2024 کے حج میں خادم الحجاج کی کیوں کر ہوئی کمی واقع ؟جنوبی ہند نیوزچینل کا وزیر حج پر الزام

بیدر (محمدیوسف رحیم بیدری): ایک اردو نیوزچینل نے کرناٹکا حج کمیٹی اور وزیر حج جناب رحیم خان پر الزام لگایاہے کہ اِمسال حاجیوں کی خدمت کیلئے جانے والے خدام میں وزیر حج اور متعلقہ افسران وعملہ کی چوک کے سبب بھاری کمی واقع ہوگئی ہے۔ جس کاالزام مرکزی وزارت حج پر نہیں لگایا جاسکتا۔ جس کے قصوروار کرناٹک کی ریاستی حج کمیٹی اور وزیر حج ہی ہیں۔ جنوبی ہند نیوز نامی یوٹیوب چینل نے تفصیلات دیتے ہوئے بتایاہے کہ حاجیوں کی خدمت کے لئے ہرسال کچھ خدام عازمین حج کے ساتھ روانہ کئے جاتے ہیں ۔ سال2024کے لئے 56خدام کو منتخب کرناتھالیکن ریاستی حج کمیٹی اور وزیر حج نے صرف34خدام کو منتخب کیاجن میں سے 2خدام کوبوجوہ مسترد کردیاگیا۔ اس طرح اب عازمین حج کے ساتھ صرف32خادم ہی حج کے دوران خدمت کرنے جائیں گے۔ 24خادم الحجا ج کی امسال کمی واقع ہوگئی ہے۔ جس کے ذمہ دار سراسر وزیر حج رحیم خان اور متعلقہ افسران ہی ہیں۔ اس معاملے کی مزید جانکاری دیتے ہوئے جنوبی ہند نیوز نامی چینل نے اپنی تازہ ویڈیو میں کہاہے کہ مرکزی حج کمیٹی کی جانب سے جو سرکلر جاری کیاگیااس کے مطابق 300عازمین حج پر ایک خادم کو منتخب کیاجاناتھا ، اس طرح ریاستی حج کمیٹی نے ریاست کرناٹک سے34خادمین کومنتخب کیا تھا۔ لیکن 30؍مارچ 2024کو ایک اور سرکلر مرکزی وزارت حج نے جاری کرتے ہوئے کہاکہ 200عازمین حج پر ایک خادم لیاجائے۔ اس پر مزید 22خادمین کی فہرست کرناٹک کی ریاستی حج کمیٹی اور وزیر حج کو مرکزی وزارت حج کوبھیجنا تھا لیکن اس دوسرے سرکلر پر عمل آوری نہیں کی گئی۔ اب جملہ 56کی جگہ صرف 32خادم الحجاج، عازمین حج کی خدمت کیلئے سفرحج کے لئے روانہ ہوں گے۔ دیکھنا یہ ہے کہ پارلیمانی انتخابات میں مست اور زوردار تقریروں کے ذریعہ صرف اپنی جئے جئے کار اور دوسروں (خصوصاًمرحوم مسلم وزیر میرمقصودعلی خان) کی کھلی اڑانے والے وزیرحج جناب رحیم خان اس معاملے سے متعلق کیاکچھ جواب دیتے ہیں؟

واضح رہے کہ اس سے قبل کی معیاد میں آواس یوجنا کے تحت غریبوں کوملنے والے 1200 مکانات بھی رحیم خان رکن اسمبلی کی لاپروا ئی کے سبب واپس ہوئے تھے ۔ یہ بھی پوچھناہے کہ 1200 مکانات کب تک واپس ملیں گے۔ یاپھر ان مکانات کی واپسی ناممکن ہے ؟جناب رحیم خان جواب دیں ۔ ان کے حلقہ کی غریب عوام خصوصاً ابوالفیض کالونی بیدرکی مکانات کی خواہشمند عوام پوچھ رہی ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے