، وہاں صرف مساجد کے مینجمنٹ والوں کی خواہش کی خاطر لاکھوں روپے ہدیہ، اور رقم اپنے مرحومین کے ایصالِ ثواب کی خاطر دے دیتے ہیں کہ اللہ کے گھر خرچ کرنے سے آخرت سنور جائے گی لیکن اس اسکول کو ہم بالکل بھی رقم نہیں دیتے جو ہمارے بچوں کو صبح ’’پرارتھنا‘‘ یا ’’پریر‘‘ Prayer کی بجائے دعائیں پڑھاتے ہیں۔ جہاں بچوں کو ہاتھ جوڑ کر پوجا کرنا نہیں بلکہ قرآن کی آیات یا نماز کا طریقہ بتاتے ہیں ۔جہاں بچوں کو اچھے شہری بننے کی تعلیم دی جاتی ہے۔ ہم ایسے مستحق اور کمزور اسکول کے اداروں کی امداد نہیں کرتے۔ اور نہ ہی ان کی خبر گیری ہی کرتے ہیں۔اگر ہم صحیح معنی میں خدا کو راضی کرنا چاہتے ہیں تو مستحق جگہوں پر چاہے مسجد ہو یا مسلم مینجمنٹ اسکول کی مالی امداد دل کھول کر کریں۔ مسجد یا اسکول کی امداد کرتے وقت خود بھی اس میں پوری طرح شامل رہیں جس کام کی مینجمنٹ والے مانگ کر رہے ہیں کیا اس کی واقعی ضرورت ہے یا کام چلایا جا سکتا ہے۔ کبھی کبھی ہم جانے انجانے میں غلطی کر بیٹھے ہیں۔ اس لئے اسکول، مسجد یا پھر کسی کو بھی مالی امداد کرنا ہو آپ خود اس میں شامل ہوکر امداد کریں۔ اگر آپ دور ہیں تو ایسے اشخاص جن پر بالکل بھروسہ کر سکتے ہیں ان کے ذریعہ امداد کاکام کریں۔ اس مضمون کا یہ مقصد بالکل نہیں کہ آپ مساجد کو نظر انداز کریںلیکن کہنا یہ ہے کہ آپ مسلم مینجمنٹ اسکولوں پر بھی وقتاً فوقتاً دھیان دیں ۔ جو وقت کی اہم ضرورت بھی ہیں۔ مساجد والے اعلان کروا کر مانگ سکتے ہیں لیکن مسلم مینجمنٹ اسکول اگر ایسا اعلان کروائیں توان اسکول والوں کا صرف مذاق ہی بنایا جائے گا انہیں کوئی امداد نہیں ملے گی۔آئیے ایسے مسلم مینجمنٹ اسکولوں کی تلاش کی جائے اور انہیں بڑھ چڑھ کر مالی امداد دی جائے تاکہ وہ ہماری قوم کے بچوں کا مستقبل تابناک کر سکیں۔
