کتبہ: محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی

وہ کون بزرگ انسان ہے جن کو خدمت دین ،دعوت وتبلیغ ،حق کی اشاعت کی توفیق ملی ، اور اس پر سختیاں نہیں کی گئیں ؟ تاریخ کے اوراق ورق الٹے جائیں ۔ تو از آدم تا ایں دم ہمیں لاتعداد انبیاءواولیاء ریفارمرز مجددین اور صلحاء نظر آئیں گے جو حق کی اشاعت کے لیے اٹھے۔ دعوت وتبلیغ واصلاح امت کے لئے کھڑے ہوۓ ، نادان اہل دنیا نے ان کی مخالفت کی۔ انہیں گوناگوں تکلیفیں دیں۔ اور عداوت و مخاصمت کا زہریہاں تک پھیلایا کہ ان برگزیدہ ہستیوں کو قتل و ہلاک کرنے سے بھی دریغ نہ کیا،

ہاں لیکن ! علماء حق کا ممتاز وصف یہ ہے کہ حالات کیسے بھی ہوں ، سازشی اور بلوائوں کا پورا ٹولہ گرچہ بیعت کرکے حملہ آور ہوجائے،مخالفت میں زمین و آسمان کے قلابے ملا لیں ، ساری طاقت جھونک دیں ، آوازۓ کسیں ، بدخلقی وبد تہذیبی کا طوفان بپا کردیں ،گالیاں دیں ، تالیاں بجایں ، سنگباری وکلوخ اندازی کریں ، ہرحربہ اپنایں ، چاروں طرف سے مصائب وآلام کا پہاڑ توڑ دۓ ۔

مخاصمین و مخالفین اس پر سب و شتم کریں ۔ اس کی عزت پر حرف لائیں ، اسے مارنے اور ہلاک کرنے کے درپے ہو جائیں ، اس کے کام اس کے مشن میں رکاوٹیں ڈالیں، اس کو ناکام بنائیں شکست دیں ، اس کے آگے روڑے اٹکائیں ، رخنہ اندازی کریں۔ لیکن وہ ہر حالت میں ، عسر اور یسر میں تنگی اورفراخی میں تکلیف اور راحت میں ، غم اور خوشی میں لا يُخَافُونَ لَوْمَةَ لائم ،کے ارشاد کے مطابق لوگوں کی ہرزہ سرائی ،لعنت و ملامت ، سباب و دشنام سے بے پر واہ ہو کر دین حنیف ملت بیضاء سمحۃ کی خدمت میں لگے رہتے ہیں ، منہج حق الصراط المستقیم الذی لا اعوجاج فیہ کی تبلیغ نشر واشاعت میں لگے رہتے ہیں،وہ سموم وصرصر کے جھونکوں کو جنت الفردوس کی روح افزا ہوا سمجھتے ہیں ،وہ رگوں کو یخ کرنے والی سردآندھیوں کو بہشت کی روح پرور صبا ! سمجھکر جو ڈیوٹی اور ذمہ داری اسلام نے اس پر فرض کیا ہے اسے بحسن وخوبی ادا کرتے رہتے ہیں ، اور ہاں ،

ہاں تلخی ایام ابھی اور بڑھے گی

 ہاں اہل ستم مشق ستم کرتے رہیں گے

اک طرز تغافل ہے سو وہ ان کو مبارک

 اک عرض تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے،

معاندین کی سختیوں، مذلوجی حرکات ، اور جارحانہ شرارتوں کا جواب علماء حق ہمیشہ صبر وشکیب سے دیتے آۓ ہیں ، منتقمانہ جذبات کو برانگیختہ ہونے سے روکا ہیں ،طاقت وقوت کے باوجود اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی کوشش نہیں کیں، وإن تعفوا هو أقرب للتقوي ،کا اصول اپنایا ،

ہمارے اسلاف کی زندگی کے مطالعہ سے یہ چیزیں ہمیں بکثرت ملیں گے، زیادہ دور نہیں مناظر اسلام مولانا ثناء اللہ امرتسری کی زندگی کا ورقہ پلٹئیے ، اور ان کی استقامت کو دیکھئے کتنی اذیتیں برداشت کی غیروں سے زیادہ اپنوں سے،قمر بیگ نامی شخص نے قاتلانہ حملہ کیا تھا پھر بھی آپ نے اس کو معاف کردیا ،

ایک دفعہ احباب نے مشورہ دیا کہ مبتدع مخالفوں کے خلاف آپ مناسب کاروائی کریں اور پولیس کے ذریعے انہیں عبرتناک سزا دلائیں ۔ آپ نے انکار کرتے ہوئے کہا :

"جو شخص دینی و قومی خدمات کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہو ۔ اسے ہر عدو و خصیم کی مخالفت کا بخندہ پیشانی خیر مقدم کرنا اور مصائب و مشکلات کو خوشی سے جھیلنا چاہیئے ۔ گھبرانا مضطرب ہونا اور چھچھوراپن دکھانا بزدلوں ، کمینوں ، رذیلوں اور ناقص الایمان لوگوں کا کام ہے. ہم تو ولا تصعر خدک للناس کے تحت الحکم اعداء سے، بے رخی نہ کریں گے ۔ اور خلق و محبت سے ان کے قلوب کو فتح کریں گے ”

بھلا جس کو رب سبحانہ نے اپنی توحید کی اشاعت اپنی کتاب کی تبلیغ اپنے دین کی حفاظت اور اپنے رسول کی سنت کے احیاءکے لیے مقرر فرمایا ، وہ ان سختیوں اور اذیتوں کو کب خاطر میں لاتا ، اسے خصیموں کی گالیاں اور تالیاں ، خشت بازیاں اور سنگ اندازیاں کب اپنے مقصد سے روک سکتی ۔ وہ تو اعداء کی دشمنی، مخالفوں کی عداوت ، مخاصموں کی خصومت سے بے پرواہ ہوکر اداۓ فرض میں لگے رہتے ہیں ، جفا وستم شور وغوغا سے علماء حق نے کبھی نہیں گھبرایا بلکہ ،

ستون دار پر رکھتے چلو سروں کے چراغ

جہاں تک یہ ستم کی سیاہ رات چلے ،

اللہ تعالیٰ علماء حق کی حفاظت فرمائے ،انہیں مزید حوصلہ و طاقت دۓ ، انہیں دنیا وآخرت میں اجر عظیم دے آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے