ڈاکٹر شارب مورانوی بارہ بنکی، انڈیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عقرب ہند اور مولانا طلاقِی کے درمیان بحث نے اپنی نوعیت ہی بدل کر رکھدی مولانا اپنی گفتگو پر اڑے ہوئے ہیں اور عقرب ہند اپنے وجود کی لڑائی میں سرگرم ہے دونوں ایک دوسرے کو دیکھنا پسند نہیں کرتے مگر حضرتِ عقرب کی مجبوری یہ ہے کہ کوئی دوسرا سستے داموں پر جماعت پڑھانے کو تیار نہیں ہے اِس وجہ سے عقرب کو بھی اِنہیں کے پیچھے نماز ادا کرنا پڑتی ہے بےچارہ مجبور ہے کر بھی کیا سکتا ہے ایک دِن بعد نماز کسی بات پر مولانا حضرتِ طلاقِی نے حضرتِ عقرب ہند کو ٹوک دِیا پھر کیا تھا آستینیں چڑھ گئیں دونوں آمنے سامنے آگئے الفاظ کی جنگ تحریر میں تبدیل ہو گئی اِس درمیان حضرتِ عقرب نے مولانا طلاقِی کو کافی کھری کھوٹی سنا ڈالی مولانا طلاقِی نے بھی دائرہء احتیاط میں رہ کر جو جواب دیا وہ لائقِ تحسین ہے لیکن حضرتِ عقرب نے چلتے چلتے کہا جاؤ مولانا تمہارے جیسے 20 ملینگے یہاں نماز پڑھانے کے لئے مولانا طلاقِی نے مسکراتے ہوئے گھوم کر جواب دیا ابھی بھی میرے جیسا ہی چاہئے مولانا طلاقِی کا جواب سن کر سبھی مؤمنین ہنستے ہوئے اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔ مولانا طلاقِی اور عقرب ہند میں ابھی بھی بولچال بند ہے ایک دُوسرے سے رابطہ بالکل ہی منقطع ہوگیا ہے یہاں تک کہ سلام و دعا بھی بند ہے ایک دُوسرے کو دیکھ کر دونوں کے لب و دندان کٹکٹانے لگتے ہیں نہیں معلوم یہ خوفِ خدا ہے یا بلڈ پریشر۔
