غفران احمد ندوی
صدر مدرس مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن سمریاواں سنت کبیر نگر ملحقہ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ

مدارس اسلامیہ امت مسلمہ کی اصل پناہ گاہ، مضبوط قلعہ، گہوارہ امن و شانتی، اسلام کی چھاونیاں اور علوم نبوت کا سر چشمہ اور منبع ہیں، انہیں مدارس اسلامیہ کی چہار دیواری سے رشد وہدایت کی شمع فروزاں ہوتی ہے، قیادت و امامت کی قندیل روشن ہوتی ہے، امر بالمعروف نہی عن المنکر کا ساز چھڑتا ہے اور صلاح فی الارض کا ناقوس بجتا ہے، ان مدارس کے تعلیم یافتہ اور فارغین جس میدان کی طرف رخ کرتے ہیں اپنی ذہانت وفراست، علمی استعداد، قوتِ فکر وعمل اور اپنے امتیازات کا نقش قائم کر دیتے ہیں، بچے کی پیدائش کے وقت کان میں اذان دینے سے لے کر نماز جنازہ اور تدفین تک عوام الناس کی رہنمائی کرتے ہیں اور تاریخ گواہ ہے کہ ضرورت پڑنے پر میدان جنگ میں بھی اپنی جان کی بازی لگا دینے میں کسی سے پیچھے نہیں رہتے بلکہ قیادت کرکے جنگ کا نقشہ بدل ڈالنے کا جذبہ ان کے وجود میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہوتا ہے.
مدارس اسلامیہ نے امت مسلمہ کی ہر طرح ہر دور میں رہنمائی کی ہے، مدارس کی رہنمائی سے زندگی کا کوئی شعبہ خالی نہیں ہے، وہ عقائد و معاملات کا شعبہ ہو یا سلوک وطریقت کا ، سیادت قیادت کا شعبہ ہو یا تجارت وحرفت کا ، درس تدریس کا ہو یا پھر اشاعت دین کا ، الغرض مدراس اسلامیہ نے ہر پْر فتن دور میں تمام مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے دینی تعلیم وتربیت کو فروغ دینے اور جہالت کا قلع قمع کرنے کی امکان بھر کوشش کی ہے اور آج مادیت کے امڈتے ہوئے سیلاب میں قال اللہ وقال الرسول کی جو صدائیں ہر چہار جانب گونج رہی ہیں یہ مدارس اسلامیہ میں درس وتدریس کی خدمت انجام دینے والوں کا ہی فیضان ہے، مدارس اسلامیہ نے ہمیشہ اسلام کی عزت وناموس کی پاسبانی کی اور بگڑی ہوئی انسانیت کو سنوارا ہے اور ملک میں اخوت ومحبت، امن وامان اور شانتی کو برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے ۔بالفرض اگر یہ مدارس اسلامیہ نہ ہوتے جن کی کڑی مقام صفہ سے جا ملتی ہے تو امت تک دین پہنچانا بہت دشوار اور مشکل ہو جاتا،
اسی دریا سے اٹھتی ہے وہ موج تند جولاں بھی
نہنگوں کے نشیمن جس سے ہوتے ہیں تہ وبالا
مدارس اسلامیہ مجموعی طور پر پوری امت کا قیمتی اثاثہ اور انمول سرمایہ ہیں، ایسے نا گفتہ بہ حالات میں اگر مدارس کمزور ہوئے تو اس کا براہ راست اثر مسلمانوں کے ایمان وعقائد اور ان کے اعمال پر پڑے گا اور ساتھ ساتھ ان کا وہی حال ہو گا جو اندلس کے مسلمانوں کا ہوا تھا بقول شاعر بے بدل علامہ اقبال ” ان مکتبوں(مدرسوں) کو اسی حالت میں رہنے دو، غریب مسلمانوں کے بچوں کو انہیں مدرسوں میں پڑھنے دو، اگر یہ ملا اور درویش نہ رہے تو جانتے ہو کیا ہوگا؟ جو کچھ ہوگا اسے میں اپنی آنکھوں سے دیکھ کر آیا ہوں، اگر ہندوستان کے مسلمان ان مکتبوں اور مدرسوں کے اثر سے محروم ہو گئے تو بالکل اسی طرح ہوگا جس طرح اندلس کے مسلمانوں کی آٹھ سو سالہ حکومت کے باوجود آج غرناطہ و قرطبہ کے کھنڈرات اور الحمراء اور باب الاخوتین کے نشانات کے سوا اسلامی تہذیب کے آثار کا کوئی نقش نہیں ملتا، ہندوستان میں بھی آگرہ کے تاج محل اور دلی کے لال قلعہ کے سوا مسلمانوں کی آٹھ سو سالہ حکومت اور ان کی تہذیب کا کوئی نشان نہ ملے گا”، مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندوی علی میاں ؒ نے بھی ایک موقع پر فرمایا تھا کہ مدرسہ سب سے بڑی کارگاہ ہے جہاں مردم سازی کاکام ہوتا ہے جہاں دین کے داعی اور اسلام کے سپاہی تیار ہوتے ہیں، مدرسہ عالم اسلام کا بجلی گھر (پاور ہاوس) ہے، جہاں قلب ونگاہ ڈھلتے ہیں”

مولانا ثانی حسنی ندوی مرحوم نے مدارس کی بہترین عکاسی کرتے ہوئے کہا تھا کہ
وہ شمع یہاں پر جلتی ہے جس شمع سے دنیا روشن ہے
وہ پھول یہاں پر کھلتا ہے جس پھول سے گلشن گلشن ہے
یہ اہل وفا کا مرکز ہے یہ اہل صفا کا مخزن ہے
شہباز یہاں پر پلتے ہیں یہ لعل و گہر کا معدن ہے
یہ اہل جنوں کی بستی ہے یہ اہل خرد کا گہوارہ
ہر چیز یہاں کی شہپارہ ہر فرد یہاں کا سیارہ
یاں نور کی بارش ہوتی ہے یاں علم کا بہتا ہے دھارا
ہر قطرہ یہاں کا موتی ہے ہر ذرہ یہاں کا مہ پارہ
ان تمام امتیازات و خصوصیات کے باوجود اس بات میں بھی کوئی تردد نہیں ہے کہ ہمارے مدارس موجودہ حالات میں اپنے فرائض منصبی سے دور ہوتے جا رہے ہیں، پاور ہاؤس تو ہیں لیکن سپلائی بہت محدود ہے، پوری افادیت ثابت نہ کر پانے کی وجہ سے آج جدید چیلنجوں کا سامنا ہے، عوام کی توجہ کٹ سی گئی ہے، جتنا مضبوط رشتہ عوام اور مدارس کا ہونا چاہئے وہ یکسر مفقود ہے، کہیں نظام میں ابتری پھیلی ہوئی ہے، کہیں نصاب کے ساتھ کھلواڑ جاری ہے، کہیں وقت گزاری اور بے کاری میں مقصد سے دوری اور بے زاری بڑھ رہی ہے، کہیں سرپرستوں کی غفلت اور ان کا عناد راستے کی رکاوٹ بنا ہوا ہے، کہیں انتظامیہ نے من مانی اور ضد سے مدرسین و ملازمین کو کٹھ پتلی بنا رکھا ہے، بے جا مداخلت سے جینا محال کر رکھا ہے، کہیں سب کچھ ٹھیک ہے تو مالی فقدان اور اسباب ضروریہ کے بحران سے مدارس کے قدموں میں لرزہ طاری ہے، ان حالات میں ملت اور انسانیت کے بہی خواہوں کی ذمہ داری مزید بڑھ گئی ہے، اس وقت صرف زکوۃ، صدقات اور خیرات سے کام نہیں بننے والا، امداد کی خاطر خواہ رقم لگا کر ان مدارس کی پیٹھ مضبوط کرنی ہوگی، ضرورت کے مطابق دل کھول کر غرباء اور مساکین کابھی تعاون کیا جائے اور ذمہ داران مدارس ومکاتب سے فون پر بات کرکے بینک اکاونٹ کے ذریعہ یا براہ راست اپنی رقم خود ہی پہنچانے کی کوشش کی جانی چاہئے، مدرسہ کے سفراء آپ تک پہنچ جائیں تو خوش دلی کے ساتھ ان کا استقبال کریں، جتنا ممکن ہو بھر پور ساتھ دیں تاکہ مدارس کا تعلیمی و تربیتی نظام کسی طور پر متاثر نہ ہو۔ یہ احسان نہیں ہے وقت کا اہم اور ضروری مطالبہ ہے.
