ذکی طارق بارہ بنکوی
سعادتگنج، بارہ بنکی، یوپی، انڈیا
مجھے ترا نوازا حالِ زار بھی قبول ہے
اکٹھا بھی قبول قسط وار بھی قبول ہے
جو تم سے عشق ہے مجھے وہ اب جنون بن گیا
کہ میرے جسم کو دلِ فگار بھی قبول ہے
سبھی عطائیں رب کی میں کلیجے سے لگاتا ہوں
خزاں بھی دل پسند ہے بہار بھی قبول ہے
مجھے یہ ظرف عشق کی ثقافتوں سے ہے ملا
گلاب ساتھ ساتھ ہو تو خار بھی قبول ہے
اکیلے پن کا جان سوز کرب ننگِ ضبط تھا
تبھی تو مجھ کو بد مزاج یار بھی قبول ہے
یقین خمر کے حرام ہونے کا تو ہے مگر
تمہارے جامِ چشم کا خمار بھی قبول ہے
خوشی سے دل پہ مات کا نہیں ہے لیتا کوئی غم
سبب ہے کچھ مجھے جو اپنی ہار بھی قبول ہے
عجب ہے بندشوں سے میں گریز کرتا ہوں بہت
مجھے ہی اس کی باہوں کا حصار بھی قبول ہے
