ذوالقرنین احمد
ملک کے موجودہ حالات مسلمانوں کے لیے بہت زیادہ آزمائش و صبر آزما ہے ہر طرف سے دشمنان اسلام کی طرف سے دین اسلام کے خلاف سازشیں کی جارہی ہے مسجدوں اور مدرسوں کو غیر قانونی بتاکر بلڈوزر کے ذریعے مسمار کیا جارہا ہے وقف کی زمینوں پر برسوں سے قبضے کرکے اسکی کمائی کوئی اور ہی استعمال کر رہا ہے تعلیمی اداروں میں مسلمانوں کے بچوں کو ذہنی و جسمانی طور پر ٹارچر کیا جارہا ہے اتنا ہی نہیں ملکی سطح کی سیاست سے باشعور، سرگرم، ملی مفادات کے لیے کام کرنے والے مسلم سیاست دانوں کو ایک ایک کرکے راستے سے ہٹایا جا رہا ہے۔ لیکن یہ سب دیکھنے کے باوجود مسلمانوں کے اندر شعور پیدا نہیں ہورہا ہے وہ اپنے اچھے برے کو سمجھنے کی کوشش نہیں کر رہے ہیں۔
ہمارے درمیان ایسے مکار، فریبی، منافق ذاتی مفادات کو ترجیح دینے والے قوم کا سودا کرنے والے دلال موجود ہے جو قوم کو ترقی پر نہیں دیکھنا چاہتے وہ اپنی اپنی دیڑھ اینٹ کی مسجدیں بنا کر دین کے ٹھیکیدار بنے بیٹھے ہیں کیونکہ مسجد، مدرسہ،قبرستان کے علاوہ ان دلالوں کی کہی اور دال نہیں گلتی ہے۔ ملت کا سودا کرنے والے یہ لوگ اتنے خطرناک ہے کہ دین کا چولا پہن کر اپنے آپ کو بڑا دین دار سمجھتے ہیں لیکن ان کے کالے کام پیچھے کے راستے سے شروع ہے۔ مسلمانوں کو آپس میں لڑانے توڑنے کا کام کرتے ہیں مسجدوں کے اندر مسلکی اختلاف کو ہوا دیتے ہیں اور عام مسلمانوں کے ذہنوں میں علمائے کرام کے خلاف زہر گھولنے کا کام کرتے ہیں۔ ہر کوئی اپنے مسلک کی دیڑھ اینٹ کی مسجد بناکر خود کو دین کا ٹھیکیدار سمجھنے لگتا ہے ۔دین کے نام پر مسلمانوں میں انتشار اور نفرتیں پھلانے کا کام کرتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں ایک ایسا گروہ بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے جو مسلمانوں کو علمائے کرام اور ائمہ کرام سے بدزن کر رہا ہے اور علمائے کرام پر سے ائمہ مساجد پر سے ان کا اعتماد کھوکھلا کرنے پر لگا ہوا ہے جو چھوٹے چھوٹے مسائل کو ہوا دیں کر مسلمانوں کے اندر پھوٹ ڈلوانے کا کام کر رہا ہے جو آپس میں مسلمانوں کو لڑانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اتنا ہی نہیں علمائے کرام جو اپنی زندگیوں کا اہم حصہ والدین سے دور رہ کر مدرسوں میں گزارتے ہیں اور برسوں کی محنت و مشقت کے بعد دین کا علم سیکھ کر فارغ ہوتے ہیں ایسے افراد پر بھی یہ لوگ انگلیاں اٹھانے کا کام کرتے ہیں اور اپنے آپ کو دین کا ٹھیکیدار سمجھ کر بیٹھے ہیں۔ ہر شہر گاؤں دیہات میں یہ لوگ علمائے حق اور ائمہ کرام کے ساتھ منافقانہ ور تعصبانہ رویہ اختیار کیے ہوئے انھیں ذہنی ٹارچر کرنے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں انکے خلاف سازشیں کرتے ہیں ان کے خلاف غلط الزامات لگاتے ہیں۔ یاد رکھے یہ علمائے کرام اگر نہ ہوتے تو دین اسلام ہم تک صحیح نہیں پہنچ پاتا یہ علمائے کرام کی ہی قربانیوں ہے جنہوں سے مدارس کا قیام کیا اور درس و تدریس میں اپنی زندگیاں لگادی۔
لیکن آج کچھ جاہل، علمائے کرام سے بغض وعداوت رکھنے والے علماء پر تہمت لگاتے ہیں ان کے گریبان کو تار تار کرتے ہیں اور خود کو دیندار سمجھ کر مسجدوں پر اپنی اجارہ داری قائم کرتے ہیں۔ یہ انتہائی تشویشناک بات ہے اگر آج اس کے خلاف اقدامات نہیں اٹھائے گئے تو آئیندہ کچھ عرصے میں یہ لوگ مسلمانوں کو گمراہ کردے گے اور علمائے کرام سے عوام کا ربط توڑ کر رکھ دے گے اور اپنے من چاہے دین کو دین بنا کر پیش کرے گے جو خود بھی گمراہ ہوگے اور لوگوں کو بھی گمراہیوں کی عمیق گہرائیوں میں دھکیل دے گے۔ ایسے افراد کو پہچانئیے اور علمائے کرام پر ظلم و ستم کرنے والوں کو رستے سے لگائیے اپنے اپنے علاقوں میں علمائے کرام، ائمہ کرام،حفاظ کرام کے دفاع کے لیے آگے آئے آج یہ لوگ علمائے حق کو حق بیانی اور دین اسلام کی حقانیت اور سچائی کو بیان کرنے سے روکنے کا کام کرتے ہیں، قرآن و حدیث کی بات کرنے والے ائمہ کرام کو نشانہ بناتے ہیں ،جو بھی علمائے حق ہے یہ لوگ ان کے پیچھے پڑ جاتے ہیں اور ان کو پریشان کرنا شروع کردیتے ہیں، ایسے دین کےٹھیکیدار افراد اپنے من کے مطابق دین چاہتے ہیں یہ منافقت کے اعلی درجات پر فائز ہے اللہ تعالیٰ ایسے منافقین اور تعصب پسند دین کے ٹھیکیداروں سے ملت اسلامیہ کی حفاظت فرمائے ۔
