ہمایوں اقبال ندوی ارریہ
نائب صدر، جمعیت علماء ارریہ
وجنرل سکریٹری، تنظیم أبناء ندوہ پورنیہ کمشنری

قران کریم کی تلاوت کس طرح کرنی چاہیے؟ پڑھنے کی رفتار کیا ہوگی؟ انداز کیسا ہونا چاہیے؟ مجلس میں، مسجد میں، نماز میں کس طرح قران پڑھیں گے؟
ترتیل کسے کہتے ہیں؟ حدر کیا چیز ہے؟
مذکورہ بالا موضوعات پرشہر ارریہ کے جامعہ تجوید القران میں ایک خصوصی پروگرام بعنوان "لجنتہ القرآن” منعقد کیا گیا، مجھے بھی اس میں شریک ہونے کا موقع نصیب ہوا، بہت مفید اور ضروری محسوس ہوا، جامعہ کے کچھ بچوں نے خوب اطمینان سے ٹھہر ٹھہر کر قران پڑھ کر ہمیں بتایا کہ اسے” ترتیل” کہتے ہیں۔عموما ایسی تلاوت کسی مجلس میں ہی ہمیں سننے کو ملتی ہے،اپنے یہاں اجلاس کے آغاز میں قراءحضرات اسی انداز میں تلاوت کرتے ہیں۔ کچھ طلبہ نےدرمیانی رفتار سے قران کو تجوید کے ساتھ خوبصورت آواز میں تلاوت کر کے ہماری معلومات میں اضافہ کیا کہ اسے "تدویر” کہتے ہیں۔ مساجد میں ائمہ حضرات اسی رفتار میں فرض نمازوں کی امامت کرتے ہیں ۔بعدہ روانگی کے ساتھ اپنی رفتار کو تیز کر کے بچوں نے حاضرین کے سامنے قران کریم کی تلاوت کی اور بتلایا کہ اسے” حدر” کہتے ہیں۔عام طور پر تراویح کی نماز میں حفاظ اسی انداز میں قران پڑھتے ہیں۔
قرات قران کا یہ خصوصی اور مختصر پروگرام بڑے اجلاس بعنوان عظمت قرآن پر مجھے بھاری، مفید اور موثر محسوس ہوا ہے۔بالخصوص مدارس اسلامیہ میں اختتام سال پر سالانہ تعلیمی مظاہرہ اس عنوان پر کرنے کی ضرورت ہے۔اہل مدارس کا یہ فرض منصبی بھی ہے، اور قران کی اشاعت و تبلیغ کا بہترین ذریعہ بھی ہے۔
آج اس تعلق سے بڑی بے توجہی دیکھنے میں آتی ہے۔خدا کی کتاب کو پڑھتے ہیں، نہ رفتار نہ انداز نہ آواز ٹھیک ہے۔بس ضرورت بھر قرآت کے لئے قرآن کی تلاوت ہوتی ہے اور فرض نمازوں کی درستگی کے لئے چند آیتوں کا پڑھنا ضروری سمجھا جاتا ہے یہ کتاب الہی کے ناانصافی اور بے ایمانی کی بات ہے۔
حدیث شریف میں وارد ہوا ہے کہ "اپنی خوبصورت اوازوں سے قران کو مزین کرو (ابوداؤد )
قران ایک زندہ کتاب کا نام ہے ،جب یہ پرکشش اواز میں پڑھی جاتی ہے تو قلب و جگر میں اتر جاتی ہے۔ مذکورہ مجلس کا ذاتی واقعہ ہے کہ ملکی حالات کے تناظر میں میرے ذہن و دماغ کے اندر بیٹھے بیٹھے یہ خیالات پیدا ہو رہے تھے کہ اس وقت ہماری مسجدیں ہاتھ سے نکل رہی ہیں، ملک میں قران کریم سے دشمنی اور نفرت کا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے، ایسے لوگوں کی گرفت کیوں نہیں ہوتی ہے؟ اچانک جامعہ کا ایک چھوٹا سا طالب علم اپنی پرکشش آواز میں سورہ ابراہیم کی یہ ایتیں تلاوت کرنے لگا ؛ "اور اے سننے والے ! ہرگز اللہ کو ان کاموں سے بے خبر نہ سمجھناجو ظالم کر رہے ہیں، اللہ انہیں صرف ایک ایسے دن کے لیے ڈھیل دے رہا ہے جس میں انکھیں کھلی کے کھلی رہ جائیں گی” واقعی دل کی کیفیت بدل گئی اور اطمینان قلب حاصل ہوا اس سے زیادہ تسلی اور اطمینان کی بات کیا ہو سکتی ہے ؟ اللہ کا یہ دستور ہے کہ وہ ہر کام کو اپنی مرضی کے مطابق وقت مقررہ پر ہی انجام دیتا ہے، خدا کے یہاں نہ دیر ہے اور نہ اندھیر۔ظالموں کی رسی وقتی طور پر ڈھیلی کر دی گئی ہے، اس کے بعد سخت گرفت کا معاملہ اور زبردست مواخذہ ہونے والا ہے۔
محسوس یہ ہوا کہ تلاوت کرنے والا طالب علم مجھے اپنی خوبصورت آواز وانداز میں ان قرانی آیات کے ذریعہ نصیحت کررہا ہے،باری تعالی اس بچہ کو پوری ملت اسلامیہ کے لئے خیر کثیر کا ذریعہ اور سامان بنائے، آمین۔

آج افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ قران کس انداز اورکس رفتار میں پڑھنی چاہیے اس کی جانکاری ہمیں نہیں ہے جس کی وجہ کر قران یاد رہتے ہوئے بھی ہم دولت قران سے محروم ہیں۔رمضان کی آمد آمد ہے، اس موقع پر تراویح کی نماز میں قران پڑھتے ہوئے موبائل پر ویڈیو گردش کرتی رہتی ہے۔اتنی عجلت اور برق رفتاری میں قران پڑھا جاتا ہےکہ سننے والا اسے خدا کی کتاب نہیں بلکہ انسانی مذاق سمجھتا ہے،یہ ترتیل ہےاور نہ تدویر، نہ حدر ہے نہ قرآت ، کس قاعدے کے مطابق ایسی تلاوت ہوتی ہے،اللہ اعلم بالصواب۔
آج یہ خیال بالکل دل سے نکال دیجئے کہ تراویح کی نماز کا دائرہ ہماری مسجدوں تک ہی محدود ہے، بلکہ ہر ادمی جو موبائل استعمال کرنا جانتا ہےوہ اس نماز کا حصہ بن چکا ہے۔ لوگ اس کتاب الہی کو تراویح کی نماز میں ہمیں پڑھتے ہوئے دیکھ کر یہ محسوس کرتے ہیں کہ صرف زبان کوحرکت دینے کا نام قران ہے جبکہ سب بڑا معجزہ کا نام قران ہے۔اس کتاب ہدایت کی تلاوت سن کر دشمنان اسلام نے بھی کلمہ پڑھا ہے۔ ساڑھے چودہ سو سال پہلے شہر مکہ میں دو بڑےدشمن اسلام رہتے تھے، ایک کا نام ابو جہل تھا تو دوسرے حضرت عمر تھے، ایک دن حضرت عمر ننگی تلوار لیکر اسلام کا خاتمہ کرنے نکلے مگر قران کی چند ایتیں سن کر اور پڑھ کر خود اسلام کے علمبردار ہن گئے۔
نجاشی کے دربار میں جب حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ نے سورہ مریم کی ایتیں اپنی دلکش اواز میں پڑھ کر سنائی تو بادشاہ پر رقت طاری ہو گئی، آنکھوں سے انسو رواں ہو گئے، بھرے دربار میں انہوں نے یہ برملا اعلان کردیا کہ” خدا کی قسم یہ کلام اور انجیل دونوں ایک ہی نور کے پر تو ہیں”(سیرت النبی )
بےشمار واقعات ہیں کہ قران کی تاثیر، حلاوت اور شیرینی کو محسوس کر کے لوگ حلقہ بگوش اسلام ہوئے ہیں۔ اج تو ہمارے لیے اور بھی سہولت اور اسانی پیدا ہو گئی ہے کہ ہم اس کتاب ہدایت کو اپنی خوبصورت آواز وانداز میں پڑھ کر گھر بیٹھے پوری دنیا کو سنا سکتے ہیں۔ ملک میں جو اس بات کی کوشش ہے کہ اسلام و قران کو ختم کیا جائے، اس کا صحیح جواب قران سے ہی دیا جاسکتا ہے۔ملک کے وزیر اعظم بھی عربی زبان بولنے کی اس وقت کوشش کررہے ہیں، یہ بہت ہی خوش آئند بات ہے۔ خدا کی ہر مخلوق خدا کے کلام سے محبت کرتی ہے، جب اس کلام الہی کو جنوں نے سنا تو وہ بھی بے ساختہ کہنے لگے کہ یہ یہ واقعی بہت بڑی چیز ہے اور سنتے ہی اپنے ایمان کا اعلان کردیا ہے،چنانچہ ارشاد ربانی ہے؛ ” اے نبی! لوگوں سے کہ دیجئے کہ میرے پاس وحی آئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نےقران سنا تو کہا کہ ہم نے ایک عجیب قرآن سنا، جو بھلائی کا راستہ بتاتا ہے، سو ہم اس پر ایمان لے آئے، اور ہم اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے "(سورہ جن )

یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن
قاری نظر اتا ہے حقیقت میں ہے قران

ہمایوں اقبال ندوی ارریہ
نائب صدر، جمعیت علماء ارریہ
وجنرل سکریٹری، تنظیم أبناء ندوہ پورنیہ کمشنری
۱۱/شعبان المعظم ۱۴۴۵ھ مطابق ۲۲/فروری ۲۰۲۳ء

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے