محمدیوسف رحیم بیدری ، بیدر، کرناٹک
۱۔ عزتِ مسلم
وہ قریب آکر بیٹھ گئی تھی ۔ اب ہما راامتحان تھا۔ وہ دوسرے مذہب سے تعلق رکھتی تھی۔ اگر کسی نے دیکھ لیاتو وہ جوتے پڑیں گے کہ تمام مقامات پر مرہم کرناپڑے گا۔ دل ڈول رہاتھا۔ باہر دیکھاجارہاتھاتاکہ مسافروں کوپتہ ہی نہ چلے کہ ہم اس خاتون میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ بڑے شدید کرب اور انتظار کے بعد ہم اپنے Destination پرپہنچے تو بس سے کودکر خوشی خوشی بھاگ کھڑے ہوئے ۔ عزت بچی ۔ سمجھ لیاگیاکہ یہ عزت ِ سادات نہ تھی۔
۲۔ خدمت کاموقع
میں پڑھائی میں بہت ہوشیارنہیں تھا۔ صحافت میں آگیا۔ وہ کافی قابل اور نمبرون طالب علم تھا۔ اس نے طبی ڈاکٹر یٹ کرلی۔ آج وہ ایک کلینک کامالک ہے ۔میں صحافت سے ہوتے ہوئے سیاست میں آگیااور آج کئی ایک فیکٹریوں اور دیگر کئی اقسام کے کاروبار میں حصہ دار ہوں۔ شیئر مارکیٹ میں بھی میراپیسہ اور میرے لوگ ہیں جو دِن رات شیئر مارکیٹ کو اوپر نیچے کرتے رہتے ہیں۔
یہ سب اوپر والے کی دین ہے جس کو چاہے پیسہ دے ، جس کو چاہیے خدمت کاموقع دے۔
۳۔ پیسہ والی
چھوٹی سی عمر میں ٹک ٹاکر بنے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے سوشیل میڈیا کے اسٹار بن گئے۔ آج کھانا پینااسی کے ذریعہ ہے لیکن دل کہتاہے کہ یہ سب فلم کی ایک شکل ہے اسلئے حرام ہے۔ مگرچوں کہ گلے گلے تک دھنس چکی ہوں ، اسلئے سوشیل میڈیا سے باہر نکل نہیں سکتی۔ سوچتی ہوں کہ کل جب میرے بچے بڑے ہوجائیں گے تو کیاسوچیں گے ؟اتنی اچھی سوچ کے باوجو دبھی سوشیل میڈیا کے اس کاروبارسے باہر نہیں آسکتی کہ پاپی پیٹ ہر دن تنگ کئے ہوئے ہے اور سماج کو بھی پیسہ اور پیسہ والی ہی چاہیے۔
۴۔ داداجوان
جمعہ کادِ ن تھا۔مؤظف تحصیلدار مرزا حسن بیگ قبل ازوقت ہی نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے مسجد چلے آئے تھے ۔ پانسات لوگ وہاں پہلے سے موجودتھے۔ حسن بیگ صاحب بھی مسجد کی پہلی صف کے دائیں جانب دورکعت نماز’’تحیت المسجد ‘‘ پڑھنے کے بعد بیٹھ گئے۔اِدھراُدھر مسجد کاجائزہ لے رہے تھے۔ ہر ہفتہ جمعہ کی نماز وہ اسی مسجد میں پڑھنے کے لئے آتے تھے۔ اس بارا نہیں مسجد میں بہت کچھ نیالگ رہاتھا۔ رنگ وروغن بھی کیا گیاتھا۔ کچھ اور بھی زائد چیزیں لگائی گئی تھیں جن میں نماز کے ڈیجیٹیل اوقات کارکاایک عدد بورڈ بھی آویزاں تھا۔اردو اور انگریزی میں لکھاہوا یہ ڈیجیٹل بورڈ برقی کی روشنی میں جگمگارہاتھا او رکافی خوبصورت لگ رہاتھا۔
اتنے میں ان کی نظر جمعہ لفظ کی انگریزی پرپڑھی ۔ لکھاتھا JUMUAH ۔دل میں سوچا’’ میں تو Uکے بنا ہی جمعہ لکھ دیاکرتاتھا۔ چلوآج ایک لفظ سیکھنے کوملا‘‘ وہ وظیفہ یابی کی عمر میں بھی سیکھنے کی طرف توجہ دیتے تھے ۔ اسی لئے ان کے پوتے کبھی کبھی انہیں ’’داداجوان‘‘ کہاکرتے تھے۔ جس کاوہ ہرگز برا نہیں مانتے تھے۔
۵۔ چھوٹے اصغر کاسوال
تعطیلات میں سبھی بیٹیوں کے بچے نانی کے پاس جمع ہوگئے تھے۔ ایک دن سب سے چھوٹے نواسے نے پوچھا’’ہم ہرسال چھٹیوں میں نانی کے پاس آتے ہیں ۔ نانی تعطیلات میں ہمارے پاس کیوں نہیں آتیں ؟‘‘
سبھی چھوٹے اصغر کے سوال پردنگ رہ گئے۔ منجھلی خالہ نے اپنے بیٹے کی بلا ئیاں لیتے ہوئے کہا’’ میرے بیٹانانی سے بہت محبت کرتاہے ‘‘ چھوٹی خالہ کو بھی اصغر اچھالگتاتھا انھوں نے بھی تعریف کی مگر بڑی خالہ رکھائی سے بولیں ’’تمہاری نانی جب چھوٹی تھیں تب وہ تعطیلات میں اپنے نانی کے پاس جاتی تھیں۔ جس کو بھی جانا ہوتاہے نانی کے پاس جانا ہوتاہے ۔ بیٹی کے پاس نہیں ‘‘
چھوٹے اصغر کی سمجھ میں نہیں آیاکہ بڑی خالہ نے کیاکہاہے۔ وہ ماں کی طرف جواب طلب نگاہوں سے دیکھ رہاتھا۔
۶۔ عجیب انتخا ب
عجیب معاملہ تھا۔ دونوں بڑی پارٹیوں اور اتحاد کے امیدوار ایک دوسرے کے خلاف بیانات دے رہے تھے۔ ان بیانات میں کہیں بھی ایک دوسرے کی تعریف نہیں تھی۔ ایک دوسرے کے ہربرے کام لوگوں کے سامنے لائے جا رہے تھے۔ جس کے سبب دونوں اتحاد کے طاقت امیدوار غنڈہ ، بدعنوان ، عورتوں کے جونک نما ’پرجول‘، طبقاتی بھیدبھاؤ رکھنے والے ، ترقی کے دشمن ، اقلیت اور اکثریت کے دشمن ثا بت کئے جارہے تھے۔ پھر انتخابات ہوئے اوران دونوں میں سے ایک غنڈہ ، بدعنوان ، عورتوں کا جونک نماپرجول ، طبقاتی بھیدبھاؤ رکھنے والا، ترقی کادشمن ، اقلیت اور اکثریت کا دشمن آئندہ پانچ سال کے لئے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوگیا۔
