محمدیوسف رحیم بیدری ، بیدر، کرناٹک
۱۔ طلبگارِ معافی 
بے اختیار دوڑااور خیریت پوچھی ، عجیب سی دل کی حالت تھی۔ اس نے اچانک ہی پوچھ لیا’’اب کون سا زخم دینے آئے ہو؟‘‘
خیریت پوچھ کرزخم کون دیتاہے ؟ عقیل ناز کی حالت دگرگوں سی ہوگئی تھی۔ اس کی سمجھ میں کچھ بھی نہیں آیا۔ وہ پلٹ آیا ۔ سوچنے لگاکہ اس نے کون سا زخم دیاہے ؟ کچھ دیر بعد اس نے دل کو سمجھالیاکہ انسان ہوں ، بھول میری سرشت میں ہے ۔ ہوسکتاہے میں نے اس کو کوئی زخم دیاہوگا۔ وہ پھرپلٹ پڑاتاکہ اس سے معافی مانگ سکے
۲۔  راشن کٹ مفت لے جاؤ
غریبوں کے لئے ڈھیروں رمضان راشن کٹ تقسیم ہورہے تھے۔ وہ تلاب سیٹھ کے پاس پہنچااوراس نے اپنامسئلہ رکھا۔ عیدکے لئے پانچہزار روپئے چاہیے ۔تلاب سیٹھ دراز دستی کے لئے تیا رنہیں ہوئے۔ ساتھ بیٹھے مونی با با نے تلاب سیٹھ کوسمجھایاکہ دیکھویہ آدمی پورے شہر کی خبر رکھتاہے ۔ کچھ الٹا پلٹا ہوگیاتو ہمارے کام آئے گا۔
تلاب سیٹھ نہیں مانے ۔ صرف یہ کہاکہ وہاں راشن کٹ ہیں ۔ چاہیے تو راشن کٹ مفت لے جاؤ۔میرے پاس دوہزار روپئے نہیں ہیں۔ میں شہر کے تین بینکوںسے دوکروڑ ادھار لے چکاہوں ۔وہ بے نیل ومرام واپس لوٹا۔
عید کے بعد تلاب سیٹھ کے گھر پر ای ڈی کادھاواپڑا تب تلاب سیٹھ کو یادآیاکہ وہ آدمی تو واقعی پورے شہرکی خبر رکھتاہے۔ سیٹھ کے آدمی اس شخص کی تلاش میں نکل پڑے تھے۔
۳۔  خیال کا پنجرہ 
میں نے کہا’’واہ کیاشعر ہے صاحب ، سنوگے تو پھڑک جاؤگے ‘‘ سبھی میری طرف دیکھنے لگے تھے۔ ’ارشاد ، ارشاد ‘کی دبی دبی آوازیں بھی آئیں۔ میں نے کہا، عمیرنجمی کاشعر ہے    ؎
نکال لایاہوں ایک پنجرے سے اک پرندہ
اب اس پرندے کے دل سے پنجرہ نکالناہے
’واہ ، واہ‘ کہہ کر سبھی اس شعر کی تعریف کرنے لگے۔ہمارے بقراط نما دوست نے کہا’’شاعر نے صحیح کہاہے ، اب یہی دیکھ لو، رمضان ختم ہونے آگیالیکن شیطان کاخیال دل سے نہیں جاتا، اللہ تعالیٰ کی طلسماتی اور انتہائی مضبوط زنجیروں میں جکڑا ہواشیطان ہمیں اپنے گھروں ، چوراہوں ،اور شب کو بازاروں میں نظر آجارہاہے ۔ کچھ ایساکرو کہ ماہ رمضان کاپور امہینہ ہمیں صر ف خدا یاد آئے ، شیطان نہیں ، ذرا ہمارے دل سے شیطانی خیال کا پنجرہ نکال دو‘‘
ہم سب کابقراط نما دوست سچ ہی تو کہہ رہاتھا۔ ہمارے دل شیطان کے خیال اور خصوصاًاس کے اثرات سے محفوظ نہیں تھے۔بھائی بقراط  کے بولنے کے بعد جانے کیوں ایک خاموشی سی رہی۔
۴۔ کان کا کچا
ہم سب نے مولوی صاحب کے ٹھکانے پر چھاپا مارا لیکن کہیں پر بھی رمضان راشن کٹ نہیں ملے۔ سب سے زیادہ ندامت مجھے ہورہی تھی ۔ میں سوچ رہاتھاکہ لوگ آخر جھوٹے الزامات کیوں لگاتے ہیں ؟
تب میرے ضمیر نے مجھ سے سوال کیاکہ ’’دوسروں کوچھوڑومیاں ، تم کان کے کچے کس طرح نکلے ؟ اپنابھی تو محاسبہ کرلیاکرو‘‘۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے