ابو احمد مہراج گنج
بات چیت، لڑائی جھگڑا۔ وعظ ونصیحت تقریر و خطابت میں، میں آواز جب حد قبول سے تجاوز کر جاتی ہے تو وہ "شور” میں تبدیل ہو جاتی ہے اور شور جب تسلسل اختیار کر لے تو وہ آلودگی کی شکل اختیار کرلیتا ہے چنانچہ شور کے تسلسل سے پیدا ہونے والی کیفیت کو” صوتی آلودگی” کا نام دیا گیا ہے اور اس صوتی آلودگی کو ناپنے کا بھی ایک پیمانہ ہے ۔شور کو ناپنے کا پیمانہ ڈیسی بل ہوتا ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق زیرو ڈیسی بل کا مطلب وہ کم سے کم آواز ہے جو انسانی کان محسوس کر سکتے ہیں، 20 ڈیسی بل آواز ایک سرگوشی سے پیدا ہوتی ہے، 40 ڈیسی بل آواز کسی پر سکون جگہ میں ہو سکتی ہے، 60 ڈیسی بل آواز گفتگو سے پیدا ہوتی ہے، جب کہ 80 ڈیسی بل سے اوپر آواز انسانی سماعت کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے ۔مطلب یہ کہ اگر آواز 80/85 ڈیسی بل یا اس سے اوپر ہے تو اس سے انسانی سماعت کو نقصان پہنچتا ہے ۔ اور انسانی اعضاء و جوارح کے اضمحلال کا سبب بنتا ہے۔
مذہب اسلام چونکہ دین فطرت ہے اور فطرت کے عین تقاضے کے مطابق ہے اس لیے صوتی آلودگی سے بچنے کے احکامات بھی یہاں بہت بہتر انداز میں پیش کئے گئے ہیں۔
صوتی آلودگی کا پریشر اورتسلسل انسانی اعصاب اور اس کی جسمانی توانائیوں کو یک سر متاثر کرتا ہے۔ بسا اوقات انسان اس صوتی آلودگی کی بدولت معذور بھی ہوجاتا ہے۔ قرآن نے صوتی آلودگی کو ایک منفرد انداز میں نمایاں کیا ہے ،چنانچہ ارشاد خداوندی ہے:
وَ اغۡضُضۡ مِنۡ صَوۡتِکَ ؕ اِنَّ اَنۡکَرَالۡاَصۡوَاتِ لَصَوۡتُ الۡحَمِیۡر۔
’’اور نیچی کر آواز اپنی بے شک بری سےبری آواز گدھے کی آواز ہے ۔‘‘
اسلام نے صوتی آلودگی کو کم کرنے کا کتنا اہتمام کیا ہے کہ بری آواز میں بولنے کے بجائے خود فضول بولنے کو بھی ناگوار تصور کیا گیا ہے اور سکوت و خاموشی کو پسندیدہ عمل شمار کیا گیا ہے،جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من صمت نجا( ترمذی شریف حدیث 2501) ’’جو خاموش رہا، نجات پاگیا۔‘‘
ضرورت سے زیادہ بلند آواز سے بولنا بھی ایذا رسانی كی ایك صورت ہے، حتیٰ كہ قرآن كریم كی تلاوت جیسی عبادت كو بھی ضرورت سے زیادہ بلند آواز میں ناپسند كیا گیا ہے جس سے دوسروں كی عبادت میں خلل آئے یا تكلیف كا باعث ہو۔
عن أبي قتادة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لأبي بكر: مررت بك وأنت تقرأ وأنت تخفض من صوتك، فقال: إني أسمعت من ناجيت، قال: ارفع قليلا، وقال لعمر: مررت بك وأنت تقرأ وأنت ترفع صوتك، قال: إني أوقظ الوسنان وأطرد الشيطان، قال: تخفض قليلا( ترمذی ۔ابوداود)
’’حضرت ابو قتادہؓ روایت فرماتے ہیں : حضور اكرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بكر صدیق ؓسے فرمایا : (رات كو) آپ كے پاس سے میرا گزر ہوا تو آپ ہلكی آواز میں تلاوت فرما رہے تھے، تو حضرت ابو بكر صدیق ؓنے فرمایا : میں اس (ذات) كو سناتا ہوں جس سے میری سرگوشی رہتی ہے، تو حضور اكرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : (آواز كو) تھوڑا سا بلند كر دو، اور حضرت عمرؓ سے فرمایا : آپ كے پاس سے بھی میرا گزر ہوا تو آپ بہت بلند آواز میں تلاوت فرما رہے تھے، تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا : میں سوتے كو جگاتا ہوں اور شیطان كو بھگاتا ہوں، تو حضور اكرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : (اپنی آواز كو) تھوڑا پست كر دو۔‘‘
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز کو عام حالات میں بھی نیچا رکھنے کی تعلیم فرمائی ہے اور اس بات کی اس حد تک اہمیت مد نظر رہی ہے کہ وعظ و نصیحت میں بھی آواز کو پست رکھنے کی تاکید فرماتے ہیں:
عن أبي نضرة أن عائشة رضي الله عنها قالت لقاص المدينة: ضع صوتك عن جلسائك، و تحدث ما أقبلواعليك بوجوههم، فإذا أعرضوا عنك فأمسك، وإياك والسجع في الدعاء۔
’’حضرت ابو نضرۃؓ روایت كرتے ہیں كہ ایك دن امی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے مدینہ كے واعظ سے كہا : اپنی آواز كو شركاء مجلس كے سامنے پست ركھو، اور ان سے وعظ و نصیحت كرو جو آپ كے سامنے موجود ہیں، اگر وہ آپ سے چلے جائیں تو وعظ و نصیحت كو روك دو، اور دعا میں الفاظ كی بناوٹ (تك بندی) سے دور رہو۔‘‘
عن نافع عن ابن عمر رضي الله عنهما قال: قلت له: أ ذكرت هذا الحديث عن أبيك؟ قال: نعم، قال: أرسلت عائشة رضي الله عنها إلى أبي عمر رضي الله عنه في قاص كان يقعد على بابها: إن هذا قد آذاني وتركني لا أسمع الصوت، فأرسل إليه فنهاه، فعاد، فقام إليه أبي عمرُ رضي الله عنهما بعصاه حتى كسرها على رأسه۔
’’حضرت نافعؓ نے حضرت عبداللہ بن عمرؓسے دریافت كیا : كیا یہ حدیث آپ اپنے والد سے روایت كرتے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: جی ہاں، اور كہا: ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ایك ایسے واعظ (خطیب) كی میرے والد حضرت عمرؓ كو شكایت كی كہ جو ان كے دروازے پر بیٹھتا تھا (اور بلند آواز سے وعظ كرتا تھا)، كہ اس شخص نے مجھے تكلیف پہنچائی ہے، اور مجھے كسی آواز سننے كے قابل نہیں چھوڑا، تو حضرت عمرؓ نے اس واعظ كو پیغام بھیج كر ایسا كرنے سے منع فرمایا، (لیكن وہ باز نہ آیا) اور اس نے وہی حركت دہرائی، پھر میرے والد حضرت عمر ؓ اپنی لاٹھی كے ساتھ اس كی طرف گئے اور وہ لاٹھی اس كے سر پر توڑ دی۔‘‘
چونكہ اس خطیب كی آواز بہت بلندتھی اور اس سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا كی یكسوئی میں فرق آتا تھا، اور یہ حضرت فاروق اعظم ؓ كی خلافت كا زمانہ تھا، اس لئے حضرت عائشہؓ نے حضرت عمرؓسے شكایت كی كہ یہ صاحب بلند آواز سے میرے گھر كے سامنے وعظ كرتے رہتے ہیں، جس سے مجھے تكلیف ہوتی ہے، اور مجھے كسی اور كی آواز سنائی نہیں دیتی، تو اس كے نتیجے میں حضرت عمرؓ نے اس خطیب پر تعزیری سزاجاری فرمائی۔ بات صرف یہ نہیں تھی كہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اپنی تكلیف كا ازالہ كرنا چاہتی تھی، بلكہ دراصل وہ اسلامی معاشرت كے اس اصول كو واضح اور نافذ كرنا چاہتی تھیں كہ آواز کوكسی كی تكلیف کا ذریعہ نہ بناؤ،کیونکہ آواز جب حد سے زیادہ بڑھ جائے، تو تکلیف کا باعث بن جاتی ہے۔
ہم مسلمانوں کو ان آیات واحادیث اورآثار کی روشنی میں اپنے آپ کا جائزہ لینا چاہیے اور اپنے دینی،غیر دینی امور میں بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ہمارے کسی بھی جلسے، جلوس، مشاعرے۔ مناظرے۔ مباحثے، شادی بیاہ اوردیگر پروگرام صوتی آلودگی پیدا کرکے ایذا رسانی کا باعث نہ بننے پائیں۔ اس طرح سے ہم ان آیات واحادیث پر عمل کا ثواب بھی حاصل کرلیں گے اور کسی کو تکلیف پہنچانے کی وعید سے بھی بچ جائیں گے ان شاءاللہ۔
