عازمینِ حج کو مناسک سیکھ کر مقدس سفر اختیار کرنے کی تلقین

لکھنؤ (پریس ریلیز): مولانا علی میاں ندوی میموریل حج ہاؤس لکھنؤ کی مسجد میں شعبہ دعوت و ارشاد ندوۃ العلماء کے زیر اہتمام عازمینِ حج کے لیے ایک اہم تربیتی نشست کا انعقاد کیا گیا، جس میں علماء کرام نے حج کے مناسک، آداب اور روحانی تقاضوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ اس موقع پر عازمینِ حج سے خطاب کرتے ہوئے مولانا مفتی رحمت اللہ ندوی، استاذ حدیث و فقہ دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ نے کہا کہ حج زندگی میں ایک بار فرض عبادت ہے، اس لیے اسے مکمل طور پر سیکھ کر ادا کرنا نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام عازمین پہلے مدینہ منورہ جائیں گے اور اس کے بعد ذوالحلیفہ سے احرام باندھیں گے، جو کہ وہی مقام ہے جہاں سے نبی کریمﷺ نے احرام باندھا تھا۔

انہوں نے عازمین کو نصیحت کی کہ مدینہ منورہ میں قیام کے دوران کثرت سے درود شریف کا ورد کریں اور ہر عمل کو سنت کے مطابق انجام دیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں چالیس نمازیں باجماعت ادا کرنے کی کوشش کریں، ریاض الجنہ اور جنت البقیع کی زیارت کریں اور ہر موقع پر یہ نیت رکھیں کہ اللہ تعالیٰ راضی ہو جائے اور دنیا و آخرت میں ایمان کے ساتھ عزت و سربلندی نصیب فرمائے۔

دعائیہ ہال میں منعقدہ نشست میں مفتی آفتاب عالم ندوی خیر آبادی، مبلغ دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ نے اپنے خطاب میں کہا کہ حج اس انداز میں ادا کیا جائے کہ وہ مقبول و مبرور ہو۔ انہوں نے حج کے فرائض و واجبات پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور عازمین کو ضروری ہدایات فراہم کیں۔ آخر میں انہوں نے حجاج کرام کے لیے دعاؤں کے ساتھ ان کی بخیر و عافیت واپسی کی تمنا کی۔

اس نشست میں مولانا سید محمد غفران ندوی، مولانا عبد الوکیل ندوی، مولانا سلمان نقوی، مولانا محمد فرحان، حاجی اعجاز احمد صدیقی، حاجی محمد عمران، حافظ محمد اسلم، حاجی محمد لئیق، حاجی محمد شاہد، مولانا محمد حمزہ خاں سمیت دیگر معزز افراد بھی موجود تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے