محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک۔
دنیا ساری ناگہانی حالات اور موت سے خود کو بچاکر ماہ ِ رمضان میں پہنچنے کی دعا مانگاکرتی ہے۔جس میں ادیب اور شاعر بھی شامل ہیں۔ ادیبوں اور شاعروں نے ماہ ِ رمضان پرجس قدر لکھاہے، شاید ہی کسی مذہبی ایونٹ پر لکھاہو۔ اسلئے کہ ماہ ِ رمضان کاتعلق روزوں کے ساتھ ساتھ قرآن مجید کے نزول سے ہے۔ اس ماہ میں قرآن کے نازل ہونے کے سبب قرآن کاتعارف اور تعریف کرتے ہوئے رمضان کاذکر آجاتاہے۔ چوں کہ قرآن کانزول شب قدر میں ہوا۔ اس لئے شب قدر سے متعلق شاعروں نے ایسے ایسے نکات نکالے ہیں کہ عقل حیران رہ جاتی ہے۔اسی کے پیش نظر ماہ رمضان میں ادیب اور شاعر درج ذیل کام انجام دینے کی کوشش کریں گے ان شاء اللہ۔
(1) شاعر اور ادیب کاکام لکھنا لکھاناہے۔ اور کہیں کہیں اپنی تخلیقات پڑھ کرسناناہے، ماہ رمضان میں یہ کام جاری رکھیں لیکن قرآن مجید کے مطالعہ کی طرف زیادہ توجہ دینابہتر رہے گاکیوں کہ قرآن ہی علم کاسرچشمہ ء ہدایت ہے۔ ہدایت سے وابستگی اور اس سے قربت ادیب اور شعراء کی تخلیقات میں چارچاند لگادے گی۔
(2) احادیث شریف، صحابہ کرام ؓ کی سیر ت،اور تاریخ ِ اسلام بھی پیش نظر رہے لیکن ماہ ِ رمضان میں نمازوں، تراویح،دعاؤں اور توبہ واستغفارسے زیادہ کام لیاجائے۔ یوں سمجھ لیں کہ یہ مہینہ ماہِ محنت بھی ہے اور محنت نمازوں، تراویح، دعاؤں اور استغفار پر کی جائے۔
(3) جوشاعر اور ادیب کاروبارکرتے ہیں، دوکانوں کے مالک ہیں انہیں چاہیے کہ ماہ ِرمضان میں اپنے ملازمین کے ساتھ نرمی کابرتاؤ کریں۔ غصہسے پرہیز کریں۔ماہ ِ رمضان میں ملازمین پرسے کام کابوجھ کم کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔
(4) شاعروادیب کوشش کریں کہ ماہ ِ رمضان کی دعوتوں میں جائیں ضرور لیکن کھانا سیرشکم ہوکر کھانے سے پرہیز کریں۔ اسلئے کہ ماہ ِ رمضان ماہ ِ تقویٰ بھی ہے۔ تقویٰ کے حصول کے لئے زبان کو کم لذتی سے آشناکراناپڑتاہے۔
(5)جو شاعر اورادیب زودگو ہیں، وہ قرآن مجید کو منظوم کرنے اور قرآنی تعلیمات پر مبنی ناول، افسانہ، افسانچہ لکھنے کااس ماہ ِ سے عزم کریں اور اسکی منصوبہ بندی کرلیں
(6) ہمارے شاعر اور ادیب اپنے اہل وعیال کی طرف متوجہ رہیں۔ انہیں ماہِ رمضان میں ایسے ہی نہ چھوڑدیں۔ ان پر نظر رکھیں۔ کھلائیں پلائیں لیکن اصول کے مطابق۔ ماہ رمضان خوشیوں، رحمتوں اور برکتوں کامہینہ ہے، اہل وعیال پرخرچ کرنے میں کنجوسی سے کام نہ لیں۔ جن شعراء اور ادیب کاحال رب کے ہاتھوں میں مقید ہے، وہ کفایت شعاری سے کام لے سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان شعراء اور ادیب کے حال پر رحم وکرم کی نظر فرمائے گا ان شاء اللہ
(7)ہمارے شاعر اور ادیب خدمت خلق کے کام کی طرف متوجہ رہاکریں۔ یہ بات سچ ہے کہ زمانہ ء قدیم کے شعراء سے علیحدہ آج کے شاعر او رادیب کے معاملات ہیں۔ پہلے کے شعراء اورادیب خوشحال نہیں ہوتے تھے۔ آج کل کے بیشتر شعرا اور ادیب خوشحال ہیں۔ انہیں خدمت ِ خلق کے کام کی طرف متوجہ رہناچاہیے۔
(8) اپنے مرحوم استاد شعراء یامرحوم استاد ادیب کے نام سے مساجد کی تعمیر، بورویل کی کھدائی اورراشن کٹ تقسیم کریں۔ اور اس کی اطلاع اخبارات کے ذریعہ دیں۔ سوشیل میڈیا کا استعمال کریں۔ اس عمل سے یہ پیغام جائے گاکہ شعراء اور ادیبوں کی برادری میدان ِ عمل میں عوام کے شانہ بہ شانہ کھڑی ہے۔
(9)ماہ ِ رمضان میں شعرااور ادیب برادری سوشیل میڈیا کے ذریعہ حمد، نعت، اور دیگر تخلیقات پیش کرنا چاہیں تو اس پر کوئی روک نہیں ہے۔
(10) شعراء اور ادیب برادری اپنی اپنی برادری کے علاوہ اہل اسلام کو ماہ ِ رمضان کی مبارک باد پرنٹ، ڈیجیٹل اور سوشیل میڈیا کے ذریعہ دے کر ماحول کو رمضان کے حق میں مفید بنانے کافریضہ انجام دے۔یہ کام الحمد للہ ہورہاہے مگر بڑے پیمانے پر اس کوانجام دینے کی ضرورت سے انکار ممکن نہیں ہے۔
(11)خاتون شاعرات اور خاتون ادیب پر ماہ رمضان میں گھریلو ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں۔گھر کے دیگر روزہ داروں کی خدمت کرنی پڑتی ہے اس کے باوجود بھی اپنی نمازوں، قرآن مجید کی تلاوت مع ترجمہ، روزوں، تراویح اور لکھنے لکھانے کی طرف متوجہ رہیں۔ اپنی مناجات میں ادبِ اسلامی کی ترویج اور اس کی حفاظت کے لئے دعائیں ضرور کریں۔
(12) خاتون شاعرات اور خاتون ادیب کپڑے، چپل، اور دیگر امور کی خریداری میں زیادہ وقت بازاروں میں صرف نہ کریں۔ کوشش کریں کہ زیادہ سے زیادہ وقت گھر پر یاداللہ میں گزاریں
(13)جو شاعر اور ادیب حافظ ہیں اور تراویح پڑھائیں گے ان سے بھی یہ کہنا ہیکہ قرآن مجید کو ترجمہ سے بھی اس ماہ میں پڑھ لیں اور ہوسکے تو قرآن کی ادبیت پر مواد جمع کریں/خطاب کرتے رہیں
(14)عید کی نماز پڑھانے والے شعراء اور ادیب سے گذارش ہے کہ وہ امت مسلمہ کوادب کی اہمیت سے واقف کروانے کے لئے اپنے خطاب میں جگہ نکالیں
(15) جو شاعر اورادیب اعتکاف میں بیٹھنا چاہتے ہیں وہ ابھی سے منصوبہ بندی کرتے ہوئے اعتکاف میں ضرور بیٹھیں۔ اعتکاف میں بیٹھنا ادب کے لئے سازگاراور ایک مثال بنے گا۔
(16) نوجوان ادیب اور شاعروں سے گزارش ہے کہ وہ عیدکوسادگی سے منائیں اور دوسروں کو بھی سادگی سے عید منانے کی تلقین کریں۔ ملک کے حالات عید کو سادگی اور شعورسے منانے کے متقاضی ہیں۔
اس سال کاماہ ِرمضان رب کی رضا اور خوشنودی کے لئے بہتر طورپر دلی آمادگی سے منانے کی ہم شعراء اور ادبا کواللہ توفیق دے۔ آمین۔
