مال دار زکوۃ و صدقات نکالنے میں کنجوسی نہ کریں: سلمان کبیر نگری 

بلوا سینگر، سنت کبیرنگر (پریس ریلیز): زکوٰۃ اسلامی فریضوں میں سے ایک فرض ہے جب کسی مسلمان شخص کی دولت اسلام کے مقررہ کردہ نصاب تک پہونچ جاۓ تو اس پر زکوۃ فرض ہو جاتی ہے یعنی اپنے مال سے اڑھائی فیصد زکوٰۃ نکال کر اس کے اھل تک پہونچاۓ ،

زکوۃ کا منکر کافر اور اس میں منمانی کرنے والا فاسق ہوگا، رمضان المبارک کا مہینہ تقوی اور پر ہیز گاری کا مہینہ ہے، یہ مہینہ تمام مہینوں سے افضل ہے اور یہ مہینہ برکت سے لبریز مہینہ، یہ مہینہ مالدار کو جتنا بخشش کرتا ہے، وہیں ایک معمولی غریب کو بھی بخشش کرتا ہے، یہ باتیں نئی روشنی میگزین کے ایڈیٹر سلمان کبیرنگری نے کہا کہ یہ مہینہ جس طرح بندہ مومن کو روزہ، تلاوت قرآن، تسبیحات کی ادائیگی پر اللہ پاک مومن بندہ کو پاک کر دیتا ہے، بس اسی طرح مومن مالدار شخص کو اللہ اس وقت پاک اور صاف کر دیتا ہے، جب مالدار اپنے مال کا صیح صیح زکوۃ وصدقات و خطرات کے روپے نکال کر حق دار تک پہونچا دیتا ہے، اس لئے مالدار شخص اپنے مال کا زکوۃ وصدقات و خطرات کو نکالنے میں بخالت نے کریں، اپنے مال کا صیح حق نکال کر اللہ پاک کے حضور سرخروئی حاصل کرنے والے ، اس لیے کہ جس وقت ہمارے اور آپ کے پاس کچھ نہیں تھا، اللہ پاک نے اپنے فضل سے مالدار بنادیا تو پھر لازم ہے کہ حقدار کو حق دے کر اس پاک مہینہ میں ہم سب مالدار عمل سے کردار سے پاک ہو جائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے