از: مولانا بلال عبد الحئی حسنی ندوی

بلاشبہ موجودہ حالات انتہائی تشویش ناک ہیں، اس وقت پورے ملک میں جو ایک فضا بن رہی ہے‘ اس سے ہر آدمی باخبر ہے۔ ایک عام انسان جو صرف میڈیا کو دیکھتا ہے ایسے حالات میں اس کی بے چینی بڑھنی ہی چاہیے، لیکن اگر حقیقت میں دیکھا جائے تو ابھی ۷۰؍ فیصد آبادی ہمارے برادران وطن کی راہ سے نہیں ہٹی ہے، بے شک ان کے ذہنوں کو مسموم کرنے کی کوششیں جاری ہیں لیکن ابھی ان کا ذہن اتنا مسموم نہیں ہوا ہے۔ ہوسکتا ہے بعض ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہو کہ پھر انتخابات میں سیکولر جماعتوں کو شکست کیوں ہوتی ہے؟ واقعہ یہ ہے کہ اس کے پیچھے بہت سے اسباب ہیں۔ الیکشن جیتنا بھی ایک فن ہے اور وہ کوئی ایسی علامت نہیں ہے جس سے لوگوں کے طرزِ فکر کے سلسلے میں کوئی آخری رائے قائم کی جاسکے۔ اگر غور کیا جائے تو اندازہ ہوگا کہ اکثر وہ جیت معمولی تناسب سے ہوتی ہے، پھر دوسری طرف جو سیکولر ووٹس ہیں وہ اکثر تقسیم ہوجاتے ہیں اور ایک بڑی تعداد ہے جو ووٹنگ کرتی ہی نہیں۔ اگر ان کو جوڑا جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ ۷۰؍ فیصد کی جو بات کہی گئی ہے وہ بڑی حد تک صحیح ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ۷۰؍ فیصد آبادی آج بھی کھلے ذہن کی ہے لیکن وہ آپ کی منتظر ہے۔

ایک طرف سو سال کی محنت ہے اور وہ محنت کوئی معمولی نہیں ہے بلکہ پورے نظام، پوری ترتیب اور اپنے اصولوں کے ساتھ ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ یہ وہی قوم ہے جس کے پاس کوئی بنیادی مقصد نہیں، سچی بات یہ ہے کہ اس کے پاس کوئی دین نہیں، کوئی لائحہ عمل نہیں اور کوئی طریقہ زندگی نہیں۔ بس کچھ روایات اور چند رسمیں ہیں اور ان کی اپنی ایک پرانی تاریخ ہے، آج وہی قوم ایک مقصد کو لے کر آگے بڑھی اور اس نے اپنے کاز کو سامنے رکھ کر پورے اخلاص اور بڑی قربانیوں کے ساتھ محنت کی، جس کا نتیجہ ہم سب کے سامنے ہے۔

لیکن یاد رکھئے! یہ چیزیں قطعاً کبھی مایوسی کی نہ رہی ہیں اور نہ رہیں گی۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جو کچھ دیا ہے وہ ایسا جوہر ہے کہ جس دن وہ دنیا کے سامنے آیا اور جس وقت راکھ کے ڈھیر سے ایمان کی چنگاری نکلی تو یہی مسلمان جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ مسلمان نہیں راکھ کا ڈھیر ہے، وہیں کہنے والے یہ کہنے پر مجبور ہوں گے کہ

ایسی چنگاری بھی یا رب اپنے خاکستر میں تھی

جس دن وہ چنگاری فروزاں ہوگی، مسلمانوں کے اندر گویا کہ راکھ کا جو ڈھیر ہے اور اس کے نیچے جو آگ دبی ہوئی ہے، جب وہ راکھ ہٹے گی تو شاید پھر وہ صبح طلوع ہونے میں دیر نہیں لگے گی جو صبح ایک مرتبہ نہیں دسیوں مرتبہ طلوع ہوچکی ہے۔

آج ہمارے ملک میں جو حالات ہیں ان حالات کی تبدیلی کا راستہ صرف ایک ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم طے کرلیں کہ ہمیں اپنا ’’ایمان‘‘ مضبوط کرنا ہے اور اپنے ’’اخلاق‘‘ کو بلند کرنا ہے اور ’’مکمل دین‘‘ کو اختیار کرکے دین کی بہتر سے بہتر طریقہ پر ترجمانی کرنی ہے۔ دنیا آج جس پانی کی پیاسی ہے وہ پانی ہمارے پاس موجود ہے، وہ طریقہ زندگی ہمارے پاس موجود ہے، اگر ہم نے اس طریقہ کو اپنی زندگی میں نافذ کیا اور غیروں کے سامنے وہ نمونہ پیش کیا تو آج جو غیر نظر آتے ہیں‘ کل وہ اپنے ہوں گے اور آپ کو وہ اپنی پلکوں اور آنکھوں پر بٹھائیں گے۔

واقعہ یہ ہے کہ دنیا کچھ بھی کرے اور کیسے ہی وسائل اختیار کرے اور ہمارے زوال کی کیسی ہی تدابیر اختیار کی جائیں لیکن اگر ہم حقیقی معنی میں ایمان والے ہیں اور ہماری زندگی سے اسلامی اخلاق کی ترجمانی ہوتی ہے تو آپ یاد رکھئے کہ اس وقت یہ دنیا کی ایک ضرورت ہے اور دنیا اسی کی پیاسی ہے اور یہی تمام مسائل کا ایک بنیادی حل ہے۔ مگر افسوس کہ ہمارے پاس جو کچھ تھا وہ ہم نے فراموش کردیا اور اب ہم دوسروں کے سامنے کاسہ گدائی لیے کھڑے ہیں، حالانکہ ہم کو اللہ تعالیٰ نے کچھ دینے کے لیے پیدا کیا تھا نہ کہ لینے کے لیے، اگر آج بھی ہم دوبارہ وہی ایمان اور اخلاق کی وہی بلندی اختیار کرلیں، تو یقینا دوبارہ پھر وہی حالات ہمارے سامنے آئیں گے اور انشاء اللہ مستقبل اسلام اور مسلمانوں ہی کا ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے