محمد یوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک۔
۱۔ جھوٹ کی عمر 
وہ ایک سیاست دان تھا۔ عوام کی کمزوری سے واقف تھا۔ ان کمزوریوں کے سہارے اس نے ووٹ حاصل کرنا شروع کردئے اور پھر ایک دن اس نے خطاب کرتے ہوئے کہا’’لوگ کا جوش ووٹوں میں تبدیل ہورہاہے ‘‘ لوگوں نے سمجھا کہ شاید ایسا ہی ہورہاہوگا۔ لیکن جب نتیجے آئے تو وہ اور اس کی پارٹی پوری ریاست میں چاروں خانے چت ہوچکی تھی۔
نتیجہ دیکھ کرآچاریہ سیتارام نے کہاکہ جھوٹ کی عمر چھوٹی ہوتی ہے۔ انسان کواس سے بچنا چاہیے۔
۲۔ بغیر گیارنٹی والے تنکے 
عوام کو تبدیلی کے نام پروو ٹ دینے کے لئے کہاگیااور یوں ورغلایاگیاکہ ووٹ دینے سے تبدیلی آتی ہے۔دانشوران ِ ملت خاموشی سے یہ تماشادیکھے جارہے تھے۔جب پانی حد سے زیادہ اونچا ہوگیاتو انھوں نے اعلیٰ الاعلان بھولی بھالی عوام سے کہہ دیاکہ ’’بھائیو، یہ غلط سمجھایاجارہاہے کہ ووٹ سے تبدلی آتی ہے۔ یہ دراصل آپ کاووٹ ہتھیانے کاسیاسی پارٹیوں کاایک ذریعہ ہے۔ تبدیلی ووٹ
سے نہیں تبدیلی5چیزوں کی گیارنٹی سے آتی ہے۔
آپ ہمیں ان پانچ چیزوں کی گیارنٹی دیں (۱) سیاسی نظریہ،(۲) بے لوث سیاسی قیادت ، (۳)محنتی افرادکی ٹیمیں ، (۴)ملکی ترقی کاہدف اور(۵) مضبوط اور بے باک سیاسی پارٹی ۔ اگر یہ پانچ چیزوں کی گیارنٹی آپ کے پاس یاآپ کے طبقہ کے پاس نہیں ہے تو کوئی تبدیلی آنے والی نہیں ‘‘
عوام نے دانشوروں کی بات سن لی۔ بہت سوں نے سرہلایا۔ کچھ نے کہاہمارے پاس تو سیاسی نظریہ سے لے کر سیاسی پارٹی تک کوئی بھی گیارنٹی نہیں ہے۔ پھر توجو کچھ ہواوہ یہ تھاکہ ہواچل رہی تھی اوراس ملک کے لوگ تنکوں کی طرح بہے جارہے تھے۔یہاں ان کاکوئی مقدر نہیں تھا۔ جانے کتنے سال اور بغیر گیارنٹی والے یہ تنکے بہیں گے۔
۳۔ نادان شازیہ 
  کالجس کھل چکے تھے لیکن طالبات کی تعداد بہت کم تھی۔تیسرے دن پالٹیکل سائنس کے لیکچرر اشفاق نے طالبات کو ایک کہانی سنائی ، بتایاکہ ’’شازیہ ایک مسلمان قوم کی نادان لڑکی تھی۔ جوانی کے جوش نے اس کو ایک شادی شدہ ہندو شخص سے وابستہ کردیا۔کچھ سال بعدوہ ایک ناجائز بچے کی ماں بنی ۔ لوگوں نے جب اس کو طعنے دیناشروع کئے تو اس ہندو آشنا سے اس نے شادی کے لئے کہا۔ وہ کسی طرح تیار نہیں تھا۔ لیکن جب شازیہ نے کچھ زیادہ ہی زور دیاتو اس نے اس کاقتل کردیااور اس کے نومولود لڑکے کو سڑک کے کنارے چھوڑ کرچلاگیا، تین ہفتہ کی کوشش کے بعد وہ پولیس کی گرفت میں آگیالیکن اس
 قاتل کی درندگی کے خلاف کسی مسلمان نے آواز نہیں اٹھائی‘‘
لڑکیاں ایک دوسرے کامنہ دیکھنے لگیں۔ اشفاق سر نے کہانی ختم کرتے ہوئے کہا’’اس کہانی میں ایک ہوس ہے جو عشق کے نام سے نوجوان لڑکیوں کے دلوں میں اپنابسیراکیاکرتاہے۔ دوسرااندھا پن ہے۔ہوس میں اندھا ہوجانا دونوں فریق کامقدر ہے۔ اس کہانی میں تیسری چیز والدین کی ان دیکھی ہے ۔ ان کی لڑکی ہوس کی بھینٹ چڑھنے والی ہے او روہ اس طرف سے آنکھیں بندکئے رہے ‘‘
طالبات نے اپنی نگاہیں نیچی کرلیںجیسے گناہ شازیہ کے والدین نے نہیں خود انھوں نے کیاہو۔ پھر کچھ توقف کے بعداشفاق سر نے کہا’’کہانی کی سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ شازیہ کے گھروالوں سے جاکر مسلمان معاشرہ نہیں ملا۔ اور نہ ہی والدین کو تسلی دی کہ آپ کی لڑکی نے جو غلط اٹھایا اپنی جگہ لیکن آپ لوگ ہماری تعزیت کے مستحق ہیں۔ اس بات سے پتہ چلتاہے کہ لڑکیاں جب اصولوں کے خلاف چلی جاتی ہیں  تو ان کااپناطبقہ بھی ان کاساتھ نہیں دیتاان کی موت پر مغفرت کی دعا کرنے والا بھی کوئی نہیں ہوتا‘‘
اشفاق سر کے چہرے پر اداسی چھائی ہوئی تھی۔ طالبات سمجھ رہی تھیں کہ شازیہ شاید اشفاق سر کی کوئی قریبی لڑکی تھی۔
۴۔ ناکام اپوزیشن  
انھیں احتجاج کرنے دِیاگیا۔ ایک قتل شدہ لڑکی سے انصاف کیلئے  وہ دوگھنٹے تکچیخ وپکار کرنے کے بعدوہ واپس ہوگئے۔ دونوں سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے کے خلاف چوں کہ صف آراء تھیں۔
اسلئے مختلف چینل پربحث ہونے لگی۔
اپوزیشن کاکہناتھاکہ ہم نے احتجاج کردِکھایا یہ ہماری کامیابی ہے۔ برسراقتدار پارٹی نے استفسار کیا ’’ تم تو ریاست بندکرنے کی بات کررہے تھے ۔ ہم نے ایسا ہونے ہی نہیں دیا۔ دوگھنٹے تک ایک مقام پر کھڑے ہوکر چیخ پکارکرنے کو دم خم یا طاقت نہیں کہتے۔ یہ ہماری کامیابی ہے اپوزیشن کی نہیں ‘‘
اپوزیشن کے پاس اس بات کاکوئی جواب نہیں تھا۔ دوسرے ایشوز پر بات ہونے لگی
۵۔ بے نام ونشان 
وہ دوڑتارہا، بھاگتارہا، ہرطرف اس کی جیت کاجھنڈا لہرارہاہے اور وہ چل پھررہاتھا۔ دراصل جھوٹ کے پاؤں کے اچھے دِن آگئے تھے اسلئے وہ اسے کامیابی سے دوڑائے لئے جارہے تھے لیکن اس کوبھی یقین تھاکہ ایک دن اس کے جھوٹے پاؤں جھڑ جائیں گے اور وہ اپاہج ہوکر رہ جائے گا۔
مؤرخ اس کے بارے میں خاموش ہے ۔ یہ نہیں بتا تاکہ اس کاآخر کیاہوا؟اس کے پاؤں پیچھے رہ گئے یا وہ خود کہیںپیچھے رہ گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے