{زین الـعــــابـد ین بن عـبد الــرحـمـن}

مسلمان بہت ضدی قوم ہے ہم اس رب کو مانتے ہیں جس کا کوئی کسی شئی میں شریک نہیں, جو سپر پاور ہے ,جس کے سامنے ہر شئی اسکے حکم کا غلام ہے , جو اپنی ذات میں احد ہے ,زمین و آسمان کا اور اس میں ہر شئی کا خالق و مالک ہے , ہم اپنے نبی کو بغیر دیکھے اس قدر محبت کرتے ہیں کہ محبت میں اپنی جان دے سکتے ہیں اور جان لے بھی سکتے ہیں , ہم حقیقی اعتبار سے کسی قوم سے نہیں ڈرتے ہیں بس ہماری قوم میں کچھ کمزوریاں ہیں اور کچھ جو کمزوریاں ہیں وہی ہماری قوم کو صدیوں سے غلام , مظلوم بنائی ہے ورنہ جو حوصلہ ,ہمت و طاقت,جذبہ مسلمانوں کے پاس ہے دوسری قومیں اس سے بخوبی واقف ہیں مگر ہم خود ہی بے خبر ہیں ۔ ہماری آپسی الفت و محبت ,ہماری اخوت ,ہماری ہمدردی,ہماری اتفاق اتحاد ,ہماری اجتماعیت ہی ہماری اصل طاقت ہے اور یہ سب کچھ موجود ہے مگر ہر گروہ کی اپنی حد تک میں ۔نماز عیدین مسلمانوں کی عید گاہ میں ادا کرنے کے پیچھے مقصد ہی یہ تھا کہ ہماری اجتماعیت ایک جگہ جمع ہوکر اپنی اجتماعیت کے ساتھ ایک اللہ کی وحدانیت کا بھی ثبوت پیش کرے اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ اللہ کی صدائیں جب بلند ہوں تو دوسری قوموں کو معلوم ہوسکے , ہماری ایک آواز سے دشمنان اسلام کی روحیں کانپ جائیں مگر ہر عمل میں آج مقصد ختم ہوگیا ہے ۔ دو کلو میٹر ,چار کلو میٹر کے شہر میں پچاس مسجدیں اور پچاس مسجدوں میں دو سو چار سو ہزار پانچ سو کی اپنی اپنی اجتماعیت اور اپنی اپنی حد تک خوشی و تکبیرات ٱف! عید گاہ کا نام و نشان نہیں جب کہ اگر اجتماعیت ہو تو یہ ایک دن کا کام ہے ,مدرسہ و مسجد کی باری آتی ہے تو کروڑوں اربوں جمع ہوجاتے ہیں اور ایک مدرسہ و ایک مسجد نہیں بلکہ ایک ہی شہر میں بیس بچاس مسجدیں و مدرسہ بن جاتے ہیں تو پھر عید گاہ کی جب باری آتی ہے تو کیا شہروں میں زمین ختم ہوجاتی ہے یا ہزار دو ہزار پانچ ہزار دس ہزار پچاس ہزار لاکھ روپیہ دینے کے لیئے پیسہ ختم ہوجاتا ہے؟

خیر اس خوشی کے ماحول میں جہاں نئے کپڑے,ذائقہ دار کھانے,مختلف جگہوں کی سیر و تفریح آج کا حصہ ہیں وہیں پہ ایک ایسی جگہ بھی ہے جہاں مسلمانوں کی جماعت رہتی ہے وہ لوگ بم سے گرے اپنے گھروں کے ٹوٹے دیواروں و چھتوں پر گھوم گھوم کے سیر و تفریح کررہے ہیں ان کو جو کپڑا ,کھانا میسر ہوگیا وہی ان کے لیئے عید کی خوشی کا باعث بن گیا ہے۔ ہم دور سے ان کے درد کو دل سے محسوس کرتے ہیں ان کے لیئے دل سے دعا کرتے ہیں اور ظالموں کے لیئے بدعا کرتے ہیں ۔ہم بحیثیت انسان و مسلم , دنیا میں کسی بھی انسانوں پر ظلم و ذیادتی کے مخالف ہیں یہ تو ہمارے مسلم بھائی ہیں اللہ نے خون کے رشتے کے ساتھ ساتھ ایمان کے رشتے سے ہمیں باندھ دیا ہے اور اگر ہمیں کوئی غم و تکلیف دکھ نہ ہو تو گویا ہمارے اندر غیرت ایمان باقی نہیں ہے ۔ہم اپنے ان خوشی کے لمحوں میں ان کو نہ بھولیں ان کے لیئے دل سے دعا کریں اللہ ان کا حامی و ناصر بن جا اللہ ان کے لیئے کوئی سبیل پیدا کردے کسی کو ان کے راحت و سکون کا سبب بنا دے ۔آمین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے