انوار الحق قاسمی/کاٹھمانڈو نیپال (1/جولائی 2024ء): جمعیت علماء نیپال کے بانی اور تحفظ ختم نبوت نیپال کے صدر حضرت مولانا عبد العزیز صدیقی کے انتقال سے نیپال ہی کے مسلمان نہیں،بل کہ پوری دنیا کے مسلمان ان دنوں صدمے میں ہیں۔
یقینا حضرت کی شخصیت کمالات سے معمور تھی اور کسی شاعر نے شاید حضرت ہی کی رحلت کے پیش نظر یہ شعر:’آہ دنیا سے کمالات کا کہسار گیا*چھوڑ کر اب ہمیں اک اور بھی غمخوار گیا’ کہہ گیا ہے۔
حضرت مولانا عبد العزیز صدیقی کی رحلت پر پاکستان کی عظیم علمی اور سیاسی شخصیت حضرت مولانا محمد فضل الرحمان صاحب- حفظہ اللہ-( صدر جمعیت علماء اسلام پاکستان)نے اپنا تعزیتی پیغام جاری کیاہے۔
حضرت مولانا محمد فضل الرحمان نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ : حضرت مولانا عبدالعزیز صدیقی صاحب بانی جمعیت علماء نیپال بھی ان بزرگوں میں سے تھے،جن کی حیات کے ایک ایک لمحہ میں اکابر دارالعلوم/دیوبند کی جرأت و بہادری،حق گوئی و بےباکی،ہمت و بہادری، استغناء و توکل،انتظامی صلاحیتوں کے اوصاف و کمالات بطور اتم موجود تھیں، جن کے دیکھنے اور سننے سے ایمان میں حرارت و تازگی کا احساس ہوتا ہے۔
مولانا نے مزید یہ کہا کہ: تقریباً ایک صدی پر محیط، حضرت مولانا عبدالعزیز صدیقی کی زندگی افراد سازی اور دینی وملی کاموں کے لیے وقف تھی،درس و تدریس، وعظ و ارشاد کے ساتھ عوام میں مقبولیت،کئی دہائیوں تک مدرسہ محمودیہ راجپور کی ذمے داری اور ملی تقاضوں و مسائل کے لیے ہمہ تن مستعدی ہمارے لیے قابل تقلید و نمونہ ہے۔
دربار خداوندی میں التجاء ہے کہ ان کی تمام دینی خدمات شرف قبولیت سے نوازے،ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پس ماندگان کو صبر جمیل کی توفیق عنایت فرمائے آمین۔
