معتکف کو اعتکاف کے مسائل واحکام اور اس کے آداب کی رعایت کرنی چاہئے۔

مطیع اللہ حقیق اللہ مدنی

ماہ رمضان کا آخری عشرہ بہت افضل ہے، یہ عبادت میں خوب محنت کرنے والا عشرہ ہے، اس کی راتیں بہت عظیم ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس عشرہ میں دیگر دنوں اور راتوں کے مقابلہ خوب عبادت کرتے تھے۔ کیوں کہ اس میں قدر کی رات ہے۔

جس رات کو پانے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرتے تھے۔ تاآنکہ آپ کی وفات ہو گئی، آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اعتکاف کیا، نیز حیات طیبہ کے آخری سال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری عشرہ سے پہلے والے عشرے کا بھی یعنی کل 20 دنوں کا اعتکاف کیا۔

ان دنوں میں بندہ مسلم کے لیے مشروع اور مسنون ہے کہ وہ اللہ تعالی کےلیے خوب عبادت اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے اور قدر کی رات (جو ہزار ماہ سے بہتر ہے) کو پانےکے لیے مسجد میں معتکف ہو جائے، اعتکاف کا آسان مطلب ہے کہ بندہ مسلم اللہ تعالی کی عبادت کے لیے دنیا اور علائق دنیا سے اپنے آپ کو منقطع کر کے مسجد میں گوشہ نشین ہو جائےاور اللہ کو بکثرت یاد کرتے رہے اور ذکر و اذکار میں مصروف رہے ۔

 اعتکاف کے اوقات، احکام مسائل اور کچھ آداب ہیں جن کا خیال رکھناچاہئے : 

معتکف کے لیے ضروری ہے کہ وہ 20 رمضان کا سورج غروب ہوتے ہی یا اس سے قبل مسجد میں داخل ہو جاۓ پھر مسجد سے باہر نہ نکلے سوائےایسی حالت و حاجت کے لیے جس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ۔

اس حالت میں وہ نہ تو مریضوں کی عیادت کرے اور نہ ہی کسی کے جنازہ میں شرکت ، بلکہ اعتکاف کی حالت میں بقدر استطاعت عبادت میں وقت صرف کرے، کسی سے عام بات چیت نہ کرے کیوں کہ اصل اعتکاف تو دنیا و مشاغل دنیا سے انقطاع ہی ہے۔

اور یہ آداب اعتکاف کے منافی ہے کہ معتکف کسی سے طویل گفتگو کرے یا موبائل میں مشغول رہے۔

‌ایک بات یہ بھی ذھن نشین رہےکہ اعتکاف کوئی جشن نہیں ہے، بلکہ عبادت کے لیے ایک صورت و حالت ہے، عبادت کا معنی ومفہوم جاننا ضروری ہے ،عبادت کے شرائط اور اس کی قبولیت کے شرطوں کا جاننا بھی ازحد ضروری ہے، بعض مساجد میں کم عمر لوگ عبادت، ارکان عبادت، قبولیت عبادت اور فعل عبادت وغیرہ سے نا واقف ہوتے ہوئے اعتکاف کرتے ہیں، اعتکاف عید نہیں ہے، اس سے مساجد اور اس کی حرمت پر کچھ نہ کچھ آنچ آتی ہے۔

اور یہ بات ضروری ہے کہ عمل سے پہلے اس عمل کا ضروری علم حاصل کرنا چاہیے، دین دین ہے،دین کو لہو و لعب نہیں بنانا چاہیے ،چناں چہ کوئی بھی عمل کرنے سے پہلے ایک مسلمان پر یہ واجب ہے کہ وہ اس عمل کے بارے میں جانکاری حاصل کرے ۔

اللہ تعالیٰ ہمیں بہتر سمجھ دے،دین کا علم عطا کرے اور عمل کی توفیق دے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے