- حکومت اور حکومتی نمائندوں کی نظر اب تک بہت سے مواضعات پر نہیں پڑی ہے۔
- سرکار کو چاہیۓ کہ پورے علاقہ کو مورنڈ قرار دے کر کسانوں کی کھیتیوں کا معقول معاوضہ دے۔

راماپور سے عبدالرشید سلفی کی رپورٹ
شہرت گڑھ (سدھارتھ نگر): سیلابی صورتحال سے جہاں اترپردیش کے اکثر شہر خاص کر دیہی علاقہ متاثر ہوا ہے وہیں سدھارتھ نگر کے بیشتر مواضعات باڑھ کے پانی سے ڈوبے ہوۓ ہیں شہرت گڑھ تحصیل کا راماپور ایک ایسا گاؤں ہے جہاں سے نکل کر باہر دوسرے گاوں یا بازار اور دیگر ضروریات کے لۓ اسپتال وغیرہ جانے کا واحد راستہ ہے جہاں سے لوگ نکل کر اپنا کام کاج پورا کرتے ہیں، اب اس سڑک پر تقریبا دو میٹر یا اس سے کچھ زیادہ پانی چڑھ چکا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو اپنے گھروں میں قید ہونے پر مجبور ہونا پڑا جبکہ گاوں کے تیس فیصد گھر ایسے ہیں جن میں سیلاب کا پانی گھس چکا ہے۔ لوگ اپنے اپنے سامان اور کھانے پینے کی اشیاء گھروں سے نکال کر دوسروں کے گھروں پر جہاں پانی پہونچنے کی کم امید ہے اور ان کے گھر اونچائی پر ہیں۔ رکھ کر اپنا وقت گذارنے کے درپے ہیں، ساگ سبزی، دوا پانی لانے کی کوئی سبیل نہیں ہے، یہاں تک کہ جن کے گھر بیت الخلاء کی سہولت نہیں ہے وہ لوگ پانی میں تیر کر ندی کے بندھ پر جاتے ہوۓ نظر آرہے ہیں۔
ایسے حالات میں لوگ اپنے جان ومال اور اپنی فصلوں کو لے کر کافی پریشان ہیں، جن لوگوں کے یہاں دھان کی روپائی ہوگئ تھی اور جن کے یہاں ابھی تک نہیں ہوئی تھی دونوں کی صورت ایک جیسی ہوگئی ہے چونکہ پانچ دن سے مسلسل پانی رکا رہنے کی وجہ سے دھان کا بیج کھیت ہی میں ختم ہوچکا ہے اب کسان اپنے سال بھر کی آس امید کو لے کر جو بیٹھے تھے اس پر پانی پھر گیا ہے۔
حکومت اور حکومتی نمائندوں کی نظر اب تک راماپور، امہوا، ندولیا، کومری، دبہارے، بالا نگر کچرہوا اور اس سے متصل مواضعات پر نہیں پڑی ہے۔ سرکار کو چاہیۓ کہ پورا علاقہ مورنڈ قرار دے کر کسانوں کی کھیتیوں کا معقول معاوضہ دے تاکہ کچھ حد تک انھیں راحت مل سکے۔
