ابو احمد مہراج گنج

آجکل ہر طرف بازار میں رونق ہے کہیں بے ریش تو کہیں باریش کہیں بے پردہ تو کہیں باپردہ مرد و خواتین کی ایک لا متناہی بھیڑ امڈ پڑی ہے ۔کپڑے کی دکان پر جائیں تو مسلمان ۔جوتے چپل کی دکان پر مسلمان ۔کاسمیٹک کی دکان پر مسلمان، پرچون کی دکان پر مسلمان ،پھل فروٹ اور میوہ جات کی دکان پر مسلمان غرضیکہ ہر بازار اور بازار کی ہردکان میں مسلمان اور صرف مسلمان!! اِلٰہی یہ ماجرا کیا ہے ۔

اس لامتناہی بھیڑ اور بے محابہ پھرتی عورتوں بچیوں کے ہجوم سے کسی نے ذرا ہمت کرکے پوچھنے کی جسارت کی اور جاننا چاہا کہ ادھر ہفتہ دس دنوں سے مسلمان عورتوں اور مردوں کی بہت بڑی بھیڑ بازاروں میں نکل پڑی ہے اس کی کیا وجہ ہے ۔تو مختصر سا جواب تھا کہ "عید آنے والی ہے”

سائل محو حیرت ان کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھتا رہا اور دل ہی دل سوچتا رہا کہ "عید آنے والی ہے”

اس کو تجسس ہوااس نے عید سے پوچھا کہ "اے عید سعید” سنا ہے کہ تم آنے والی ہو ۔تمہارے آمد کے استقبال میں امت مسلمہ کی مائیں بہنیں بیٹیا حسین وجمیل بن کر دل ودماغ کو قید کرنے والی پرفیوم اور عطر سے معطر ہوکر دل نشین انداز اور دلربا آواز کے ساتھ چوک در چوک دکان در دکان اور شاپنگ مال میں جوق در جوق دیکھی جا رہی ہیں ۔

اے عید سعید کیا تجھے پتا ہے کہ قوم مسلم کی بہو بیٹیاں اور جوان بچے، بوڑھے ،سب کو تیرے آنے کی خوشی ہے۔ سب کو تیرے آنے کا انتظار ہے ۔

اے عید کیا تیرے استقبال کے لئے زرق برق لباس کی ضرورت ہوتی ہے ؟۔اے عید کیا تیری آمد پر چوڑی کنگن بندیا لسکارے مسکارے اور غازے کی ضرورت ہے ؟۔اے عید کیا تیری آمد پر قورمہ کباب ،فیرنی،چاٹ پکوڑے،دہی باڑے اور سیوییوں کی ضرورت ہے ۔؟

اگر تیرا جواب ہاں میں ہے !! تو مجھے یہ بھی بتا !! کہ کیا تیرا گزر فلسطین میں بھی ہوگا اے عید کیا تو فلسطین کے غزہ میں شام اور سیریا میں بھی جاۓ گی ؟؟

کیا فلسطین کے شیر خوار جو دودھ نہ ملنے کی وجہ سے دم توڑ چکے ہیں ان کے لیے بھی خوشیاں لائے گی۔؟ اے عید کیا فلسطین کے ان ماؤں کو بھی مبارکباد پیش کرے گی جنھوں نے اپنے خون سے سینچے باغ کو اپنے سامنے تڑپتے دیکھا ہے ۔اے عید کیا تو ان جوان مردوں کے پاس بھی جاے گی جو دشمنوں کے حملوں کی تاب نہ لاکر اپنے معصوم بچوں اور بے سہارا والدین کو روتا بلکھتا چھوڑ گئے ہیں ۔اے عید کیا تو فلسطین کے ان بہنوں کے پاس بھی جاے گی جنھوں نے اپنے شوہروں اور بھائیوں کی لاشوں کی شناخت بھی نہیں کر پایا ہے ۔

اے عید کیا تو تجھے معلوم ہے کہ فلسطین کے مسلمانوں نے پچھلے پانچ مہینے سے روزہ رکھا ہوا ہے ۔اے عید کیا تجھے معلوم ہے کہ فلسطین کے بچے ،بوڑھے ،جوان مرد وعورت نے رمضان المبارک کے مہینے میں سحروافطار کا صرف نام سنا ہے ۔

اے عید اگر یہاں زرق برق لباس ،رنگ برنگ کے کپڑوں میں ملبوس تیرے استقبال کے لئے تیار ہیں تو وہاں غزہ اور فلسطین میں کفن میں ملبوس اپنے مرحومین کے ساتھ تیرے استقبال میں کھڑے ہیں ۔اے عید اگر یہاں شیرینی اور فیرینی کی طشتریوں کے ساتھ تیرا استقبال ہے تو وہاں فلسطین میں یہودیوں نے مسلمانوں کی لاشوں کو تیرے استقبال کے لئے چھوڑ کر رکھا ہے۔

اے ہلال عید تجھے مجھ سے زیادہ خبر ہے تو ساری دنیا کا نظارہ کرتا ہے تو نے وہ مناظر بھی دیکھے ہوں گے جنھیں بیان کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں ۔

بس اور بس!! اے عید مجھے اس بار تیرے استقبال کی خواہش نہیں ۔تیرے آمد کی خوشی نہیں ہورہی ہے ۔بلکہ مجھے شرمندگی ہے کہ میں اپنے جسم کے ایک تڑپتے ہوئے حصے کو کوئی سکون اور آرام نہیں دے پارہا ہوں ان کے لئے وقت سحر خالق حقیقی کے سامنے دست سوال تک نہیں اٹھا پارہا ہوں ۔اے عید میں تجھ سے شرمندہ ہوں ۔

شہر خالی ہے کسے عید مبارک کہیے

چل دئیے چھوڑ کے مکہ بھی مدینے والے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے