بیدر (محمدیوسف رحیم بیدری): ریاست کرناٹک میں محبت کی دوکان کھولنے والی کانگریس پارٹی نے سال 2024 کابجٹ آج جمعہ کو پیش کیا۔ اس بجٹ پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے سابق وزیر بنڈپاقاسم پور ، ضلع کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریڑی دتاترے مولگے، اروندکمارارلی ایم ایل سی ، بھیم راؤ پاٹل ایم ایل سی ، بھاجپاقائد بابووالی ، ماتے مانکیشوری تعلیمی ادارہ کے چیرمین رمیش کلکرنی ، وجے سنگھ سابق ایم ایل سی ، ڈاکٹر شلندربیلداڑے ریاستی بی جے پی سکریڑی اور بیدرجنوب رکن اسمبلی ، نرسپاجانک نورقائد کانگریس بید رجنوب، پربھوچوہان ایم ایل اے اوراد،بی جے پی ضلع صدر سومناتھ پاٹل ، بی جی شیٹکار صدر بیدر چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری ،اوردیگر نے اپنی اپنی ملی جلی مثبت ومنفی رائے تحریری طورپر پرنٹ میڈیا کوای میل کردی ہے۔
سیاست دانوں کی بات کی جائے تو یہ بالکل درست ہے کہ جو جس پارٹی کاہوگااسی پارٹی لائن پر بات کرے گا۔ اور اپنی ہی پارٹی کی رائے بجٹ سے متعلق پیش کرے گا۔ آزاد انہ رائے بجٹ سے متعلق کبھی نہیں دی جاتی ۔ ہماراسوال یہ ہے کہ بید رکے ایسے مسلمان جو اپنی اپنی سیاسی پارٹیوں سے وابستہ ہیں ان کی رائے پرنٹ میڈیاتک کیوں نہیں پہنچی ۔ بلکہ سچ بات تویہ ہے کہ ہرسال بجٹ پیش کیاجاتاہے اوربیدر ضلع کے مسلمان لیڈروں کوہرگزہرگز بھی توفیق نہیں ہوتی کہ وہ اپنی رائے پرنٹ میڈیاتک پہنچائیں۔ کہنے کوتو کانگریس کے مینارٹی ڈپارٹمنٹ کے بڑے بڑے قائد بیدر میں رہتے ہیں لیکن ان کے پاس نہ قلم ہے اور نہ ہی صحافتی بیان دینے کامبینہ طورپرحوصلہ ۔ ہر سال ترستاہواگزر جاتاہے کہ ضلع بید رکاکوئی مسلمان قائد بجٹ پر کچھ بولے گا۔ اقلیتوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائے گا، ایساکچھ نہیں ہوتا۔ اس دفعہ بھی نہیں ہواالاماشاء اللہ ۔حالانکہ بیدر میں مجلس ، ویلفیرپارٹی ، مسلم لیگ ، عام آدمی پارٹی ، این سی پی ، جیسی پارٹیاں بھی موجودہیں ۔ جن کے قائدین مسلمان ہیں۔
اب ہم یہاںماتے مانکیشوری تعلیمی ادارہ کے چیرمین رمیش کلکرنی کی رائے پیش کرنا چاہیں گے ۔ انھوں نے پرنٹ میڈیا کو تحریری طورپر بیان روانہ کیاہے اور کہاہے کہ یہ ایک ہی طبقہ مسلمانوں کو خوش کرنے والا ریاستی بجٹ ہے۔لوک سبھاانتخابات کو دیکھتے ہوئے بجٹ پیش کیاگیاہے۔ دوسری طرف آج ہی کے دن ایک بڑے اقلیتی ادارہ کے چیرمین نے ایک صحافی سے فون پر کہاہے کہ ’’میں اخبار نہیں پڑھتا‘‘ جب اخبار ہی نہ پڑھاجاتاہوتو بیان دینے کی ضرورت کیوں کر پیش آئے گی ۔جب کہ یہی محترم اپنے ادارہ سے متعلق سینکڑوں بیانات دیتے رہتے ہیں۔ ۔ اسی طرح جناب بی جی شیٹکار صدر بیدر چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری اور ڈاکٹر ویریندر شاستری سکریڑی دونوں نے بجٹ کو مایوس کن قرار دیاہے۔ بیدر میں مسلم صنعت کاروں کی کمی نہیں ہے۔ کوئی بھی مسلم صنعت کار کانگریس پارٹی کے اس بجٹ کے بارے میں کچھ بھی کہنے سے اس تحریر کے لکھے جانے تک قاصر رہا۔
بیدر میں رفاہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز بھی سرگرم عمل ہے۔ ان کے صدر یاسکریڑی کی جانب سے بجٹ کے بارے میں کوئی بیان نہیں آیا۔امدادباہمی کے بینک کام کررہے ہیں وہ بھی خاموش ہیں۔ ان مثالوں کے ذریعہ ہماراکہنایہی ہے کہ بیدر ضلع کے سیاسی مسلم قائدین ، صنعت کار اوردیگر افراد بجٹ ہی نہیں دیگر معاملات پر بھی بیان دیتے ہوئے اپنے باشعور ہونے کاثبوت دیاکریں ۔ورنہ یہی کہاجاسکتاہے کہ جس کی سیاسی بصیرت جتنی ہے وہ اس قدر بیدار ہے اور حکومتوں سے فائدہ اٹھارہاہے ۔اور یہ ضلع بیدر کے مسلمانوں کی بدنصیبی ہے کہ کوئی کچھ کہنے کو تیار نہیں ہے ۔ جب کہ مسلمانوں کے سیاسی دشمن مسلمانوں کو بدنام کرنے کاکوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ، جھوٹ کہہ کر دیگر طبقات کو مسلمانوں کے خلاف ورغلاتے رہتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے